Share this link via
Personality Websites!
وآسمان والوں پر رکھاجائےتوسب کے سب اللہ پاک کے حکم سے مَرجائیں کیونکہ ہر بال میں موت ہوتی ہے اور جس چیز پر بھی موت پڑ جائے وہ بھی مر جاتی ہے۔([1])
5۔ ایک اور مقام پر فرمایا: مُعَالَجَۃُ مَلَکِ الْمَوْتِ اَشَدُّ مِنْ اَلْفِ ضربۃٍ بِالسَّیْفِ ”یعنی موت کا ہر جھٹکا ہزار ضَربِ تلوار سے سَخْت تَرہے“۔(کنزالعمال، کتاب الموت، باب الثانی، ۱۵/۲۴۰،حدیث ۴۲۱۸۳)
عَطاکرعافیّت تُونَزع و قَبْر و حَشْر میں یارَبّ وَسیلہ فاطمہ زَہرا کا کر لُطف و کرم مَولیٰ
(وسائلِ بخشش مرمم، ص ۹۸)
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
موت کی تکالیف اور ہماری نازک مزاجی
پیاری پیاری ا سلامی بہنو! ذرا غور کیجئے! ان احادیثِ طیبہ میں روح نکلتے وقت کی تکلیف اور شدت کو جس طرح بیان کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہےکہ مرنے والی شدید تکلیف اور درد میں مبتلا ہوتی ہے۔ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہم تو بہت نازک مزاج ہیں، ہم یہ سب کیسے برادشت کریں گی ؟ ہمارا حال تو یہ ہے کہ مچھر کا ڈنک بھی ہمیں برداشت نہیں ہوتا، ہمار ا حال تو یہ ہے کہ معمولی سی تکلیف ہو ہم پورا گھر سر پر اٹھا لیتی ہیں، ہمارا حال یہ ہے کہ ہمیں نزلہ و زکام بھی ہوجائے تو ہم سے سہا نہیں جاتا، ہمارا حال یہ ہے کہ پاؤں میں موچ بھی آ جائے تو ہم واویلا مچا دیتی ہیں، ہمارا حال یہ ہے کہ سر میں درد ہو تو ہم سب کے سر میں درد کر دیتی ہیں، ہمارا حال یہ ہے کہ جسم کا ہلکا پھلکا درد بھی ہمیں بستر سے اٹھنے نہیں دیتا،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami