- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
باب : ابن صیاد کا قصہ
فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمر سے کہ حضرت عمر ابن خطاب رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ صحابہ کرام کی ایک جماعت میں ابن صیاد کی طرف چلے حتی کہ ان بزرگوں نے ابن صیاد کو بچوں کے ساتھ بنی مغالہ کے ٹیلوں میں کھیلتا ہوا پایا ۱∞؎یا اس دن ابن صیاد قریب بلوغ تھا تو اسے کچھ پتہ نہ لگا حتی کہ رسول الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی پیٹھ پر مارا۲؎پھر فرمایا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں الله کا رسول ہوں۳؎اس نے آپ کی طرف دیکھا بولا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ بے پڑھوں کے رسول ہیں۴؎پھر ابن صیاد بولا کہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں الله کا رسول ہوں ۵؎تو اسے رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے دبوچا ۶؎پھر فرمایا کہ میں الله اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ۷؎پھر ابن صیاد نے کہا کہ تو کیا دیکھتا ہے ۸؎کہ میرے پاس سچے جھوٹے دونوں آتے ہیں ۹؎رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تجھ پر یہ چیز خلط ملط کر دی گئی۱۰؎پھر رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے تیرے لیے ایک بات سوچی ہے ۱۱∞؎اور آپ نے یہ آیت سوچی"یَوْمَ تَاۡتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیۡنٍ"تو وہ بولا کہدخہے ۱۲؎فرمایا دور ہوجا تو اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھے گا۱۳؎حضرت عمر نے عرض کیا یارسول الله کیا مجھے آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں اس کی گردن مار دوں۱۴؎تب رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی ہوا تو تم کو اس پر قابو نہ دیا جاوے گا اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو اسکے قتل میں تمہارے لیے بھلائی نہیں۱۵؎ابن عمر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم اور ابی بن کعب ایک دن اس باغ میں تشریف لے گئے جس میں ابن صیاد تھا تو رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کھجور کی شاخوں میں چھپنے لگے ۱۶؎آپ اس حیلہ سے ابن صیاد سے کچھ سننا چاہتے تھے اس سے پہلے کہ وہ آپ کو دیکھے اور ابن صیاد اپنے بستر پر اپنی کمبلی میں لپٹا ہوا تھا جس میں اس کی کچھ گنگناہٹ تھی ۱۷؎ابن صیاد کی ماں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کھجور کی شاخوں میں چھپتے ہوئے دیکھ لیا تو بولی اے صاف یہ اس کا نام تھا ۱۸؎یہ ہیں محمد،تو ابن صیاد نے گنگناہٹ بند کردی رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اگر یہ اسے چھو ڑے رہتی تو یہ بیان کردیتا ۱۹؎فرمایا عبدالله ابن عمر نے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں میں کھڑے ہوئے تو الله تعالٰی کی وہ تعریف کی جو اس کے لائق ہے۲۰؎پھر دجال کا ذکر فرمایا،پھر فرمایا کہ میں نے تم کو اس سے ڈرایا ہے اور نہیں ہے کوئی نبی مگر اس نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ۲۱∞؎چنانچہ حضرت نوح نے اپنی قوم کو ڈرایا اور میں تم سے اس کے متعلق وہ بات کہتا ہوں جو کسی نے اپنی قوم سے نہ کہی تم جانتے ہو کہ وہ کانا ہے اور الله کانا نہیں ۲۲؎(مسلم،بخاری)
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قِبَلَ ابْنِ الصَّيَّادِ حَتَّى وَجَدُوهُ يَلْعَبُ مَعَ الصّبيانِ فِي أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثم قَالَ: "أتَشهدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ " فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ:أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الأُمِّيِّينَ. ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَرَصَّهُ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- ثُمَّ قَالَ: "آمَنْتُ باللَّهِ وَبِرُسُلِهِ"، ثُمَّ قَالَ لِابْنِ صيَّاد: "مَاذَا تَرَى؟ " قَالَ: يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "خُلِّطَ عَلَيْكَ الأَمْرُ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنِّي خَبَّأْتُ لَكَ خَبِيئًا"وَخَبَّأَ لَه: {يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ}، فَقَالَ: هُوَ الدُّخُّ. فَقَالَ: "اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ". قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتَأْذَنُ لي فِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنْ يَكُنْ هُوَ لَا تُسَلَّطْ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ هُوَ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ الأَنْصَارِيُّ يَؤُمَّانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ أنْ يَسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ، وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَة، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ. فَقَالَتْ: أَيْ صَافِ -وَهُوَ اسْمُهُ- هَذَا مُحَمَّد. فتَنَاهَى ابْنُ صَيَّادٍ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فِي النَّاسَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: "إِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ، لَقَدْ أَنْذَرَ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ: تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5494 ، باب : ابن صیاد کا قصہ
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ اس سے یعنی ابن صیاد سے رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم اور جناب ابوبکر و عمر مدینہ منورہ کے بعض راستوں میں ملے ۱∞؎تو اس سے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں الله کا رسول ہوں۲؎تو وہ بولا کہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں الله کا رسول ہوں۳؎تو رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں الله تعالٰی اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اس کے رسولوں پر ایمان لایا،تو کیا دیکھتا ہے بولا میں عرش پانی پر دیکھتا ہوں۴؎تو رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تو دریا پر ابلیس کا تخت دیکھتا ہے فرمایا تو اور کیا دیکھتا ہے وہ بولا میں دو سچے ایک جھوٹا یا دو جھوٹے ایک ایک سچا دیکھتا ہوں تب رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس پر شبہ ڈال دیا گیا ہے ۵؎اسے چھوڑو(مسلم)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: لَقِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ -يَعْنِي ابْنَ صَيَّادٍ- فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ " فَقَالَ هُوَ: أتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ، مَاذَا تَرَى؟ " قَالَ: أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "تَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ"، قال: "وَمَا تَرَى؟ " قَالَ: أَرَى صَادِقَيْنِ وَكَاذِبًا أَوْ كَاذِبَيْنِ وَصَادِقًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لُبِسَ عَلَيْهِ فَدَعُوهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5495 ، باب : ابن صیاد کا قصہ
روایت ہے انہیں سے کہ ابن صیاد نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے جنت کی مٹی کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ سفید میدہ خالص مشک ۱∞؎(مسلم)
وَعَنْهُ: أَنَّ ابْنَ صَيَّادٍ سَأَلَ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ. فَقَالَ: "دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ خَالِصٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5496 ، باب : ابن صیاد کا قصہ
روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر مدینہ منورہ کے بعض راستوں میں ابن صیاد سے ملے ۱∞؎تو آپ نے اس سے ایسی بات کہی جس نے اسے غضب ناک کردیا تو وہ پھولا حتی کہ گلی بھردی ۲؎پھر ابن عمر جناب حفصہ کے پاس گئے انہیں یہ خبر پہنچ چکی تھی انہوں نے ان سے کہا الله تم پر رحمت کرے تم نے ابن صیاد سے کیا چاہا کیا تمہیں خبرنہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ دجال ایک غصہ کی حالت میں ہی نکلے گا جس پر اسے غصہ آوے گا۳؎(مسلم)
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: لَقِيَ ابْنُ عُمَرَ ابْنَ صَيَّادٍ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ قَوْلًا أَغْضَبَهُ فَانْتَفَخَ حَتَّى مَلأَ السِّكَّةَ. فَدَخَلَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى حَفْصَةَ وَقَدْ بَلَغَهَا، فَقَالَتْ لَهُ: رَحِمَكَ اللَّهُ مَا أَرَدْتَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّمَا يَخْرُجُ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5497 ، باب : ابن صیاد کا قصہ
