Share this link via
Personality Websites!
اطاعت پر قائم رہنے کی دعا کرتے اور جب آیت عذاب پڑھتے تو اس سے پناہ طلب کرتے اور اللہ پاک سے اپنے لئے اور تمام اہلِ ایمان کے لئے نجات کی دعا کرتے ۔(تاریخ بغداد،الرقم۴۵۴، محمد بن ادریس الشافعی، ج۲، ص۶۱)
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارےاسلامی بھائیو! اللہ پاک کی کثرت سے عبادت کرنا انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کا شیوہ ہے،اللہ پاک کی عبادت کرنا اولیائے کرام رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہمْ اَجْمَعِیْن کا طریقہ ہے، اللہ پاک کی عبادت کرنا دل میں محبتِ الٰہی کے پیدا ہونے کا سبب ہے۔ اللہ پاک کی عبادت کرنا شیطان کے چُنگل سے نکلنے کا طریقہ ہے۔ اللہ پاک کی عبادت کرنا قربِ الٰہی پانے کا باعث ہے۔ اللہ پاک کی عبادت کرنا گناہوں کے مرض سے شفا پانے کا ذریعہ ہے۔ اللہ پاک کی عبادت کرنا ظاہر وباطن کی اصلاح کا باعث ہے۔ اللہ پاک کی عبادت کرنا روح کی تازگی کا باعث ہے، اللہ پاک کی عبادت کرنا دلوں کے اطمینان کا باعث ہے۔ اللہ پاک کی عبادت کرنا شریعت کو مطلوب ہے، اللہ پاک کی عبادت کرنا ہر بندۂ مومن پر حق ہے اور اللہ پاک کی عبادت کرنا انسان کے پیدا کرنے کا مقصد ہے۔ جیسا کہ پارہ 27 سورۃ الذٰرِیٰت آیت نمبر 56میں اللہ پاک انسان کے مقصدِ حیات کو بیان کرتے ہوۓ ارشاد فرماتا ہے:
وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں ۔
اے عاشقانِ رسول!اس آیتِ مبارکہ میں اس بات کا واضح بیان ہے کہ انسانوں اور جِنّوں کو اللہ پاک کی عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور جب ہمارے خالق و مالک اللہ کریم نے ہمیں ہماری
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami