- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں
باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں
زکوۃ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستہ میں ایک کھجور پر سے گزرے تو فرمایا کہ مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کا ہوگا تو میں اسے کھالیتا ۱؎ (مسلم، بخاری)
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بِتَمْرَةٍ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ: "لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ لأَكْلَتُهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1821 ، باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ حضرت حسن ابن علی نے صدقہ کے چھوہاروں میں سے ایک چھوہارا لےکر اپنے منہ میں ڈال لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اخ اخ تاکہ وہ اسے تھوک دیں پھر فرمایا کہ کیا تمہیں خبر نہیں کہ ہم صدقے نہیں کھایا کرتے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: "أَخَذَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "كِخْ كِخْ" لِيَطْرَحَهَا، ثُمَّ قَالَ: "أَمَا شَعَرْتَ أَنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ؟ ! ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1822 ، باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں
روایت ہے حضرت عبدالمطلب ابن ربیعہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یہ صدقات لوگوں کے میل ہیں ۱؎ یہ نہ حضور محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور نہ آپ کی آل کو حلال ۲؎(مسلم)
وَعَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ هٰذِهِ الصَّدَقَاتِ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ، وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1823 ، باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی کھانا لایا جاتا تو اس کے متعلق پوچھتے کہ آیا یہ ہدیہ ہے یا صدقہ اگر کہا جاتا کہ صدقہ ہے تو صحابہ سے فرماتے کھالو ۱؎ اور خود نہ کھاتے اور اگر عرض کیا جاتا کہ ہدیہ ہے تو ہاتھ شریف بڑھاتے اور ان کے ساتھ کھاتے ۲؎ (مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ سَأَلَ عَنْهُ: "أَهَدْيَةٌ أَمْ صَدَقَةٌ؟ " فَإِنْ قِيلَ: صَدَقَةٌ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: "كُلُوا"، وَلَمْ يَأْكُلْ، وَإِنْ قِيلَ: هَدِيَّةٌ، ضَرَبَ بِيَدِهِ فَأَكَلَ مَعَهُمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1824 ، باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضرت بریرہ میں تین شرعی حکم ہوئے ۱؎ ایک حکم یہ کہ وہ آزاد کی گئیں تو انہیں اپنے خاوند کے متعلق اختیار دیا گیا۲؎ اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ولا آزاد کرنے والے کے لیے ہے۳؎ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے کہ ہانڈی گوشت سے ابل رہی تھی آپ کی خدمت میں روٹی اور گھر کا کوئی سالن پیش کیا گیا تو فرمایا کہ کیا مجھے گوشت کی ہانڈی نظر نہیں آرہی عرض کیا ہاں لیکن یہ وہ گوشت ہےجو بریرہ پر صدقہ کیا گیا اور حضور آپ صدقہ تو کھاتے نہیں تو فرمایا وہ ان پر صدقہ ہے ہمارے لیے ہدیہ ہے ۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ: إِحْدَى السُّنَنِ أَنَّهَا عَتقَتْ، فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، وَدَخَلَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدُمِ الْبَيْتِ، فَقَالَ: "أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً فِيهَا لَحْمٌ؟ " قَالُوا: بَلَى، وَلَكِنَّ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بهِ عَلَى بَرِيرَةَ، وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، قَالَ: "هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1825 ، باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے اور اس کا بدل بھی عطا فرماتے تھے ۱؎(بخاری)
وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَيُثِيبُ عَلَيْهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1826 ، باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر مجھے پائے(یعنی گائے بکری کے کُھر وغیرہ)کی طرف دعوت دی جائے تو قبول کرلوں اور اگر مجھے دستی دی جائے تو منظور فرمالوں ۱؎ (بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لأَجَبْتُ. وَلَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1827 ، باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکین وہ نہیں جو لوگوں پر چکر لگاتا پھرے اسے ایک دو لقمے یا ایک دو چھوہارے لوٹادیں لیکن مسکین وہ ہے جو غنا بھی نہ پائے جس کو لوگوں سے لاپرواہ ہوجائے اور اسے پہچانا بھی نہ جائے تاکہ اسے صدقہ دیدیا جائے اور نہ اٹھ کر لوگوں سے سوال کرے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَا يجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ،وَلَا يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ، وَلَا يَقُومُ فَيَسْأَلَ النَّاسَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1828 ، باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں
روایت ہے حضرت ابو رافع سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ پر مقر ر کرکے بھیجا اس نے ابو رافع سے کہا کہ تم بھی ہمارے ساتھ چلو کہ تم بھی کچھ پالو ۱؎ وہ بولے نہیں حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھ لوں۲؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ ہم کو صدقہ حلال نہیں اور قوم کا غلام ان ہی میں سے ہوتا ہے ۳؎ (ترمذی،ابوداؤد، نسائی)
عَنْ أَبِي رَافِعٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بَعَثَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَقَالَ لِأَبِي رَافِعٍ: اصْحَبْنِي كَيْمَا تُصِيبَ مِنْهَا، فَقَالَ: لَا، حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَأَسْأَلَهُ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: "إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لَنَا، وَإِنَّ مَوَالِيَ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1829 ، باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں
روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ صدقہ نہ تو غنی کو حلال ہے نہ صحیح اعضاء والے کو ۱؎(ترمذی، ابوداؤد،دارمی)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1830 ، باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں
اور احمد و نسائی و ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ سے۔
وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1831 ، باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں
روایت ہے حضرت عبید اللہ ابن عدی ابن خیار سے فرماتے ہیں کہ مجھے دو شخصوں نے خبر دی کہ وہ دونوں نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ حجۃ الوداع میں تھے صدقہ تقسیم فرمارہے تھے ۱؎ انہوں نے بھی حضور سے صدقہ مانگا تو حضور نے ہم پر نظر اٹھائی پھر جھکائی ہم کو تندرست و توانا دیکھا تو فرمایا کہ اگر تم چاہو تو تم کو دے دوں مگر اس میں نہ تو غنی کا حصہ ہے نہ کمائی کے لائق تندرست کا ۲؎(ابوداؤد،نسائی)
وَعَنْ عُبَيْدِ اللّٰهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَهُوَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَهُوَ يُقَسِّمُ الصَّدَقَةَ، فَسَأَلَاهُ مِنْهَا، فَرَفَعَ فِينَا النَّظَرَ، وَخَفَضَهُ فَرَآنَا جَلْدَيْنِ، فَقَالَ: "إِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا، وَلَا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ وَلَا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1832 ، باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں
روایت ہے حضرت عطاء ابن یسار سے مرسلًا ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پانچ کے سواء کسی غنی کو صدقہ حلال نہیں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ۲؎ اور صدقہ پر عامل ۳؎ اور مقروض ۴؎ یا اسے جو اپنے مال سے صدقہ خریدے یا اسے جس کا کوئی پڑوسی مسکین تھا تو مسکین پر صدقہ کیا گیا پھر مسکین نے اس غنی کو ہدیہ دیا۵؎(مالک،ابوداؤد)
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ: لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ، أَوْ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا، أَوْ لِغَارِمٍ، أَوْ لِرَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ، أَوْ لِرَجُلٍ كَانَ لَهُ جَارٌ مِسْكِينٌ فَتُصُدِّقَ عَلَى الْمِسْكِينِ، فَأَهْدَى الْمِسْكِينُ لِلْغَنِيِّ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1833 ، باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں
اور ابوداؤد کی ایک روایت میں جوحضرت ابوسعید سے ہے یہ ہے کہ یا مسافر۔
وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: "أَوِ ابْنِ السَّبِيلِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1834 ، باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں
روایت ہے حضرت زیاد ابن حارث صدائی سے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے بیعت کی ۱؎ انہوں نے ایک دراز حدیث سنائی کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا بولا کہ مجھے صدقہ سے دیجئے ۲؎ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی صدقات کے متعلق نبی وغیرہ کے حکم سے راضی نہ ہوا حتی کہ اس کا خود حکم آیا۳؎ مصرف کی رب تعالٰی نے آٹھ قسمیں کیں اگر تم ان آٹھ قسموں سے ہو تو میں تم کو دے دوں۴؎ (ابوداؤد)
وَعَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَبَايَعْتُهُ فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا: فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَعْطِنِي مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَرْضَ بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلَا غَيْرِهِ فِي الصَّدَقَاتِ، حَتَّى حَكَمَ فِيهَا هُوَ، فَجَزَّأَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ، فَإِنْ كُنْتَ مِنْ تِلْكَ الأَجْزَاءِ أَعْطَيْتُكَ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1835 ، باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں
روایت ہے حضرت زید ابن اسلم سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ابن خطاب نے دودھ پیا تو آپ کو پسند آیا تو پلانے والے سے پوچھا کہ یہ دودھ کہاں سے لایا۲؎ اس نے بتایا کہ وہ ایک گھاٹ پر گیا تھا جس کا اس نے نام لیا تو وہاں صدقہ کے جانور تھے وہ پانی پلارہے تھے انہوں نے ان جانوروں کا دودھ دوھا تو میں نے اپنے مشکیزہ میں ڈال لیا۳؎ یہ وہ دودھ ہے تو حضرت عمر نے منہ میں ہاتھ ڈالا اور قے کردی۴؎(مالک،بیہقی شعب الایمان)
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: شَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لَبَنًا فَأَعْجَبَهُ، فَسَأَلَ الَّذِيْ سَقَاهُ: مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ؟ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهٗ وَرَدَ عَلٰى مَاءٍ قَدْ سَمَّاهُ، فَإِذَا نَعَمٌ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ، وَهُمْ يَسْقُوْنَ، فَحَلَبُوْا مِنْ أَلْبَانِهَا، فَجَعَلْتُهٗ فِيْ سِقَائِيْ فَهُوَ هٰذَا،فَأَدْخَلَ عُمَرُ يَدَهٗ فَاسْتَقَاءَ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1836 ، باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں