Book Name:Seerat e Usman e Ghani

کی سیرتِ طیّبہ کے چند ایمان افروز واقعات سننے کی سعادت حاصل کریں گے۔سب سے پہلے ہم حضرت سَیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی سخاوت کی جھلکیاں ملاحظہ کریں گے کہ آپ نے غزوۂ تبوک سمیت کئی مواقع پر اپنا کثیر مال راہِ ربِّ ذُوالْجَلال میں پیش کیا،اسلام قبول کرنے کے بعد آپ  کو کس قدر ستایا گیا،اس بارے میں بھی ایک دِلسوزواقعہ پیش کیا جائے گا،آپ کی عبادت و ریاضت کے چند واقعات بھی ہم سُنیں گے،آپ کس قدر زبردست عاشقِ رسول تھے،اس بارے میں بھی عشقِ رسول سے مالامال ایک واقعہ بیان ہوگا،یہ بھی سُنیں گے کہ آپ کو ”جامعُ القرآن“ کا لقب کیوں عطا کیا گیا۔اللہ کرے کہ دِلجمعی کے ساتھ ہم اوّل تاآخر  اچھی اچھی نیّتوں کے ساتھ ساتھ بیان سُننے کی سعادت حاصل کریں۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                          صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

جنّتی حُور سے نکاح

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی بہت ہی پیاری کتاب”نیکیاں ضائع ہونے سے بچائیے“کے صفحہ نمبر20اور21پر ہے:حضرت سَیِّدُنا عبدُ اللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے زمانۂ خلافت میں قحط پڑا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے لوگوں سے فرمایا:تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی یہاں تک کہ اللہ پاک تمہیں اس قحط سے نجات دے گا۔پھر جب اگلا دن ہوا تو ان کے پاس خوشخبری دینے والا آگیا کہ حضرت سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس گندم اور سامانِ خوراک کے ایک ہزار اونٹ(1000) آرہے ہیں۔(پھر جب