- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- اچھی باتوں کا بیان
- باب:خوش طبعی کا بیان
باب:خوش طبعی کا بیان
اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہم میں گھلے ملے رہتے تھے ۱∞؎حتی کہ میرے بھائی سے کہتے تھے ۲؎کہ ابو عمیر چڑیا کیا ہوئی ۳؎اون کی ایک چڑیا تھی جس سے وہ کھیلتے تھے وہ مر گئی ۴؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُخَالِطُنَا حَتّٰى يَقُولَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟ كَانَ لَهٗ نُغَيْرٌ يَلْعَبُ بِهٖ فَمَاتَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4884 ، باب:خوش طبعی کا بیان
روایت ہے ابوہریرہ سے فرماتے ہیں صحابہ نے عرض کیا یارسول الله آپ ہم سے خوش طبعی فرماتے ہیں ۱∞؎فرمایا ہم نہیں کہتے مگر سچی بات ۲؎(ترمذی)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا. قَالَ: إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4885 ، باب:خوش طبعی کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے ایک شخص نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سواری مانگی تو فرمایا کہ ہم تم کو اونٹنی کے بچہ پر سوار کریں گے ۱∞؎وہ بولا میں اونٹنی کے بچہ کا کیا کروں گا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ کو اونٹنی ہی جنتی ہے ۲؎(ترمذی، ابوداؤد)
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا اسْتَحْمَلَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي حَامِلُكَ عَلٰى وَلَدِ نَاقَةٍ؟ فَقَالَ: مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ النَّاقَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلُ إِلَّا النُّوقُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4886 ، باب:خوش طبعی کا بیان
روایت ہے انہیں سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے دو کانوں والے ۱∞؎(ابوداؤد، ترمذی)
وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4887 ، باب:خوش طبعی کا بیان
روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ حضور نے ایک بوڑھی سے فرمایا ۱∞؎کہ جنت میں بوڑھی نہ جائے گی وہ بولی ان کا کیا بنے گا ؟ ۲؎وہ قرآن پڑھتی تھی ۳؎فرمایا کیا تم قرآن میں نہیں پڑھتی کہ ہم انہیں پیدا کریں گے دوبارہ پیدائش تو انہیں کنواریاں بنادیں گے۴؎(رزین)اور شرح سنہ میں مصابیح کے لفظ سے ہے۔
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِامْرَأَةٍ عَجُوْزٍ: إِنَّهٗ لَا تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَجُوْزٌ فَقَالَتْ: وَمَا لَهُنَّ؟ وَكَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ. فَقَالَ لَهَا: أَمَا تَقْرَئِينَ الْقُرْآنَ؟ (إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَاءً فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا) رَوَاهُ رَزِيْنٌ. وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ بِلَفْظِ الْمَصَابِيحِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4888 ، باب:خوش طبعی کا بیان
روایت ہے انہی سے کہ ایک شخص دیہاتیوں میں سے ان کا نام زاہر ابن حرام تھا ۱∞؎وہ گاؤں سے حضور صلی الله علیہ وسلم کے لیے ہدیہ لاتے تھے ۲؎پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم انہیں سامان دیتے تھے جب وہ جانا چاہتے ۳؎فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ زاہر ہمارے دیہاتی بھائی ہیں اور ہم زاہر کے شہری ہیں ۴؎اور نبی صلی الله علیہ وسلم ان سے محبت کرتے تھے وہ خوبصورت نہ تھے ۵؎ایک دن نبی صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے زاہر اپنا سامان بیچ رہے تھے حضور نے ان کو پیچھے سے گود میں لے لیا ۶؎وہ حضور کو نہ دیکھتے تھے بولے یہ کون ہیں مجھے چھوڑ دو انہوں نے التفات کیا تو نبی صلی الله علیہ وسلم کو پہچان لیا ۷؎تو انہوں نے کمی نہیں کی اپنی پیٹھ نبی صلی الله علیہ وسلم کے سینہ سے رگڑنے لگے جب کہ حضورکو پہچان لیا ۸؎اور نبی صلی الله علیہ وسلم فرمانے لگے اس غلام کو کون خریدتا ہے ۹؎وہ بولے تب تو رب کی قسم آپ مجھے بے قیمت پائیں گے۱۰؎رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا لیکن تم الله کے نزدیک بے قیمت نہیں ہو ۱۱∞؎(شرح سنہ )
وَعَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَ اسْمُهُ زَاهِرَ بْنَ حَرَامٍ وَكَانَ يُهْدِيْ لِلنَّبِيِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَادِيَةِ فَيُجَهِّزُهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ زَاهِرًا بَادِيَتُنَا وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ . وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّهٗ وَكَانَ دَمِيمًا فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهٗ فَاحْتَضَنَهٗ مِنْ خلفِه وَهُوَ لَا يُبْصِرْهٗ. فَقَالَ: أَرْسِلْنِيْ مَنْ هٰذَا؟ فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم فَجَعَلَ لَا يَألُوْا مَا أَلْزَقَ ظَهْرَهٗ بِصَدْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَرَفَهٗ وَجَعَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ يَشْتَرِي الْعَبْدَ؟ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِذًا وَاللّٰهِ تَجِدُنِي كَاسِدًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لٰكِنْ عِنْدَ اللّٰهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4889 ، باب:خوش طبعی کا بیان
روایت ہے حضرت عوف ابن مالک اشجعی سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں غزوہ تبوک میں حاضر ہوا آپ چمڑے کے خیمے میں تھے میں نے سلام کیا آپ نے مجھے جواب دیا اور فرمایا اندر آجاؤ میں نے کہا پورا یا رسول الله نے فرمایا تم پورے ہی آجاؤ ۲؎میں حاضر ہوگیا عثمان ابن عاتکہ فرماتے ہیں ۳؎کہ انہوں نے خیمہ کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے عرض کیا کہ کیا پورا آجاؤں۔ (ابوداؤد)
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ عَلَيَّ وَقَالَ: اُدْخُلْ فَقُلْتُ: أَكُلِّي يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: كُلُّكَ فَدَخَلْتُ. قَالَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِيْ الْعَاتِكَةِ: إِنَّمَا قَالَ أَدْخُلُ كُلِّي مِنْ صِغَرِ الْقُبَّةِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4890 ، باب:خوش طبعی کا بیان
روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے ۱∞؎فرماتے ہیں اجازت مانگی حضرت ابوبکر نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے تو حضرت عائشہ کی آواز سنی بلند ۲؎تو جب آئے تو انہیں پکڑا تاکہ طمانچہ مار دیں اور فرمایا میں تم کو نہ دیکھوں کہ تم اپنی آواز نبی صلی الله علیہ وسلم پر اونچی کرتی ہو۳؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم ان کو روکنے لگے۴؎اور حضرت ابوبکر ناراض ہوکر چلے گئے ۵؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب کہ ابوبکر صدیق چلے گئے بولو تم نے مجھے کیسا دیکھا میں نے تم کو ان صاحب سے بچالیا ۶؎راوی کہتے ہیں کہ پھر کچھ دن حضرت ابوبکر ٹھہرے پھر اجازت مانگی ۷؎تو ان دونوں حضرات کو صلح محبت میں پایا ان سے عرض کیا کہ مجھے اپنی صلح صفائی میں داخل کرلو ۸؎جیسے تم نے مجھے ا پنی لڑائی میں داخل کیا تھا ۹؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہم نے کرلیا ہم نے کرلیا ۱۰؎(ابوداؤد)
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ قَالَ: اِسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ صَوْتَ عَائِشَةَ عَالِيًا فَلَمَّا دَخَلَ تَنَاوَلَهَا لِيَلْطِمَهَا وَقَالَ: لَا أَرَاكِ تَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم يَحْجُزُهٗ وَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ مُغْضَبًا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ: كَيْفَ رَأَيْتِنِي أَنْقَذْتُكِ مِنَ الرَّجُلِ؟ . قَالَ: فَمَكَثَ أَبُو بَكْرٍ أَيَّامًا ثُمَّ اسْتَأْذَنَ فَوَجَدَهُمَا قَدِ اصْطَلَحَا فَقَالَ لَهُمَا: أَدْخِلَانِي فِي سِلْمِكُمَا كَمَا أَدْخَلْتُمَانِي فِي حَرْبِكُمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ فَعَلْنَا قَدْ فَعَلْنَا . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4891 ، باب:خوش طبعی کا بیان
روایت ہے حضرت عباس سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا اپنے بھائی سے نہ جھگڑا کرو نہ اس کا مذاق اڑاؤ ۱∞؎نہ اس سے کوئی وعدہ کرو جو خلاف کرو ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُمَارِ أَخَاكَ وَلَا تُمَازِحْهُ وَلَا تَعِدْهُ مَوْعِدًا فَتَخْلِفَهُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حديثٌ غَرِيْبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4892 ، باب:خوش طبعی کا بیان