باب:کرامات کا بیان

فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8

روایت ہے حضرت انس سے کہ اسید ابن حضیر اور عباد ابن بشر ۱؎نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے کاموں کے متعلق بات چیت کرتے رہے حتی کہ رات کا ایک حصہ گزر گیا یہ واقعہ سخت اندھیری رات میں ہوا ۲؎پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے واپسی کے لیے نکلے ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں چھوٹی لاٹھی تھی تو ان میں سے ایک کی لاٹھی چمک گئی۳؎حتی کہ وہ دونوں اس کی روشنی میں چلتے حتی کہ جب ان کو راستہ نے علیحدہ کیا تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی تو ان میں سے ہر ایک اپنی لاٹھی کی روشنی میں چلا حتی کہ اپنے گھر پہنچ گیا ۵؎(بخاری) ۶؎

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَعَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ تَحَدَّثَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُمَا حَتّٰى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ سَاعَةٌ فِي لَيْلَةٍ شَدِيدَةِ الظُّلْمَةِ ثُمَّ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ينقلبان وَبِيَدِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عُصَيَّةٌ فَأَضَاءَتْ عَصَا أَحَدِهِمَا لَهُمَا حَتّٰى مَشَيَا فِي ضَوْئِهَا حَتّٰى إِذَا افْتَرَقَتْ بِهِمَا الطَّرِيقُ أَضَاءَتْ لِلْآخَرِ عَصَاهُ فَمَشٰى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي ضَوْءِ عَصَاهُ حَتّٰى بَلَغَ أَهْلَهٗ رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5944 ، باب:کرامات کا بیان

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ جب غزوہ احد ہوا تو رات میں مجھے میرے باپ نے بلایا کہا کہ میں اپنے متعلق خیال کرتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں پہلا شہید میں ہوں گا ۱؎اور میں اپنے نزدیک تم سے زیادہ پیارا کسی کو نہیں چھوڑتا سواء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ۲؎اور مجھ پر قرض ہے تم ادا کردینا ۳؎اور اپنی بہنوں کے لیے بھلائی کی وصیت قبول کرو ۴؎ہم نے سویرا پایا تو پہلے شہید وہ ہی تھے اور میں نے انہیں دوسرے کے ساتھ ایک قبر میں دفن کیا ۵؎

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمَّا حَضَرَ أُحُدٌ دَعَانِي أَبِي مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ مَا أُرَانِي إِلَّا مَقْتُولًا فِي أَوَّلِ مَنْ يُقْتَلُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَا أَتْرُكُ بَعْدِي أَعَزَّ عَلَيَّ مِنْكَ غَيْرَ نَفْسِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ عَلَيَّ دَيْنًا فَاقْضِ وَاسْتَوْصِ بِأَخَوَاتِكَ خَيْرًا فَأَصْبَحْنَا فَكَانَ أَوَّلَ قَتِيلٍ وَدَفَنْتُهٗ مَعَ آخَرَ فِي قَبْرٍ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5945 ، باب:کرامات کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن ابوبکر سے ۱؎کہ صفہ والے مسکین لوگ تھے ۲؎اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ تیسرے کو لے جائے اور جس کے پاس چار کا کھانا ہو وہ پانچویں کو یا چھٹے کو لے جاوے۳؎اور حضرت ابوبکر تین شخص لائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس حضرات لائے ۴؎ابوبکر صدیق نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رات کا کھانا کھایا پھر کچھ ٹھہرے حتی کہ عشاء کی نماز پڑھ لی گئی آپ پھر لوٹ گئے پھر کچھ ٹھہرے حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کا کھانا کھالیا ۵؎پھر آپ آئے اس کے بعد رات کا مشیت الٰہی کے بقدر حصہ گزر گیا ان سے ان کی بیوی نے کہا کہ تمہیں تمہارے مہمانوں سے کس چیز نے روکا ۶؎آپ نے کہا کیا تم نے انہیں کھانا نہیں کھلایا وہ بولیں کہ انہوں نے تمہارے آنے تک کھانے سے انکار کیا ۷؎آپ ناراض ہوئے اور بولے خدا کی قسم میں یہ کبھی نہ کھاؤں گا۸؎آپ کی بیوی نے قسم کھالی کہ وہ بھی نہ کھائیں گی اور مہمانوں نے قسم کھالی کہ وہ بھی نہ کھائیں گے ۹؎جناب صدیق نے کہا کہ یہ قسم شیطان کی طرف سے ہوگئی آپ نے کھانا منگایا پھر کھایا پھر ان سب نے کھایا ۱۰؎تووہ لوگ کوئی لقمہ نہ اٹھاتے تھے مگر اس کے نیچے سے اس سے زیادہ بڑھتا تھا ۱۱؎آپ نے اپنی بیوی سے فرمایا کہ اے بنی فراس کی بہن ۱۲؎یہ کیا وہ بولیں میری آنکھ کی ٹھنڈک کی قسم ۱۳؎یہ کھانا پہلے سے تین گنا زیادہ ہے ۱۴؎ان سب نے یہ کھانا کھایا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا گیا کہا گیا ہے کہ حضور نے بھی اس میں سے کھایا ۱۵؎(مسلم،بخاری)اور حضرت عبداللہ ابن مسعود کی حدیث کہ ہم کھانے کی تسبیح سنتے تھےباب المجزاتمیں ذکر کردی گئی ۱۶؎

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ كَانُوا أُنَاسًا فَقُرَاءَ وَإِنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ عِنْدَهٗ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ، وَإِن كَانَ عِنْدَهٗ طَعَامُ أَرْبَعَةٍ فَلْيَذْهَبْ بِخَامِسٍ أَوْ سَادِسٍ» وإنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ بِثَلَاثَةٍ وَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ تعَشّٰى عِنْد النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَبِثَ حَتّٰى صُلِّيَتِ الْعِشَاءُ ثُمَّ رَجَعَ فَلَبِثَ حَتّٰى تَعَشَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ بَعْدَ مَا مَضٰى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللهُ. قَالَت لَهٗ امْرَأَتُهٗ: مَا حَبَسَكَ عَنْ أَضْيَافِكَ؟ قَالَ: أَوَمَا عَشَّيْتِيهِمْ؟ قَالَتْ: أَبَوْا حَتّٰى تَجِيءَ فَغَضِبَ وَقَالَ: وَاللّٰهِ لَا أَطْعَمُهٗ أَبَدًا فَحَلَفَتِ الْمَرْأَةُ أَنْ لَا تَطْعَمَهٗ وَحَلَفَ الْأَضْيَافُ أَنْ لَا يَطْعَمُوهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَانَ هٰذَامِنَ الشَّيْطَانِ فَدَعَا بِالطَّعَامِ فَأَكَلَ وَأَكَلُوا فَجَعَلُوا لَا يَرْفَعُونَ لُقْمَةً إِلَّا رَبَتْ مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرَ مِنْهَا. فَقَالَ لِامْرَأَتِهٖ: يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ مَا هٰذَا ؟ قَالَتْ: وَقُرَّةِ عَيْنِي إِنَّهَا الْآنَ لَأَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ ذٰلِكَ بِثَلَاثِ مِرَارٍ فَأَكَلُوا وَبَعَثَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذُكِرَ أَنَّهٗ أَكَلَ مِنْهَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَذُكِرَ حَدِيثُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ: كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ فِي « الْمُعْجِزَاتِ »

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5946 ، باب:کرامات کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ جب نجاشی نے وفات پائی تو ہم چرچہ کرتے تھے کہ ان کی قبر پر نور دیکھا جاتا رہتا ہے ۱؎(ابوداؤد)

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهٗ لَا يَزَالُ يُرٰى عَلٰى قَبْرِهٖ نُورٌ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5947 ، باب:کرامات کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں کہ جب صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا ۱؎تو بولے ہم کو خبر نہیں کہ کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے اتاریں جیسے کہ ہم اپنے مُردوں کو برہنہ کرتے ہیں یا ہم اسی طرح آپ کو غسل دیں کہ آپ پر کپڑے ہوں۲؎جب ان میں اختلاف ہوا تو اللہ نے ان پر نیند طاری کردی حتی کہ ان میں کوئی شخص نہ تھا مگر اس کی ٹھوڑی اس کے سینہ میں تھی۳؎پھر گھر کے گوشہ سے کسی بولنے والے نے گفتگو کی وہ نہیں جانتے تھے کہ کون ہے ۴؎کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح غسل دو کہ آپ پر کپڑے ہوں چنانچہ لوگ اٹھے آپ کو غسل دیا ۵؎کہ آپ پر آپ کی قمیض تھی قمیض کے اوپر پانی ڈالتے تھے قمیض ہی سے ملتے تھے ۶؎(بیہقی دلائل النبوۃ)

وَعَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا أَرَادُوا غُسْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: لَا نَدْرِي أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ منْ ثِيَابِهٖ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا أَمْ نَغْسِلُهٗ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهٗ؟ فَلَمَّا اخْتَلَفُوا أَلْقَى اللّٰهُ عَلَيْهِمُ النَّوْمَ حَتّٰى مَا مِنْهُمْ رَجُل إِلَّا وَذَقَنُهٗ فِي صَدْرِهٖ، ثُمَّ كلَّمَهُمْ مُكَلِّمٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ لَا يَدْرُونَ مَنْ هُوَ؟ اغْسِلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهٗ، فَقَامُوا فَغَسَلُوهُ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهٗ، يَصُبُّونَ الْمَاءَ فَوْقَ الْقَمِيصِ وَيَدْلُكُونَهٗ بِالْقَمِيصِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5948 ، باب:کرامات کا بیان

روایت ہے ابن منکدر سے ۱؎کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت سفینہ ۲؎روم کی زمین میں لشکر سے بہک گئے یا قید کرلیے گئے ۳؎وہ بھاگتے ہوئے چلے لشکر کی تلاش کرتے تھے کہ اچانک شیر سامنے تھا تو بولے اے ابو الحارث کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوں ۴؎میرا واقعہ ایسا ایسا ہوا ہے تو شیر دم ہلاتا ہوا آیا حتی کہ ان کی برابر کھڑا ہوگیا ۵؎جب کوئی آواز سنتا تو ادھر چلا جاتا پھر آپ کی برابرچلنے لگتا حتی کہ یہ لشکر تک پہنچ گیا پھر شیر لوٹ گیا ۶؎(شرح سنہ)

وَعَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ أَنَّ سَفِينَةَ مَوْلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطَأَ الْجَيْشَ بِأَرْضِ الرُّومِ أَوْ أُسِرَ فَانْطَلَقَ هَارِبًا يَلْتَمِسُ الْجَيْشَ فَإِذَا هُوَ بِالْأَسَدِ. فَقَالَ: يَا أَبَا الْحَارِثِ أَنَا مَوْلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ أَمْرِي كَيْتَ وَكَيْتَ فَأَقْبَلَ الْأَسَدُ لَهٗ بَصْبَصَةٌ حَتّٰى قَامَ إِلٰى جَنْبِهٖ كُلَّمَا سَمِعَ صَوْتًا أَهْوٰى اِلَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ يَمْشِي إِلٰى جَنْبِهٖ حَتّٰى بَلَغَ الْجَيْشَ ثُمَّ رَجَعَ الْأَسَدُ. رَوَاهُ فِي«شَرْحِ السُّنَّةِ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5949 ، باب:کرامات کا بیان

روایت ہے ابو الجوزاء سے ۱؎فرماتے ہیں کہ مدینہ کے لوگ سخت قحط میں مبتلا ہوگئے تو انہوں نے جناب عائشہ سے شکایت کی۲؎انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی طرف غور کرو اس سے ایک طاق آسمان کی طرف بنادو ۳؎حتی کہ قبر انور اور آسمان کے درمیان چھت نہ رہے لوگوں نے ایسا کیا تو خوب برسائے گئے حتی کہ چارہ اُگ گیا اور اونٹ موٹے ہوگئے ۴؎حتی کہ چربی سے گویا پھٹ پڑے تو اس سال کا نام پھٹن کا سال رکھا گیا ۵؎(دارمی)

وَعَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ قَالَ: قُحِطَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ قَحْطًا شَدِيدًا فَشَكَوْا إِلٰى عَائِشَةَ فَقَالَتْ: انْظُرُوا قَبْرَ النَّبِي صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْعَلُوا مِنْهُ كُوًى إِلَى السَّمَاءِ حَتّٰى لَا يَكُونَ بَيْنَهٗ وَبَيْنَ السَّمَاءِ سَقْفٌ فَفَعَلُوا فَمُطِرُوا مَطَرًا حَتّٰى نَبَتَ الْعُشْبُ وَسَمِنَتِ الْإِبِلُ حَتّٰى تَفَتَّقَتْ مِنَ الشَّحْمِ فَسُمِّيَ عَامَ الْفَتْقِ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5950 ، باب:کرامات کا بیان

