Book Name:Miraaj kay Waqiaat

غوطہ لگاتے ہیں تو اللہ پاک کی قدرت سے مصر سے برآمد ہوتے ہیں تو پھر حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی عظمت و بلندیِ شان کا کیا عالم ہوگا۔خلیفۂ اعلیٰ حضرت مَلِکُ العُلَماء حضرت علامہ مولانا ظفرُ الدّین بہاری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا سُلیمان  عَلَیْہِ السَّلَام  کے وزیر حضرت آصَف بن برخیا رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ(جوکہ وَلِیُّ اللہتھے)کا واقعہ قرآنِ کریم میں موجود ہے کہ آپ نے حضرت سَیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام  سے عرض کی:میں ملکۂ بلقیس کا تخت آپ کے پاس آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے حاضر کردُوں گا اور پھر ایسا ہی کیا حالانکہ بلقیس کا تخت اسّی(80)گز لمبا،اسّی (80)گز اونچا،سونے چاندی کا تھا، جس میں انتہائی وزنی اور قیمتی ہیرے جواہرات جَڑے ہوئے تھے،جب اتنا بڑا اور بھاری تخت پلک جھپکنے سے پہلے مُلکِ یمن سے مُلکِ شام میں ایک ولی کی کرامت سے پہنچ جائے تو خود رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا اپنے جسمِ نورانی کے ساتھ(رات کے مختصر سے حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصی تک اور وہاں سے آسمانوں پر )تشریف لے جانا یقینا ً ممکن ہے۔(تحفۂ معراج النبی ،بیان تنویر السراج…الخ،ص۱۳۱ملخصاً)

ممکن ہی نہیں عقلِ دَو عَالم کی رسائی                                    ایسا دیا اللہ نے رُتبہ شبِ معراج

تفصیل سے کی سَیْر مگر اِس پہ یہ طُرّہ                           اِک پل میں یہ طے ہو گیا رستہ شبِ معراج

(قبالۂ بخشش،ص۶۸)

مختصر وضاحت:یعنیاللہ پاک نے شبِ اَسریٰ کے دُولہا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو شبِ معراج وہ بلند مرتبہ عطا فرمایا کہ دونوں عالَم میں موجودمخلوق کی عقلوں کی وہاں تک رسائی ممکن ہی نہیں۔ شبِ معراج پیارے آقا،دو عالم کے داتا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کئی مقامات کو تفصیل کے ساتھ ملاحظہ فرمایا مگر اس کے باوجود  اتنا طویل سفر محض چند لمحوں میں طے ہوگیا۔

اللہ کی عنایت                                 مرحبا                 معراج کی عظمت                مرحبا                اَقْصیٰ کی شوکت                 مرحبا