باب:شفعہ کا باب

تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ہر اس زمین پر شفعہ کا فیصلہ فرمایا جو تقسیم نہ کی گئی ہو ۱؎مگر جب حدیں مقرر ہوگئیں اور راستے پھیر دیئے گئے تو شفعہ نہیں ۲؎(بخاری)

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2961 ، باب:شفعہ کا باب

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ہر مشترکہ زمین میں جو تقسیم نہ کی گئی ہو شفعہ کا حکم دیا گھر ہو باغ ۱؎کہ اپنے ساجھی کو خبر دیئے بغیر اسے بیچنا جائز نہیں ۲؎پھر وہ ساجھی اگر چاہے لے لے اگر چاہے چھوڑ دے اور اگر اسے بغیر خبر دیئے بیچ دیا تو وہ ہی اس کا حق دار ہوگا۳؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: قَضٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شَرِكَةٍ لَمْ تُقْسَمْ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ: «لَا يَحِلُّ لَهٗ أَنْ يَبِيعَ حَتّٰى يُؤذِنَ شَرِيكَهُ فَإِن شَاءَ أَخَذَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ فَإِذَا بَاعَ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهٖ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2962 ، باب:شفعہ کا باب

روایت ہے حضرت ابو رافع سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ اپنا پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے حق دار ہے ۱؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهٖ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2963 ، باب:شفعہ کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنے دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع نہ کرے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَمْنَعْ جَارٌ جَارَهٗ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهٖ»
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2964 ، باب:شفعہ کا باب

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جب تم راستہ کے متعلق جھگڑو تو راستہ کی چوڑائی سات گز رکھی جائے ۱؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ جُعِلَ عَرْضُهٗ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2965 ، باب:شفعہ کا باب

روایت ہے حضرت سعید ابن حریث سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ تم میں سے جو بھی گھر یا زمین بیچے وہ اس لائق ہے کہ اسے برکت نہ دی جائے مگر یہ کہ وہ پیسہ اس کی مثل میں لگائے ۱؎(ابن ماجہ،دارمی)

عَنْ سَعِيدِ بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ بَاعَ مِنْكُمْ دَارًا أَوْ عَقَارًا قَمِنٌ أَنْ لَا يُبَارَكُ لَهٗ إِلَّا أَنْ يَجْعَلَهٗ فِي مِثْلِهٖ » . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه والدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2966 ، باب:شفعہ کا باب

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ پڑوسی اپنے شفعہ کا حق دار ہے ۱؎اس کا انتظار کیا جائے اگرچہ وہ غائب ہو جب کہ دونوں کا راستہ ایک ہو۲؎(احمد، ترمذی،ابوؤاد،ابن ماجہ،دارمی)۳؎

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَتِهٖ يُنْتَظَرُ لَهَا وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه. والدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2967 ، باب:شفعہ کا باب

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا ساجھی شفیع ہے اور شفعہ ہر چیز میں ہے ۱؎(ترمذی)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الشَّرِيكُ شَفِيعٌ وَالشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شَيْءٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2968 ، باب:شفعہ کا باب

اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث ابن ابی ملیکہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے بطریق ارسال مروی ہے یہ ہی زیادہ صحیح ہے۔۱؎

قَالَ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا وَهُوَ أَصَحُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2969 ، باب:شفعہ کا باب

روایت ہے حضرت عبداللّٰهابن جبیش سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جو بیری کاٹے ۱؎اللّٰهاسے اوندھے منہ آگ میں ڈالے۔(ابوداؤد)اور فرمایا یہ حدیث مختصر ہے کہ جو جنگل کی وہ بیری کاٹے جس سے مسافر سایہ لیتے ہوں اور محض ظلم و ستم سے کاٹے اس میں اس کا کوئی حق نہ ہو تواللّٰهاسے اوندھے منہ آگ میں ڈالے ۲؎

وَعَنْ عَبدِ اللّٰهِ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً صَوَّبَ اللّٰهُ رَأْسَهٗ فِي النَّارِ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَقَالَ: هٰذَا الْحَدِيثُ مُخْتَصَرٌ يَعْنِي: مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً فِي فَلَاةٍ يَسْتَظِلُّ بِهَا ابْنُ السَّبِيلِ وَالْبَهَائِمُ غَشْمًا وَظُلْمًا بِغَيْرِ حَقٍّ يَكُونُ لَهٗ فِيهَا صَوَّبَ اللهُ رَأسَهٗ فِي النَّارِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2970 ، باب:شفعہ کا باب

روایت ہے حضرت عثمان ابن عفان سے فرماتے ہیں جب زمین میں حدیں مقررکردی جائیں تو اس میں شفعہ نہیں ۱؎اور نہ کنوئیں میں شفعہ ہے نہ نر کھجور میں ۲؎(مالک)

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: إِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ فِي الْأَرْضِ فَلَا شُفْعَةَ فِيهَا.وَلَا شُفْعَةَ فِي بِئْرٍ وَلَا فَحْلِ النَّخْلِ. رَوَاهُ مَالِكٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2971 ، باب:شفعہ کا باب