روایت ہے سعید ابن عبدالعزیز سے ۱؎فرماتے ہیں کہ جب جنگ حرہ کا زمانہ ہوا ۲؎تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں تین دن نہ اذان کہی گئی نہ تکبیر کہی گئی اور سعید ابن مسیب مسجد سے نہ ہٹے ۳؎وہ نماز کا وقت نہیں پہچانتے تھے مگر ایک گنگناہٹ سے جسے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر سے سنتے تھے ۴؎(دارمی)

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: لَمَّا كَانَ أَيَّامُ الْحَرَّةِ لَمْ يُؤَذَّنْ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا وَلَمْ يُقَمْ وَلَمْ يَبْرَحْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ الْمَسْجِدَ وَكَانَ لَا يَعْرِفُ وَقْتَ الصَّلَاةِ إِلَّا بِهَمْهَمَةٍ يَسْمَعُهَا مِنْ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5951 ، باب:کرامات کا بیان

روایت ہے ابوخلدہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے ابو العالیہ سے کہا ۱؎کہ کیا حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے فرمایا انہوں نے دس سال حضور کی خدمت کی ہے اور حضور نے ان کے لیے دعا فرمائی ہے ۲؎ان کا ایک باغ تھا جو ہر سال میں دوبار میوہ دیتا تھا اور اس باغ میں ایک گھاس تھی جس سے مشک کی خوشبو آتی تھی ۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔

وَعَنْ أَبِي خَلْدَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي الْعَالِيَةِ: سَمِعَ أَنَسٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: خَدَمَهٗ عَشْرَ سِنِينَ وَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَهٗ بُسْتَانٌ يَحْمِلُ فِي كُلِّ سَنَةٍ الْفَاكِهَةَ مَرَّتَيْنِ وَكَانَ فِيهَا رَيْحَانٌ يَجِيءُ مِنْهُ رِيحُ الْمِسْكِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5952 ، باب:کرامات کا بیان

روایت ہے حضرت عروہ ابن زبیر سے ۱؎کہ سعید ابن زید ابن عمرو ابن نفیل سے ۲؎ارویٰ بنت اوس نے ۳؎مروان ابن حکم کی کچہری میں جھگڑا(مقدمہ)کیا۴؎اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس کی زمین کا ایک حصہ لے لیا ۵؎تو سعید نے کہا کہ کیا میں اس کی زمین کا کچھ حصہ لے سکتا ہوں اس کے بعد کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکا ہوں ۶؎مروان نے کہا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو کسی کی ایک بالشت زمین ظلمًا لے لے تو سات زمین تک کی زمین گلے میں طوق ڈالا جائے گا ۷؎ان سے مروان نے کہا کہ اس کے بعد میں تم سے کوئی دلیل نہیں مانگتا ۸؎تو سعید نے کہا الٰہی اگر یہ جھوٹی ہو تو اس کی آنکھیں اندھی کردے اور اسے اس کی زمین میں مار دے ۹؎راوی نے فرمایا کہ وہ نہ مری حتی کہ اس کی آنکھیں جاتی رہیں اور جب کہ وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی کہ وہ ایک گڑھے میں گر گئی مرگئی ۱۰؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں محمد ابن زید ابن عبداللہ ابن عمرو سے ۱۱؎اس کے معنی مروی ہیں کہ انہوں نے اسے اندھا دیکھا جو دیواریں ٹٹولتی تھی کہ مجھے سعید کی دعا لگ گئی ۱۲؎اور وہ اس کنویں پر گزری جو اس کے گھر میں تھا جس کے بارے میں اس نے سعید سے جھگڑا کیا تھا تو وہ اس میں گر گئی وہ ہی اس کی قبر بن گئی۱۳؎

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ خَاصَمَتْهُ أَرْوَى بِنْتُ أَوْسٍإِلٰى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَادَّعَتْ أَنَّهٗ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ أَرْضِهَا فَقَالَ سَعِيدٌ أَنَا كُنْتُ آخُذُ مِنْ أَرْضِهَا شَيْئًا بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَّسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَمَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَّسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا طُوِّقَهُ الٰى سَبْعِ أَرَضِينَ فَقَالَ لَهٗ مَرْوَانُ لَا أَسْأَلُكَ بَيِّنَةً بَعْدَ هٰذَافَقَالَ سَعِیدٌ اَللّٰهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَأَعِمْ بَصَرَهَا وَاقْتُلْهَا فِي أَرْضِهَا قَالَ فَمَا مَاتَتْ حَتّٰى ذَهَبَ بَصَرُهَا، وَبَيْنَمَاهِيَ تَمْشِي فِي أَرْضِهَا إِذْ وَقَعَتْ فِي حُفْرَةٍ فَمَاتَتْ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ بِمَعْنَاهُ وَأَنَّهٗ رَآهَا عَمْيَاءَ تَلْتَمِسُ الْجُدُرَ تَقُولُ: أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعِيدٍ وَأَنَّهَا مَرَّتْ عَلَى بِئْرٍ فِي الدَّارِ الَّتِي خَاصَمَتْهُ فِيهَا فَوَقَعَتْ فِيهَا، فَكَانَتْ قَبْرَهَا.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5953 ، باب:کرامات کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ جناب عمر نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر ایک شخص کو امیر بنایا جنہیں ساریہ کہا جاتا تھا ۱؎تو جب کہ جناب عمر خطبہ پڑھ رہے تھے ۲؎کہ اچانک چیخنے لگے اے ساریہ پہاڑ کو لو۳؎پھرلشکر سے ایک قاصد آیا بولا اے امیر المؤمنین ہم کو ہمارا دشمن ملا انہوں نے ہم کو بھگادیا تو کوئی چیخنے والا بولا اے ساریہ پہاڑ کو لو ہم نے اپنی پیٹھیں پہاڑ کی طرف لگالیں تب انہیں اللہ تعالٰی نے بھگادیا(بیہقی دلائل النبوۃ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا يُدْعٰى سَارِيَةَ فَبَيْنَمَا عُمَرُ يَخْطُبُ فَجَعَلَ يَصِيحُ: يَا سَارِيَ! الْجَبَلَ، فَقَدِمَ رَسُولٌ مِنَ الْجَيْشِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَقِيَنَا عَدُوُّنَا فَهَزَمُونَا فَإِذَا بِصَائِحٍ يَصِيحُ: يَا سَارِيَ الْجَبَلَ. فَأَسْنَدْنَا ظُهُورَنَا إِلَى الجَبَلِ فَهَزَمَهُمُ اللّٰهُ تَعَالٰى رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي دَلَائِل النُّبُوَّةِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5954 ، باب:کرامات کا بیان

روایت ہے حضرت جناب نبیہہ ابن وہب سے ۱؎کہ کعب حضرت عائشہ کی خدمت میں آئے ۲؎سب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا تو جناب کعب بولے نہیں ہے کوئی دن مگر ستر ہزار فرشتے اترتے ہیں حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کو گھیر لیتے ہیں۳؎اپنے پر بچھادیتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پردرود شریف پڑھتے رہتے ہیں ۴؎حتی کہ جب شام پاتے ہیں تو وہ چڑھ جاتے ہیں اور ان کی مثل اترتے ہیں وہ بھی اسی طرح کرتے ہیں ۵؎حتی کہ جب حضور سے زمین کھلے گی تو حضور ستر ہزار فرشتوں میں نکلے گے جو حضور کو پہنچائیں گے۶؎(دارمی)

وَعَنْ نُبَيْهَةَ بْنِ وَهْبٍ أَنَّ كَعْبًا دَخَلَ عَلٰى عَائِشَةَ فَذَكَرُوا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَعْبٌ: مَا مِنْ يَوْمٍ يَطْلُعُ إِلَّا نَزَلَ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ حَتّٰى يَحُفُّوا بِقَبْرِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْرِبُونَ بِأَجْنِحَتِهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى إِذَا أَمْسَوْا عَرَجُوا وَهَبَطَ مِثْلُهُمْ فَصَنَعُوا مِثْلَ ذٰلِكَ حَتّٰى إِذَا انْشَقَّتْ عَنْهُ الْأَرْضُ خَرَجَ فِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ يَزُفُّونَهُ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5955 ، باب:کرامات کا بیان