باب:وصیتوں کا باب

تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جس مسلمان کے پاس کوئی چیز لائق وصیت ہو ۱؎اسے یہ مناسب نہیں کہ دو راتیں بھی اس کے بغیر گزارے کہ اس کے پاس اس کی وصیت لکھی ہو ۲؎(مسلم،بخاری)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهٗ شَيْءٌ يُوصٰى فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهٗ مَكْتُوبَةٌ عِنْدهٗ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3070 ، باب:وصیتوں کا باب

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں میں فتح کے سال ایسا بیمار ہوا کہ موت کے قریب ہوگیا، رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم بیمار پرسی کرنے تشریف لائے ۱؎میں نے عرض کیا یارسولاللّٰهمیرے پاس مال بہت ہے اور سوا میری بیٹی کے میرا وارث کوئی نہیں ۲؎تو کیا میں اپنے کل مال کی وصیت کرجاؤں ۳؎فرمایا نہیں میں نے عرض کیا دو تہائی مال کی فرمایا نہیں میں نے عرض کیا تو آدھے کی فرمایا نہیں میں نے عرض کیا تہائی کی فرمایا تہائی کی کرو اور تہائی بھی زیادہ ہے ۴؎اگر تم اپنے وارثوں کو غنی بنا کر چھوڑو تو اس سے اچھا ہے کہ تم انہیں فقیر کرکے جاؤ ۵؎کہ لوگوں سے مانگتے پھریں ۶؎اور تم کوئی خرچہ ایسا نہ کرو گے جس سےاللّٰهکی رضا چاہو مگر تمہیں اس پر ثواب دیا جائے گا حتی کہ وہ نوالہ جسے تم اپنی بیوی کے منہ میں دو۷؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: مَرِضْتُ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَيْتُ عَلَى المَوْتِ فَأَتَانِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ: إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي أَفَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهٖ ؟ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: فَثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: فَالشَّطْرِ؟ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: فَالثُّلُثِ؟ قَالَ: «الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ إِنْ تَذَرْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللّٰه إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا حَتّٰى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلٰى فِي امْرَأَتِكَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3071 ، باب:وصیتوں کا باب

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے میری بیمار پرسی فرمائی جب کہ میں بیمار تھا،فرمایا تم نے کچھ وصیت کردی ہے میں نے عرض کیا ہاں فرمایا کتنے کی ۱؎میں نے عرض کیا اپنے سارے مال کیاللّٰهکی راہ میں ۲؎فرمایا تو نے اپنے اولاد کے لیے کیا چھوڑا میں نے عرض کیا وہ بہت مال سے غنی ہیں ۳؎تب فرمایا دسویں حصہ کی وصیت کرو ۴؎میں کم کراتا رہا ۵؎حتّٰی کہ فرمایا تہائی کی وصیت کرو اور تہائی بھی بہت ہے ۶؎(ترمذی)

عَن سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: عَادَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ فَقَالَ: «أَوْصَيْتَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: «بِكَمْ؟» قُلْتُ: بِمَالِي كُلِّهٖ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ. قَالَ: «فَمَا تَرَكْتَ لِوَلَدِكَ؟» قُلْتُ: هُمْ أَغْنِيَاءُ بِخَيْرٍ. فَقَالَ: «أَوْصِ بِالْعُشْرِ» فَمَا زِلْتُ أُنَاقِصُهٗ حَتّٰى قَالَ: «أَوْصِ بِالثُّلُثِ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3072 ، باب:وصیتوں کا باب

روایت حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو اپنے خطبہ میں حجتہ الوداع کے سال فرماتے سنا ۱؎کہاللّٰهنے ہر حقدار کو اس کا حق دیا ہے لہذا وارث کے لیے وصیت نہیں ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)اور ترمذی نے یہ بڑھایا کہ بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں ۳؎ان کا حساباللّٰهکا ذمہ ہے ۴؎

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهٖ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «إِنَّ اللّٰهَ قَدْ أَعْطٰى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهٗ فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَزَادَ التِّرْمِذِيُّ: «الْوَلَدُ لِلْفَرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللّٰهِ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3073 ، باب:وصیتوں کا باب

اور حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے یوں راوی کہ فرمایا وارث کے لیے وصیت نہیں مگر یہ کہ وارث راضی ہوں یہ منقطع ہے ۱؎یہ مصابیح کے الفاظ ہیں اور دار قطنی کی روایت میں ہے کہ فرمایا وارث کے لیے وصیت جائز نہیں مگر جب کہ وارث راضی ہوں۲؎

وَيُرْوٰى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْوَرَثَةُ» مُنْقَطِعٌ هٰذَا لَفْظُ الْمَصَابِيحِ. وَفِي رِوَايَةِ الدَّارَقُطْنِيِّ: قَالَ: «لَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْوَرَثَةُ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3074 ، باب:وصیتوں کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی حضور انور نے فرمایا کہ ایک مرد و عورت ساٹھ سالاللّٰهکی اطاعت کے کام کرتے رہتے ہیں پھر انہیں موت آتی ہے ۱؎تو وصیت میں کسی کو نقصان پہنچا جاتے ہیں ۲؎ان کے لیے آگ واجب ہوجاتی ہے ۳؎پھر حضرت ابوہریرہ نے یہ آیت تلاوت کی بعد ادائے قرض وصیت کے جو وہ کر گیا ہے جب کہ کسی کو نہ نقصان دیا ہو باری تعالٰی کے فرمان تک یہ بڑی کامیابی ہے ۴؎(احمد،ترمذی،ابواؤد، ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ وَالْمَرْأَةَ بِطَاعَةِ اللّٰهِ سِتِّينَ سَنَةً ثُمَّ يَحْضُرُهُمَا الْمَوْتُ فَيُضَارَّانِ فِي الْوَصِيَّةِ فَتَجِبُ لَهُمَا النَّارُ» ثُمَّ قَرَأَ أَبُو هُرَيْرَةَ(مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ)إِلٰى قَوْلِهٖ (وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ) رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3075 ، باب:وصیتوں کا باب

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جو اچھی وصیت پر مرا ۱؎وہ دین کے راستے اور سنت پر مرا اور تقویٰ وشہادت کی موت مرا اور بخشا ہوا مرا ۲؎(ابن ماجہ)

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ عَلٰى وَصِيَّةٍ مَاتَ عَلٰى سَبِيلٍ وَسُنَّةٍ وَمَاتَ عَلٰى تُقًى وَشَهَادَةٍ وَمَاتَ مَغْفُورًا لَهٗ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3076 ، باب:وصیتوں کا باب

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ عاص ابن وائل نے وصیت کی تھی کہ اس کی طرف سے سو غلام آزاد کردیئے جائیں ۱؎تو اس کے بیٹے ہشام نے پچاس غلام آزاد کردیئے ۲؎پھر اس کے بیٹے عمرو نے چاہا کہ باقی پچاس اس کی طرف سے وہ آزاد کردیں ۳؎بولے میں تو آزاد نہ کروں گا تا آنکہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے پوچھ لوں۴؎چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا یارسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم میرے باپ نے وصیت کی تھی کہ اس کی طرف سے سو غلام آزاد کردیئے جائیں اور ہشام نے اس کی طرف سے پچاس آزاد کردیئے ہیں اور اس پر پچاس غلام باقی ہیں تو کیا اس کی طرف سے میں آزاد کردوں۵؎تو رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر وہ مسلمان ہوتا پھر تم اسکی طرف سے آزاد کرتے اس کی طرف سے خیرات یا حج کرتے یہ سب کچھ اسے پہنچ جاتا ۶؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ أَوْصٰى أَنْ يُعْتَقَ عَنْهُ مِائَةُ رَقَبَةٍ فَأَعْتَقَ ابْنُهٗ هِشَامٌ خَمْسِينَ رَقَبَةً فَأَرَادَ ابْنُهٗ عَمْرٌو أَنْ يُعْتِقَ عَنهُ الْخَمْسِينَ الْبَاقِيَةَ فَقَالَ: حَتّٰى أَسْأَلَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّ أَبِي أَوْصٰى أَنْ يُعْتَقَ عَنْهُ مِائَةُ رَقَبَةٍ وَإِنَّ هِشَامًا أَعْتَقَ عَنْهُ خَمْسِينَ وَبَقِيَتْ عَلَيْهِ خَمْسُونَ رَقَبَةً أَفَأَعْتِقُ عَنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهٗ لَو كَانَ مُسْلِمًا فَأَعْتَقْتُمْ عَنْهُ أَوْ تَصَدَّقْتَمْ عَنْهُ أَوْ حَجَجْتَمْ عَنْهُ بَلَغَهٗ ذٰلِكَ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3077 ، باب:وصیتوں کا باب

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو اپنے وارث کو اس کی میراث سے محروم کرے ۱؎تواللّٰهاس کو قیامت کے دن جنت کی میراث سے محروم کردے گا۲؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَطَعَ مِيرَاثَ وَارِثِهٖ قَطَعَ اللّٰهُ مِيرَاثَهٗ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3078 ، باب:وصیتوں کا باب

اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا۔

وَرَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي “شُعَبِ الإِيمَانِ”.عَنْ أَبِي هُرَيْرَة َ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3079 ، باب:وصیتوں کا باب