Book Name:Miraaj kay Waqiaat

بَیان سُننے کی نیّتیں

نگاہیں نیچی کئے خُوب کان لگا کر بَیان سُنُوں گا۔ٹیک لگا کر بیٹھنے کے بجائے عِلْمِ دِیْن کی تَعْظِیم کی خاطِر جہاں تک ہو سکا دو زانو بیٹھوں گا۔ضَرورَتاً سِمَٹ سَرَک کر دوسرے کے لئے جگہ کُشادہ کروں گا۔ دَھکَّا وغیرہ لگا تو صبر کروں گا، گُھورنے،جِھڑکنے اور اُلجھنے سے بچوں گا۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ،اُذْکُرُوا اللّٰـہَ،تُوْبُوْا اِلَی اللّٰـہِ  وغیرہ سُن  کر ثواب کمانے اور صدا لگانے والوں کی دل جُوئی کے لئے بُلند آواز سے جواب دوں گا۔بَیان کے بعد خُود آگے بڑھ کر سَلَام و مُصَافَحَہ اور اِنْفِرادی کوشش کروں گا۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                        صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ابنِ سکینہ کے ایک مُرید کا واقعہ

شیخ شہابُ الدّین سُہروردی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  ایک حکایت نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شیخ ابنِ سکینہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کا ایک مُریدسُنار(Goldsmith)تھا،ان کا کام یہ تھا کہ وہ صُوفیائے کرام رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنکے مُصَلے جامع مسجد کو لے جاتے اور انہیں بچھاتے تھے،جب نمازِ جمعہ ہو جاتی  تو ان مُصَلَّوں کو وہ خانقاہ لے آتے ۔ایک جمعہ کو ایسا ہوا کہ انہوں نے مُصَلَّوں کو جامع مسجد لے جانے کیلئے  اِکٹھا کر کے باندھ دیااور(بغداد شریف میں واقع)دریائے دِجلہ میں غُسلِ جمعہ کے لئے چلے  گئے ،کپڑے اُتار کر کنارے پر رکھ دئیے اور پانی میں غوطہ لگایا،جب سَر نکالا تو انہوں نے اپنے آپ کو دِجلہ میں نہیں بلکہ  دوسری جگہ پایا،لوگوں سے اُس جگہ کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا   کہ یہ مصر ہے!،ان کو اس(واقعے) سے بڑا تعجب ہوا اور وہ پانی سے نکل کر شہر میں آئے،ایک سُنارکی دکان کے پاس کھڑے ہو گئے،ان کے جسم پر  صرف ایک کپڑا تھا، جو سِتر چُھپانے کو کافی تھا ، دکان  دارکو محسوس ہوا  کہ یہ آدمی سُنار ہےلہٰذا اُس نے