باب: سلم اور گروی کا باب

تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم مدینہ تشریف لائے تو وہ لوگ ایک سال دو سا ل تین سال تک بیع سلم کرتے تھے ۱؎تو حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا جو کسی چیز میں بیع سلم کرے وہ مقرر پیمانے اور وزن مقرر میں معین مدت تک سلم کرے ۲؎(مسلم،بخاری)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فَقَالَ: « مَنْ أَسْلَفَ فِي شَيْءٍ فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلٰى أَجَلٍ مَعْلُومٍ »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2883 ، باب: سلم اور گروی کا باب

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نےایک یہودی سے ۱؎غلہ ادھار میعاد معین تک کے لیے خریدا اور اپنی لوہے کی زرہ اس کے پاس گروی رکھی ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: اشْتَرٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا من يَهُودِيٍّ إِلَى أَجَلٍ، وَرَهَنَهٗ دِرْعًا لَهٗ مِنْ حَدِيدٍ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2884 ، باب: سلم اور گروی کا باب

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس حال میں وفات پائی کہ آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض گروی تھی ۱؎(بخاری)

وَعَنْهَا قَالَتْ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهٗ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2885 ، باب: سلم اور گروی کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جب سواری گروی ہو تو اس کے خرچ کے عوض اس پر سوار ہوا جاسکتا ہے اور جب جانور گروی ہو تو اس کا دودھ خرچ کے عوض پیا جاسکتا ہے ۱؎اور سوار ہونے والے اور دودھ پینے والے کے ذمہ خرچ ہے ۲؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهٖ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ بِنَفَقَتِهٖ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرِبُ النَّفَقَةُ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2886 ، باب: سلم اور گروی کا باب

روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا گروی رکھنا مرہون چیز کو اس کے گروی رکھنے والے مالک سے نہیں روکتا ۱؎اس کے لیے اس مرہون کا نفع ہے اور اس ہی پر مرہون کا تاوان ۲؎(شافعی مرسلًا)

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَغْلَقُ الرَّهْنُ الرَّهْنَ مِنْ صَاحِبِهِ الَّذِي رَهَنَهٗ لَهٗ غُنْمُهٗ وَعَلَيْهِ غُرْمُهٗ". رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ مُرْسَلًا.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2887 ، باب: سلم اور گروی کا باب

اور اس کی یا اس کے معنی کی مثل جو مذکورہ حدیث کے خلاف نہیں،سعید ابن مسیب سے متصلًا مروی ہے وہ ابوہریرہ سے۳؎

وَرُوِيَ مِثْلُهٗ أَوْ مِثْلُ مَعْنَاهُ لَا يُخَالِفُ عَنْهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُتَّصِلًا.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2888 ، باب: سلم اور گروی کا باب

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ پیمانے تو مدینہ والوں کے ہیں اور ترازو مکہ والوں کے ۱؎(ابوداؤد،نسائی)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمِكْيَالُ مِكْيَالُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَالْمِيزَانُ مِيزَانُ أَهْلِ مَكَّةَ.رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2889 ، باب: سلم اور گروی کا باب

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ماپ و تول والوں سے تم ایسی دو چیزوں کے ذمہ دار بنائے گئے ہو ۱؎جن میں تم سے پہلے امتیں ہلاک ہوچکی ہیں۲؎(ترمذی)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِ الْكَيْلِ وَالْمِيزَانِ: «إِنَّكُمْ قَدْ وُلِّيتُمْ أَمْرَيْنِ هَلَكَتْ فِيهِمَا الْأُمَمُ السَّابِقَةُ قَبْلَكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2890 ، باب: سلم اور گروی کا باب

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو کسی چیز کو بیع سلم سے خریدے تو اسے قبضہ سے پہلے دوسرے کو نہ دے ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَسْلَفَ فِي شَيْءٍ فَلَا يَصْرِفْهٗ إِلٰى غَيْرِهٖ قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَهُ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2891 ، باب: سلم اور گروی کا باب