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ میں مکہ مکرمہ تک ابن صیاد کے ساتھ رہا تو اس نے مجھ سے کہا میں نے لوگوں سے بہت مصیبت پائی ۱∞؎وہ گمان کرتے ہیں کہ میں دجال ہوں۲؎کیا تم نے رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنتے نہ رہے کہ دجال کے اولاد نہ ہوگی اور میری اولاد ہے،کیا حضور نے یہ نہ فرمایا کہ وہ کافر ہے اور میں مسلمان ہوں۳؎کیا حضور نے یہ نہ فرمایا کہ وہ نہ مدینہ میں داخل ہوسکے گا نہ مکہ میں اور میں مدینہ سے آرہا ہوں اور مکہ کا ارادہ کررہا ہوں۴؎پھر اس نے مجھ سے اپنے آخری قول میں کہا کہ آگاہ رہو کہ میں اس کی پیدائش گاہ اور اس کی جگہ جانتا ہوں اور یہ کہ وہ کہاں ہے اور میں اس کے باپ و ماں کو پہچانتا ہوں۵؎فرماتے ہیں کہ اس نے مجھے شبہ میں ڈال دیا ۶؎میں نے اس سے کہا کہ تو ہمیشہ ہلاک رہے فرمایا اور اس سے کہا گیا کیا تجھے یہ پسند ہے کہ تو ہی وہ دجال ہے فرماتے ہیں وہ بولا کہ اگر یہ مجھ پر پیش کیا جاوے تو میں ناپسند نہ کروں ۷؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ صَيَّادٍ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ لِي: مَا لَقِيتُ مِنَ النَّاسِ؟ يَزْعُمُونَ أَنِّي الدَّجَّالُ، أَلَسْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "إِنَّهُ لَا يُولَدُ لَهُ؟ ". وَقَدْ وُلِدَ لِي، أَلَيْسَ قَدْ قَالَ: "هُوَ كَافِرٌ؟ ". وَأَنَا مُسْلِمٌ، أَوَ لَيْسَ قَدْ قَالَ: "لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلَا مَكَّةَ؟ " وَقَدْ أَقْبَلْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ وَأَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ. ثُمَّ قَالَ لِي فِي آخِرِ قَوْلِهِ: أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُ مَوْلِدَهُ وَمَكَانَهُ وَأَيْنَ هُوَ وَأَعْرِفُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ، قَالَ: فَلَبَسَنِي، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ. قَالَ: وَقِيلَ لَهُ: أَيَسُرُّكَ أَنَّكَ ذَاكَ الرَّجُلُ؟ قَالَ: فَقَالَ: لَوْ عُرِضَ عَلَيَّ مَا كَرِهْتُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5498 ، باب : ابن صیاد کا قصہ
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں ابن صیاد سے ملا اس کی آنکھ سوج گئی ۱∞؎تو میں نے کہا کہ تیری آنکھ نے کیا کیا جو میں دیکھ رہا ہوں بولا مجھے خبر نہیں ۲؎میں نے کہا کہ تجھے خبرنہیں حالانکہ وہ تیرے سر میں ہے بولا اگر الله چاہے تو تمہاری لاٹھی میں آنکھ پیدا کردے۳؎فرماتے ہیں پھر گدھے کی سی سخت آواز نکالی جو تو نے سنا ہو۴؎(مسلم)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَقِيتُهُ وَقَدْ نَفَرَتْ عَيْنُهُ،فَقُلْتُ: مَتَى فَعَلَتْ عَيْنُكَ مَا أَرَى؟ قَالَ: لَا أَدْرِي. قُلْتُ: لَا تَدْرِي وَهِيَ فِي رَأْسِكَ؟ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ خَلَقَهَا فِي عَصَاكَ، قَالَ: فَنَخَرَ كَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ سَمِعْتُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5499 ، باب : ابن صیاد کا قصہ
روایت ہے حضرت محمد ابن منکدر سے ۱∞؎فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر ابن عبدالله کو دیکھا کہ وہ الله کی قسم کھاتے ہیں کہ ابن صیاد دجال ہے ۲؎میں نے کہا کہ آپ اﷲکی قسم کھارہے ہیں فرمایا کہ میں نے حضرت عمر کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس اس پر قسم کھاتے سنا تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا انکار نہ فرمایا ۳؎(مسلم بخاری)
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ أَنَّ ابْنَ الصَّيَّادِ الدَّجَّالُ. قُلْتُ: تَحْلِفُ بِاللَّهِ؟ قَالَ:إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَلَمْ يُنْكِرْهُ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم-. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5500 ، باب : ابن صیاد کا قصہ
روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر کہتے تھے اﷲکی قسم میں اس میں شک نہیں کرتا کہ مسیح دجال ابن صیاد ہے ۱∞؎(ابوداؤد،بیہقی کتاب البعث والنشور)
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا أَشُكُّ أَنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ ابْنُ صيَّادٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "كِتَابِ الْبَعْثِ والنشور".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5501 ، باب : ابن صیاد کا قصہ
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ہم نے حرہ کے دن ابن صیاد کو گم پایا ۱∞؎(ابوداؤد)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَدْ فَقَدْنَا ابْنَ صَيَّادٍ يَوْمَ الْحَرَّةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5502 ، باب : ابن صیاد کا قصہ
