باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل

فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8

روایت حضرت ابوہریرہ سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی ہیں فرمایا کہ ایک شخص گائے لیے جارہا تھا کہ تھک گیا تو اس پر سوار ہوگیا وہ بولی کہ ہم اس کام کے لیے نہیں پیدا کیے گئے ہم زمین کی کھیتی کے لیے پیدا کیے گئے۱؎تو لوگ بولےسبحان اللهگائے بول رہی ہے تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس پر میں اور ابوبکرو عمر ایمان لائے حالانکہ وہ دونوں وہاں نہ تھے۲؎اور فرمایا کہ جب کہ ایک شخص اپنی بکریوں میں تھا کہ ان میں سے ایک بکری پر بھیڑیئے نے حملہ کیا اسے لے گیا اسے بکری والے نے پکڑ لیا اس سے چھڑا لیا تو اس سے بھیڑیئے نے کہا کہ درندوں کے دن اس کا کون محافظ ہوگا جس دن میرے سوا اس کا کوئی چرواہا نہ ہوگا تو لوگ بولےسبحان اللهبھیڑیا بول رہا ہے، حضور نے فرمایا کہ اس پر میں ایمان لایا اور ابوبکر اور عمر حالانکہ وہ دونوں وہاں نہ تھے۳؎(مسلم بخاری)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنمَا رَجَلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ أَعْيَا فَرَكِبَهَا فَقَالَتْ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهٰذَاإِنَّمَا خُلِقْنَا لِحِرَاثَةِ الْأَرْضِ. فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللّٰهِ بَقَرَةٌ تَكَلَّمُ ". فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنِّي أُوْمِنُ بِهٰذَاأَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ» . وَمَا هُمَا ثَمَّ وَقَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمٍ لَهٗ إِذْ عَدَا الذِّئْبُ عَلٰى شَاةٍ مِنْهَا فَأَخَذَهَا فَأَدْرَكَهَا صَاحِبُهَا فَاسْتَنْقَذَهَا فَقَالَ لَهُ الذِّئْبُ: فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبْعِ يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي؟ فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللهِ ذِئْبٌ يتَكَلَّمُ؟ ". قَالَ: أُومِنُ بِهٖ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ " وَمَا هُمَا ثَمَّ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6056 ، باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ میں ایک قوم میں کھڑا ہوا تھا کہ لوگوں نے جناب عمر کے لیے دعائیں کیں جب کہ وہ اپنے تختے پر رکھے گئے ۱؎کہ ایک شخص میرے پیچھے سے جس نے اپنی کہنی میرے کندھے پر رکھی کہنے لگا اتم پر رحمت کرے۲؎میں امید کرتا ہوں کہ الله تم کو اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا۳؎کیونکہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو یہ فرماتے بہت سنا تھا کہ میں اور ابوبکر اور عمر وہاں تھے اور میں نے اور ابوبکر و عمر نے یہ کیا اور میں اور ابوبکر و عمر چلے اور میں ابوبکر و عمر داخل ہوئے اور میں ابوبکر و عمر نکلے میں نے مڑ کر دیکھا تووہ علی ابن ابی طالب تھے۴؎(بخاری،مسلم)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنِّي لَوَاقِفٌ فِي قَوْمٍ فَدَعَوُا اللّٰهَ لِعُمَرَ وَقَدْ وُضِعَ عَلٰى سَرِيرِهٖ إِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلَفِي قَدْ وَضَعَ مِرْفَقَهٗ عَلٰى مَنْكِبِي يَقُولُ: يَرْحَمُكَ اللّٰهُ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَكَ اللّٰهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ لِأَنِّي كَثِيرًا مَا كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُنْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَفَعَلْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَانْطَلَقْتُ وَأَبُوبَكْرٍ وَعُمَرُ وَدَخَلْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَخَرَجْتُ وَأَبُوبَكْرٍ وَعُمَرُ ».فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6057 ، باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ جنتی لوگ علیّین والوں کو دیکھیں اور دکھائیں گے جیسے تم کنارہ آسمان پر چمک دار تارے کو دیکھتے ہو ۱؎اور ابوبکروعمر انہیں میں سے ہیں اور یہ دونوں بہت اچھے ہیں ۲؎اور ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ نے اس کی مثل روایت کی۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:« إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ أَهْلَ عِلِّيِّينَ كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا».رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» وَرَوٰى نَحْوَهٗ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6058 ، باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ ابوبکر و عمر جنتی ادھیڑوں کے اگلے پچھلوں کے سردار ہیں ۱؎سواء نبیوں اور رسولوں کے اور مرسلین کے۲؎(ترمذی)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيين وَالْمُرْسلِينَ». رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6059 ، باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل

اور ابن ماجہ نے حضرت علی سے روایت کی۔

وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ عَلِيٍّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6060 ، باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں نہیں جانتا کہ تم میں میری بقاء کتنی ہے ۱؎تو میرے بعد والوں کی پیروی کرو ابوبکروعمر کی۲؎(ترمذی)

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَا أَدْرِي مَا بَقَائِي فِيكُمْ؟ فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي: أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6061 ، باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم جب مسجد میں تشریف لاتے تو سوائے ابوبکر و عمر کے کوئی اپنا سر نہ اٹھاتاتھا ۱؎یہ دونوں حضرات حضور کی طرف دیکھ کر مسکراتے تھے اور حضور انہیں دیکھ کر مسکراتے تھے۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ:كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ لَمْ يَرْفَعْ أَحَدٌ رَأْسَهٗ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانَا يَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ وَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6062 ، باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم ایک دن نکلے اور مسجد میں تشریف لائے اور ابوبکر و عمر بھی ان دونوں میں سے ایک صاحب آپ کے داہنی طرف تھے دوسرے بائیں طرف حضور ان دونوں کے ہاتھ پکڑے تھے تو فرمایا ہم یہ قیامت کے دن ایسے ہی اٹھائے جائیں گے ۱؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِهٖ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهٖ وَهُوَ آخِذٌ بِأَيْدِيهِمَا. فَقَالَ: «هٰكَذَا نُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6063 ، باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل

روایت ہے حضرت عبدالله ابن حنطب سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے جناب ابوبکر و عمر کو دیکھا تو فرمایا یہ کان اور آنکھیں ہیں ۱؎(ترمذی،مرسلًا)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأٰى أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ: «هٰذَا نِ السَّمْعُ وَالْبَصَرُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مُرْسَلًا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6064 ، باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ نہیں ہے کوئی نبی مگر اس طرح کہ ان کے دو وزیر آسمان والوں میں سے ہوتے ہیں اور دو وزیر زمین والوں میں سے
۱
؎مگر ہمارے آسمانی دو وزیر جبریل اور میکائل ہیں ۲؎اورہمارے زمین والوں میں سے دو وزیر ابوبکر و عمر ہیں ۳؎(ترمذی)۴؎

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَلَهٗ وَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ وَوَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ فَجِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ وَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6065 ، باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے کہ ایک شخص نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے عرض کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ۱؎کہ آسمان سے ایک ترازو اتری تو آپ اور ابوبکر تولے گئے آپ بڑھ گئے ۲؎اور حضرت ابوبکر و عمر تولے گئے تو ابوبکر بڑھ گئے اور تولے گئے عمر و عثمان تو عمر وزنی رہے ۳؎پھرترازو اٹھائی گئی ۴؎اس سے رسول الله صلی الله علیہ و سلم غمگین ہوگئے یعنی یہ خواب حضور کو گراں گزری ۵؎پھر فرمایا کہ یہ نبوت کی خلافتیں ہیں پھر الله جسے چاہے گا ملک دے گا ۶؎(ترمذی،ابوداؤد)۷؎

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحْتَ أَنْتَ وَوُزِنَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ وَوُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَحَ عُمَرُ ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ"فَاسْتَاءَ لَهَا رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَسَاءَهٗ ذٰلِكَ.فَقَالَ:«خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ ثُمَّ يُؤْتِي اللّٰهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6066 ، باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم پر ایک جنتی آدمی نمودار ہوگا تو حضرت ابوبکر ظاہر ہوئے پھر فرمایا کہ تم پر ایک جنتی آدمی نمودار ہوگا توحضرت عمر نمودار ہوئے ۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَطَّلِعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» . فَاطَّلَعَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ: «يَطَّلِعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَاطَّلَعَ عُمَرُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6067 ، باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم کا سر مبارک ایک چاندنی رات میں میری گود میں تھا ۱؎کہ بولی یارسول الله کیا کسی کی نیکیاں آسمان کے تاروں کے برابر ہوں گی۲؎فرمایا ہاں وہ حضرت عمر ہیں ۳؎میں بولی تو جناب ابوبکر کی نیکیاں کہاں گئیں ۴؎فرمایا کہ حضرت عمر کی ساری نیکیاں ابوبکر کی نیکیوں میں سے ایک نیکی کی طرح ہیں ۵؎(رزین)

وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: بَيْنَا رَأْسُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجْرِي لَيْلَةٍ ضَاحِيَةٍ إِذْ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ هَلْ يَكُونُ لِأَحَدٍ مِنَ الْحَسَنَاتِ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ؟ قَالَ:«نَعَمْ عُمَرُ».قُلْتُ:فَأَيْنَ حَسَنَاتُ أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَ: «إِنَّمَا جَمِيعُ حَسَنَاتِ عُمَرَ كَحَسَنَةٍ وَاحِدَةٍ مِنْ حَسَنَاتِ أَبِي بَكْرٍ» رَوَاهُ رَزِينٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6068 ، باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل