Book Name:Khaton e Janat ki Shan o Azmat

الکبیر ،۱۹/۴۱۹،حدیث: ۱۰۱۴)

میٹھی میٹھی اسلامی بہنو!  لہٰذا ہمیں بھی چاہئےکہ پڑوسیوں کےساتھ حُسنِ سُلُوک سے پیش آئیں ، اگر انہیں کوئی مصیبت پہنچےتوانہیں تسلی دیتے ہوئے صبر کی تلقین کریں  ،جب اُنہیں کوئی خوشی حاصل ہوتو اُنہیں مبارک باددیں  ،پڑوسیوں  کی غلطیوں  پر ان  سے درگزرکریں  ، وہ فریادکریں   توان کی مدد کریں       ۔  

نعمتِ   اَخلاق  کر دیجے  عطا                      یہ  کرم  یا مصطَفٰے  فرمایئے

(وسائل بخشش،ص۵۱۷)

   صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                 صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

خاتونِ جنت کی گھریلو زندگی

      میٹھی میٹھی اسلامی بہنو!  سیّدہ خاتونِ جنت،فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی شان و عظمت کاایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی شان میں تسبیحِ فاطمہ مقرر کی گئی،کیونکہ آپ گھریلو کام کاج خود اپنے ہاتھوں سے فرمایا  کرتی تھیں اور اس کام میں آنے والی مشکلات اور تکالیف پر صبربھی  کیا کرتیں،زندگی بھر کسی خادمہ کو نہیں رکھا۔ چنانچہ

امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:حضرتِ سیدتنا فاطمہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  میرے پاس خود ہی چکی چلایا کرتیں جس کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں چھالے پڑ جاتے، مشکیزے میں پانی بھی خود ہی بھرکر لاتیں جس کی وجہ سے ان کے سینے پر نشان پڑگئے۔ گھر کی صفائی وغیرہ بھی خود ہی کرتی تھیں جس کی وجہ سے