روایت ہے حضرت ابوبکر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دجال کا باپ تیس سال تک لاولد رہے گا کہ اس کے ۱∞؎اولاد نہ ہوگی پھر ان کے کانا بڑی ڈاڑھ والا کم نفع والا لڑکا پیدا ہوگا۲؎جس کی آنکھیں سوئیں گی اس کا دل نہ سوئے گا۳؎پھر رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے ماں باپ کا ذکر فرمایا تو فرمایا کہ اس کا باپ دراز قد دبلا ہوگا گویا اس کی ناک چونچ ہے اور اس کی ماں موٹی لمبے ہاتھ والی عورت ہے۴؎ابوبکر کہتے ہیں کہ ہم نے مدینہ منورہ میں یہود میں ایک بچہ سنا تو میں اور زبیر ابن عوام گئے ۵؎حتی کہ ہم اس کے ماں باپ کے پاس گئے تو رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کے بیان کردہ اوصاف ان دونوں میں تھے ۶؎تو ہم نے کہا کیا تمہارے کوئی بچہ ہے تو وہ دونوں بولے ہم تیس سال رہے کہ ہمارے اولاد نہ ہوئی پھر ہمارے کانا۷؎بڑی ڈاڑھ والا بچہ پیدا ہوا کم نفع والا جس کی آنکھیں سوتی اور اس کا دل نہیں سوتا۸؎فرماتے ہیں کہ ہم ان کے پاس سے نکلے تو وہ دھوپ میں ایک کمبل میں لیٹا ہوا تھا اس کی کچھ گنگناہٹ تھی ۹؎تو اس نے اپنا سر کھولا تو بولا کہ تم نے کیا کہا ہم نے کہا کہ کیا تم نے ہماری بات سن لی بولا ہاں میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۱۰؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَمْكُثُ أَبُو الدَّجَّالِ ثَلَاثِينَ عَامًا، لَا يُولَدُ لَهُمَا وَلَدٌ، ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا غُلَامٌ أَعْوَرُ أَضْرَسُ،وَأَقَلُّهُ مَنْفَعَةً، تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ"، ثُمَّ نَعَتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- أَبَوَيْهِ فَقَالَ: "أَبُوهُ طُوَالٌ ضَرْبُ اللَّحْمِ كَأَنَّ أَنْفَهُ مِنْقَارٌ، وَأُمُّهُ امْرَأَةٌ فِرْضَاخِيَّةٌ طَوِيلَةُ الْيَدَيْنِ". فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: فَسَمِعْنَا بِمَوْلُودٍ فِي الْيَهُودِ بِالمَدِينَةِ. فَذَهَبْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبَوَيْهِ، فَإِذَا نَعْتُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فِيهِمَا، فَقُلْنَا: هَلْ لَكُمَا وَلَدٌ؟فَقَالَا: مَكَثْنَا ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَنَا وَلَدٌ، ثُمَّ وُلِدَ لَنَا غُلَامٌ أَعْوَرُ أَضْرَسُ وَأَقَلُّهُ مَنْفَعَةً، تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ، قَالَ: فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِمَا، فَإِذَا هُوَ مُنْجَدِلٌ فِي الشَّمْسِ فِي قَطِيفَةٍ وَلَهُ هَمْهَمَةٌ، فَكَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالَ: مَا قُلْتُمَا؟ وَهَلْ سَمِعْتَ مَا قُلْنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5503 ، باب : ابن صیاد کا قصہ
روایت ہے حضرت جابر سے کہ ایک یہودیہ عورت نے مدینہ منورہ میں ایک بچہ جنا جس کی ایک آنکھ سپاٹ تھی اس کی ڈاڑھ اگی ہوئی تھی ۱∞؎تو رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے خوف کیا کہ یہ ہی دجال ہوگا۲؎اسے ایک کمبل کے نیچے پایا گنگنا رہا تھا۳؎اس کی ماں نے خبر دیدی بولی اے الله کے بندے یہ ابوالقاسم ہیں۴؎تو وہ کمبل سے نکل پڑا تب رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا خدا اسے غارت کرے اسے کیا ہوا ۵؎اگر یہ اسے چھوڑ دیتی تو یہ بیان کر دیتا،پھرحضرت ابن عمر کی حدیث کے معنی کی مثل ذکر کیا تب جناب عمر ابن خطاب نے عرض کیا یارسول الله صلی اللہ علیہ و سلم مجھے اجازت دیں کہ میں اسے قتل کردوں ۶؎تو رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہ ہی ہے تو اسکے قاتل تم نہیں اس کے قاتل حضرت عیسیٰ ابن مریم ہیں۷؎اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو تمہیں مناسب نہیں کہ ذمہ والوں میں سے کسی کو قتل کرو ۸؎پھر رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم اس سے خوف فرماتے رہے کہ یہ دجال ہو ۹؎(شرح سنہ)
وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ وَلَدَتْ غُلَامًا مَمْسُوحَةٌ عَيْنُهُ طَالِعَةٌ نَابُهُ، فَأَشْفَقَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- أَنْ يَكُونَ الدَّجَّالَ، فَوَجَدَهُ تَحْتَ قَطِيفَةٍ يُهَمْهِمُ. فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ فَخَرَجَ مِنَ الْقَطِيفَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ؟ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ". فَذَكَرَ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَقْتُلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنْ يَكُنْ هُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَهُ، إِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَإِلَّا يَكُنْ هُوَ فَلَيْسَ لَكَ أَنْ تَقْتُلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ". فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- مُشْفِقًا أَنَّهُ هُوَ الدَّجَّالُ. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5504 ، باب : ابن صیاد کا قصہ