- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- قرآن کے فضائل کا بیان
- باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب
باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب
قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں میں نے ہشام ابن حکیم ابن حزام کو سنا ۱؎کہ وہ سورہ فرقان اس کے خلاف پڑھ رہے ہیں جو میں پڑھتا تھا اور مجھے یہ سورہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پڑھائی تھی ۲؎قریب تھا کہ میں ان پر جلدی کر بیٹھوں مگر میں نے انہیں مہلت دی حتی کہ فارغ ہوگئے پھر میں نے انہیں ان ہی کی چادر میں لپیٹ لیا ۳؎پھر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں لایا اور عرض کیا یارسول اللہ میں نے انہیں سنا کہ سورۂ فرقان اس کے علاوہ پڑھ رہے ہیں جو مجھے حضور نے پڑھائی ہے ۴؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا انہیں چھوڑ دو۵؎ہشام پڑھو انہوں نے وہ ہی قرأت تلاوت کی جو میں نے انہیں تلاوت کرتے سنی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یوں ہی اتری ہے پھر مجھ سے فرمایا پڑ ھو میں نے پڑھی فرمایا یوں بھی اتری ہے یہ قرآن سات قرأت پر اترا ہے۔جس طرح آسان ہو تلاوت کرلیا کرو ۶؎(مسلم، بخاری)اور لفظ مسلم کے ہیں ۷؎
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيْمِ بْنِ حِزَامٍ يقْرَأ سُوْرَةَ الْفُرْقَانِ عَلٰى غَيْرِ مَا أَقْرَؤهَا، وَكَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَقْرَأَنِيْهَا، فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهٗ حَتّٰى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهٗ بِرِدَائِهٖ فجِئْتُ بِهٖ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، فَقلت: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنِّيْ سَمِعْتُ هٰذَا يَقْرَأُ سُوْرَةَ الْفُرْقَانِ عَلٰى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيْهَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَرْسِلْهُ، اِقْرَأ" فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِيْ سَمِعْتُهٗ يَقْرَأُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "هَكَذَا أُنْزِلَتْ"، ثُمَّ قَالَ لِيْ: "اِقْرَأ" فَقَرَأتُ، فَقَالَ: "هَكَذَا أُنْزِلَتْ، إِنَّ هٰذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلٰى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَاقْرَؤُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَالْلَفْظ لِمُسْلِمٍ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2211 ، باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں میں نے ایک شخص کو تلاوت کرتے سنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو اس کے خلاف تلاوت کرتے سنا تھا تو میں انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لایا یہ سب بتایا تومیں نے حضور انور کے چہرہ منور میں ناراضی دیکھی ۱؎فرمایا تم دونوں ٹھیک ہو ۲؎آپس میں جھگڑو مت کیونکہ تم سے پہلے لوگ جھگڑے تو ہلاک ہوگئے ۳؎(بخاری)
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا قَرَأَ، وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقْرَأُ خِلَافَهَا، فَجئْتُ بِهِ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَأَخْبَرْتُهٗ، فَعَرَفْتُ فِيْ وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ، فَقَالَ: "كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ، فَلَا تَخْتَلِفُوْا، فَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ اِخْتَلَفُوْا فَهَلَكُوْا". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2212 ، باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب
روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں،میں مسجد میں تھا کہ ایک شخص آکر نماز پڑھنے لگا اس نے ایسی قرأت کی جس کا میں نے انکار کیا ۱؎پھر دوسرا شخص آیا تو اس نے بھی اس پہلے والے کی قرأۃ کے سواء اور قرأت کی ۲؎جب ہم نماز پڑھ چکے اور ہم سب رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۳؎تو میں نے عرض کیا کہ ان صاحب نے ایسی قرأت کی ہے جس کا میں انکاری ہوں اور دوسرے صاحب آئے تو انہوں نے ان کے سوا اور ہی قرأت کی تب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان دونوں کو حکم دیا انہوں نے قرأت کی ۴؎تو حضور نے ان کی تعریف کی اس سے میرے دل میں کچھ تردد پیدا ہوا ۵؎جو زمانہ جاہلیت میں نہ ہوا تھا۶؎جب رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ پر چھایا ہوا تردد ملاحظہ کیا تو میرے سینے پر دستِ اقدس مارا کہ میں پسینے سے نچڑ گیا اور ڈر سے میں ایسا ہوگیا گویا ر ب کو دیکھ رہا ہوں ۷؎مجھ سے فرمایا اے ابی قرآن مجھ پر ایک قرأت میں بھیجا گیا تھا میں نے رب کی بارگاہ میں رجوع کیا کہ الٰہی میری امت پر آسانی کر ر ب نے مجھے دوبارہ جواب دیا کہ دو قرأتوں پر پڑھ سکتے ہو پھر میں نے رب کی طرف رجوع کیا کہ میر ی امت پر آسانی فرما رب نے تبارہ جواب دیا کہ سات قرأتوں پر تلاوت کرسکتے ہو ۸؎اور اے محبوب تمہیں ہر بار عرض کے عوض ایک خصوصی دعا بخشے ہیں جو تم ہم سے مانگ لینا ۹؎میں نے عرض کیا الٰہی میری امت بخش دے الٰہی میری امت بخش دے ۱۰؎اور میں نے تیسری دعا اس دن کے لیے بچا رکھی ہے جب ساری خلقت حتی کہ ابراہیم علیہ السلام بھی میرے در پر شفاعت کے لیے آئیں گے ۱۱؎(مسلم)
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ، فَدَخَلَ رَجُلٌ يُصَلِّيْ، فَقَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهٖ ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ دَخَلْنَا جَمِيْعًا عَلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ هٰذَا قَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، وَدَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ سِوٰى قِرَاءَةِ صَاحِبِهٖ ، فَأَمَرَهُمَا النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَرَأَا، فَحَسَّنَ شَأْنَهُمَا، فَسُقِطَ فِيْ نَفْسِيْ مِنَ التَّكْذِيْبِ وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ,فَلَمَّا رَأَى رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مَا قَدْ غَشِيَنِيْ ضَرَبَ فِيْ صَدْرِيْ، فَفِضْت عَرَقًا، وَكَأَنَّمَا أَنظُرُ إِلَى اللّٰهِ فَرَقًا، فَقَالَ لِيْ: "يَا أُبَيُّ! أُرْسِلَ إِلَيَّ: أَنِ اقْرَأ الْقُرْآنَ عَلٰى حَرْفٍ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ: أَنْ هَوِّنْ عَلٰى أُمَّتِيْ، فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّانِيَةَ: اقْرَأْهُ عَلٰى حَرْفَيْنِ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ: أَنْ هَوِّنْ عَلٰى أُمَّتِيْ، فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّالِثَةَ: اقْرَأْهُ عَلٰى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، وَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتُكَهَا مَسْأَلَةٌ تَسْأَلُنِيْهَا، فَقُلْتُ: اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لأُمَّتِي، اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لأُمَّتِيْ، وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ الْخَلْقُ كُلُّهُمْ حَتّٰى إِبْرَاهِيْمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2213 ، باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا مجھے جبریل نے ایک قرأت پر قرآن پیش کیا تھا مگر میں نے انہیں واپس بھیجا میں رب سے زیادہ مانگتا رہا رب مجھے زیادہ دیتا رہا،حتی کہ سات قرأتوں تک پہنچ گیا ۱؎ابن شہاب فرماتے ہیں مجھے خبر ملی ہے کہ یہ سات قرأتیں حقیقتًا ایک ہی ہیں جو حلال و حرام میں مختلف نہیں ۲؎(مسلم، بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "أَقْرَأَنِيْ جِبْرِيْلُ عَلٰى حَرْفٍ فَرَاجَعْتُهٗ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيْدُهٗ وَيَزِيْدُنِيْ حَتَّى انْتَهَى إِلٰى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: بَلَغَنِيْ أَنَّ تِلْكَ السَّبْعَةَ الأَحْرُفَ إِنَّمَا هِيَ فِي الأَمْرِ تَكُوْنُ وَاحِدًا لَا تَخْتَلِفُ فِيْ حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2214 ، باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب
روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے جبریل امین نے ملاقات کی تو حضور نے فرمایا اے جبریل میں بے پڑھی جماعت کی طرف بھیجا گیا ہوں جن میں بوڑھی عورتیں بڑے بوڑھے بچے بچیاں اور وہ لوگ بھی جنہوں نے کبھی کوئی کتاب نہ پڑھی ہو۱؎انہوں نے عرض کیا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ قرآن سات قرأتوں پر اتارا گیا ہے ۲؎(ترمذی) اور احمد و ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے ان قرأتوں میں سے ہر قرأت شافی کافی ہے ۳؎اور نسائی کی روایت میں ہے کہ فرمایا حضور انور نے جبریل و میکائیل میرے پاس آئے،جبریل تو میری داہنی جانب بیٹھ گئے اور میکائیل میری بائیں طرف ۴؎جبریل بولے قرآن ایک قرأۃ پر تلاوت کیجئے حضرت میکائیل نے کہا یارسول اللہ زیادتی کا مطالبہ فرماؤ،۵؎حتی کہ سات قرأتوں تک پہنچ گئے ہر قرأت شافی کافی ہے ۶؎
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: لَقِيَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- جِبْرِيْلَ فَقَالَ: "يَا جِبْرِيْلُ! إِنِّيْ بُعِثْتُ إِلٰى أُمَّةٍ أُمِّيِّيْنَ، مِنْهُمُ الْعَجُوْزُ،وَالشَّيْخُ الْكَبِيْرُ، وَالْغُلَامُ، وَالْجَارِيَةُ، وَالرَّجُلُ الَّذِيْ لَمْ يَقْرَأْ كِتَابًا قَطُّ، قَالَ: يَا مُحَمَّدٌ! إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلٰى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَفِيْ رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ وَأَبِيْ دَاوُدَ: قَالَ: "لَيْسَ مِنْهَا إِلَّا شَافٍ كَافٍ".
وَفِيْ رِوَايَةٍ لِلنَّسَائِيِّ قَالَ: "إِنَّ جِبْرِيْلَ وَمِيْكَائِيْلَ أَتَيَانِيْ، فَقَعَدَ جِبْرِيْلُ عَنْ يَمِيْنِيْ وَمِيْكَائِيْلُ عَنْ يَسَارِيْ، فَقَالَ جِبْرِيْلُ: اقْرَأ الْقُرْآنَ عَلٰى حَرْفٍ، قَالَ مِيْكَائِيْلُ: اسْتَزِدْهُ، حَتّٰى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ، فَكُلُّ حَرْفٍ شَافٍ كَافٍ"
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2215 ، باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ وہ ایک قصہ خواں پر گزرے جو قرآن پڑھتا اور لوگوں سے مانگتا تھا ۱؎آپ نےإِنّا للّٰهپڑھی پھر فرمایا ۲؎میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو قرآن پڑھے تو اس کے ذریعہ صر فﷲسے مانگے عنقریب ایسی قومیں ہوں گی جو قرآن پڑ ھیں گی اس کے ذریعہ لوگوں سے مانگیں گی(احمد،ترمذی)۳؎
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهٗ مَرَّ عَلٰى قَاصٍّ يَقْرَأُ ثُمَّ يَسْأَلُ، فَاسْتَرْجَعَ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُوْلُ:"مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْيَسْأَلِ اللّٰهَ بِهٖ، فَإِنَّهٗ سَيَجِيْءُ أَقْوَامٌ يَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ يَسْأَلُوْنَ بِهِ النَّاسَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2216 ، باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب
روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو قرآن پڑھے ا س کے ذریعہ لوگوں سے کھائے ۱؎وہ قیامت کے دن یوں آئے گا کہ اس کے منہ میں ہڈیاں ہوں گی ۲؎گوشت نہ ہوگا ۳؎(بیہقی)شعب الایمان
عَن بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ يَتَأَكَّلُ بِهِ النَّاسَ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَوَجْهُهٗ عَظْمٌ لَيْسَ عَلَيْهِ لَحْمٌ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ "شُعَبِ الإِيْمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2217 ، باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سورتوں میں فاصلہ نہ پہچانتے تھے حتی کہ آپ پربسم الله الرحمن الرحیماتری تھی ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لَا يَعْرِفُ فَصْلَ السُّوْرَةِ حَتّٰى يَنْزِلَ عَلَيْهِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2218 ، باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب
روایت ہے حضرت علقمہ سے فرماتے ہیں ہم حمص میں تھے حضرت ابن مسعود نے سورۂ یوسف پڑھی تو ایک شخص بولا یہ اس طرح نہیں اتری حضرت عبدﷲنے فرمایاﷲکی قسم میں نے یہ سورۃ رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ پاک میں پڑھی تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ٹھیک پڑھی ۱؎جب کہ وہ شخص باتیں کررہا تھا کہ اس سے شراب کی بو محسوس کی تو عبدﷲنے فرمایا تو شراب پیتا ہے اور قرآن کو جھٹلاتا ہے پھر اسے حدلگائی ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: كُنَّا بِحِمْصَ، فَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ سُوْرَةَ يُوْسُفَ، فَقَالَ رَجُلٌ: مَا هَكَذَا أُنْزِلَتْ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰهِ: وَاللّٰهِ لَقَرَأْتُهَا عَلٰى عَهْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: "أَحْسَنْتَ"، فَبَيْنَا هُوَ يُكَلِّمُهٗ إِذْ وَجَدَ مِنْهُ رِيْحَ الْخَمْرِ، فَقَالَ: أَتَشْرَبُ الْخَمْرَ وَتُكَذِّبُ بِالْكِتَابِ؟ فَضَرَبَهُ الْحَدَّ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2219 ، باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب
روایت ہے حضرت زید ابن ثابت سے فرماتے ہیں مجھے ابوبکر صدیق نے جنگ یمامہ کے موقعہ پر بلایا ۱؎تو حضرت عمر ابن خطاب آپ کے پاس تھے ابوبکر صدیق نے فرمایا کہ جناب عمر میرے پاس آئے تو بولے کہ یمامہ کے دن قرآن کے قاری بہت شہید ہو گئے میں ڈرتا ہوں کہ اگر اور چند جنگوں میں قاری شہید ہوتے رہے تو بہت سا قرآن ضائع ہوجائے گا ۲؎لہذا میری رائے یہ ہے آپ قرآن جمع کرنے کا حکم دے دیں ۳؎میں نے عمر سے کہا تم وہ کام کیسے کرسکتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ کیا ۴؎فرماتے ہیں کہ تب حضرت عمر نے کہا رب کی قسم یہ کام اچھا ہے حضرت عمر بار بار یہ کہتے رہے حتی کہ اللہ نے اس کام کے لیے میرا سینہ کشادہ کردیا ۵؎اور میں نے حضرت عمر کی رائے میں مصلحت دیکھی حضرت زید کہتے ہیں کہ جناب ابوبکر نے فرمایا تم جوان ہو عقلمند ہو ہمیں تم پر بداعتمادی نہیں ۶؎اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس وحی لکھتے رہے ہو ۷؎لہذا تم ہی قرآن تلاش کرو اور اسے جمع کردو ۸؎اللہ کی قسم اگر وہ مجھے پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کے ہٹادینے کا حکم دیتے وہ مجھ پر اتنا گراں نہ ہوتا جتنا قرآن جمع کرنے کا حکم مجھ پر بھاری پڑا ۹؎فرماتے ہیں میں نے کہا آپ وہ کام کیوں کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ کیا حضرت صدیق نے فرمایا خدا کی قسم یہ کام بہت ہی اچھا ہے ۱۰؎پھر حضرت صدیق بار بار مجھے یہ فرماتے رہے حتی کہ اللہ نے میرا سینہ بھی اس کے لیے کھول دیا جس کے لیے حضرت صدیق و فاروق کا سینہ کھولا ۱۱؎پھر میں نے قرآن کی تلاش شروع کی کہ اسے خرمے کی شاخوں،پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنے لگا۱۲؎حتی کہ سورہ توبہ کا آخری حصہ حضرت ابو خزیمہ انصاری کے پاس پایا ان کے سواء کسی کے پاس نہ ملا ۱۳؎یعنی لقد جاء کم رسول سے ختم سورۃ برات تک ۱۴؎پھر یہ اوراق حضرت ابوبکر کے پاس رہے حتی کہ رب نے انہیں وفات دی دی پھر تاحین حیات حضرت عمر کے پاس پھر حضرت حفصہ بنت عمر کے پاس ۱۵؎(بخاری)۱۶؎روایت ہے حضرت زید ابن ثابت سے فرماتے ہیں مجھے ابوبکر صدیق نے جنگ یمامہ کے موقعہ پر بلایا ۱؎تو حضرت عمر ابن خطاب آپ کے پاس تھے ابوبکر صدیق نے فرمایا کہ جناب عمر میرے پاس آئے تو بولے کہ یمامہ کے دن قرآن کے قاری بہت شہید ہو گئے میں ڈرتا ہوں کہ اگر اور چند جنگوں میں قاری شہید ہوتے رہے تو بہت سا قرآن ضائع ہوجائے گا ۲؎لہذا میری رائے یہ ہے آپ قرآن جمع کرنے کا حکم دے دیں ۳؎میں نے عمر سے کہا تم وہ کام کیسے کرسکتے جو رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے نہ کیا ۴؎فرماتے ہیں کہ تب حضرت عمر نے کہا رب کی قسم یہ کام اچھا ہے حضرت عمر بار بار یہ کہتے رہے حتی کہ اللہ نے اس کام کے لیے میرا سینہ کشادہ کردیا ۵؎اور میں نے حضرت عمر کی رائے میں مصلحت دیکھی حضرت زید کہتے ہیں کہ جناب ابوبکر نے فرمایا تم جوان ہو عقلمند ہو ہمیں تم پر بداعتمادی نہیں ۶؎اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس وحی لکھتے رہے ہو ۷؎لہذا تم ہی قرآن تلاش کرو اور اسے جمع کردو ۸؎اللہ کی قسم اگر وہ مجھے پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کے ہٹادینے کا حکم دیتے وہ مجھ پر اتنا گراں نہ ہوتا جتنا قرآن جمع کرنے کا حکم مجھ پر بھاری پڑا ۹؎فرماتے ہیں میں نے کہا آپ وہ کام کیوں کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ کیا حضرت صدیق نے فرمایا خدا کی قسم یہ کام بہت ہی اچھا ہے ۱۰؎پھر حضرت صدیق بار بار مجھے یہ فرماتے رہے حتی کہ اللہ نے میرا سینہ بھی اس کے لیے کھول دیا جس کے لیے حضرت صدیق و فاروق کا سینہ کھولا ۱۱؎پھر میں نے قرآن کی تلاش شروع کی کہ اسے خرمے کی شاخوں،پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنے لگا۱۲؎حتی کہ سورہ توبہ کا آخری حصہ حضرت ابو خزیمہ انصاری کے پاس پایا ان کے سواء کسی کے پاس نہ ملا ۱۳؎یعنی لقد جاء کم رسول سے ختم سورۃ برات تک ۱۴؎پھر یہ اوراق حضرت ابوبکر کے پاس رہے حتی کہ رب نے انہیں وفات دی دی پھر تاحین حیات حضرت عمر کے پاس پھر حضرت حفصہ بنت عمر کے پاس ۱۵؎(بخاری)۱۶؎
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُوْ بَكْرٍ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عِنْدَهٗ، قَالَ أَبُوْ بَكْرٍ: إِنَّ عُمَرَ أَتَانِيْ فَقَالَ:إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ، وَإِنِّيْ أَخْشَى أَنِ اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ بِالْمَوَاطِنِ فَيَذْهَبَ كَثِيْرٌ مِنَ الْقُرْآنِ، وَإِنِّيْ أَرٰى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ، قُلْتُ لِعُمَرَ: كَيْفَ تَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-؟ فَقَالَ عُمَرُ: هٰذَا وَاللّٰهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِيْ حَتّٰى شَرحَ اللّٰهُ صَدْرِيْ لذٰلِكَ، وَرَأَيْتُ فِيْ ذٰلِكَ الَّذِيْ رَأَى عُمَرُ، قَالَ زَيْدٌ: قَالَ أَبُوْ بَكْرٍ: إِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُكَ، وَقَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ،فَوَاللّٰهِ لَوْ كَلَّفُوْنِيْ نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْحِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِيْ بِهٖ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآن، قَالَ: قُلْتُ: كَيفَ تَفْعَلُوْنَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-؟ قَالَ: هُوَ وَاللّٰهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ أَبُوْ بَكْرٍ يُرَاجِعُنِيْ حَتّٰى شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرِيْ لِلَّذِيْ شَرَحَ لَهٗ صَدْرَ أَبِيْ بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهٗ مِنَ الْعُسُبِ وَاللِّخَافِ وَصُدُوْرِ الرِّجَال، حَتّٰى وَجَدْتُ آخِرَ سُوْرَةِ التَّوبَةِ مَعَ أَبِيْ خُزَيْمَةَ الأَنْصَارِيِّ، لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهٖ: لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُوْلٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ حَتّٰى خَاتِمَةِ بَرَاءَةَ، فَكَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِيْ بَكْرٍ حَتّٰى تَوَفَّاهُ اللّٰهُ،ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَيَاتَهٗ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2220 ، باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب
روایت ہے حضرت انس ابن مالک سے کہ حضرت حذیفہ ابن یمان جناب عثمان کی خدمت میں آئے جب کہ آپ فتح ارمینیہ میں شام والوں اور فتح آذربیجان میں عراق والوں سے جہاد کر رہے تھے حضرت حذیفہ کو لوگوں کی قرأت قرآن کے اختلاف نے گھبرا دیا تھا ۱؎چنانچہ حضرت حذیفہ نے حضرت عثمان سے عرض کیا اے امیرالمؤمنین اس امت کی اس سے پہلے مدد کیجئے جب کہ وہ یہود و نصاریٰ کی طرح کتاب اللہ میں اختلاف کر بیٹھیں ۲؎تب جناب عثمان غنی نے بی بی حفصہ کو پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس وہ اوراق بھیج دو تاکہ ہم انہیں صحیفوں میں نقل کرلیں۳؎پھر تمہیں واپس کردیں گے ۴؎حضرت حفصہ نے وہ صحیفے جناب عثمان کو بھیج دیئے آپ نے حضرت زید ابن ثابت عبد اللہ ابن زبیر سعید ابن عاص عبد اللہ ابن حارث ابن ہشام کو حکم دیا ۵؎انہوں نے اسے مختلف صحیفوں میں نقل کیا ۶؎اور حضرت عثمان نے قریشی جماعت سے فرمایا جو تین صاحب تھے ۷؎کہ جب تم اور زید ابن ثابت قرآن کی کسی آیت میں اختلاف کرو ۸؎تو اسے زبان قریش ہی میں لکھنا کیونکہ قرآن زبان قریش میں اترا ہے ۹؎چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا حتی کہ جب یہ صحیفے دیگر مصاحف میں نقل کرلیے تو حضرت عثمان نے یہ اوراق بی بی حفصہ کو واپس کردیئے اور ان نقل شدہ میں سے ہر طرف ایک نسخہ بھیج دیا ۱۰؎اور ان کے سواء بقیہ اور نسخوں کو جلا دینے کا حکم دے دیا ۱۱؎ابن شہاب فرماتے ہیں کہ مجھے خارجہ ابن زید ابن ثابت نے خبر دی۱۲؎کہ انہوں نے حضرت زید ابن ثابت کو فرماتے سنا کہ میں نے سورۂ احزاب کی ایک آیت قرآن نقل کرتے وقت گم پائی جو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو پڑھتے ہوئے سنا کرتا تھا ۱۳؎ہم نے اسے بہت تلاش کیا تو اسے خزیمہ ابن ثابت انصاری کے پاس پایا۱۴؎یعنی یہ آیت کہ مؤمنوں میں بعض وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالٰی سے کئے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا چنانچہ ہم نے اسے قرآن شریف میں اس سورت سے ملادیا۔(بخاری)۱۵؎
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ قَدِمَ عَلٰى عُثْمَانَ، وَكَانَ يُغَازِيْ أَهْلَ الشَّامِ فِيْ فَتْحِ أَرْمِيْنِيَّةَ وَأَذَرْبِيْجَانَ مَعَ أَهْلِ الْعِرَاقِ،فَأَفْزَعَ حُذَيْفَةَ اخْتِلَافُهُمْ فِي الْقِرَاءَةِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ لِعُثْمَانَ: يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ! أَدْرِكْ هٰذِهِ الأُمَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِفُوْا فِي الْكِتَابِ اخْتِلَافَ الْيَهُوْدِ وَالنَّصَارَى، فَأَرْسَلَ عُثْمَانُ إِلٰى حَفْصَةَ: أَنْ أَرْسِلِيْ إِلَيْنَا بِالصُّحُفِ نَنْسَخُهَا فِي الْمَصَاحِفِ ثُمَّ نرُدُّهَا إِلَيْكِ، فَأَرْسَلَتْ بِهَا حَفْصَةُ إِلٰى عُثْمَانَ، فَأَمَرَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَعَبْدَ اللّٰهِ ابْنَ الزّبَيْرِ وَسَعِيْدَ بنَ الْعَاصِ وَعَبدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، فَنَسَخُوْهَا فِي الْمَصَاحِفِ، وَقَالَ عُثْمَانُ لِلرَّهْطِ الْقُرَشِيِّيْنَ الثَّلَاثِ: إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِيْ شَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَاكْتُبُوْهُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ، فَإِنَّمَا نَزَلَ بِلِسَانِهِمْ، فَفَعَلُوْا، حَتّٰى إِذَا نَسَخُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ رَدَّ عُثْمَانُ الصُّحُفَ إِلٰى حَفْصَةَ، وَأَرْسَلَ إِلٰى كُلِّ أُفُقٍ بِمُصْحَفٍ مِمَّا نَسَخُوْا،وَأَمَرَ بِمَا سِوَاهُ مِنَ الْقُرْآنِ فِيْ كُلِّ صَحِيْفَةٍ أَوْ مُصْحَفٍ أَنْ يُحْرَقَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِيْ خَارِجَةُ بنُ زَيدِ بنِ ثَابتٍ أَنَّهٗ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ: فَقَدْتُ آيَةً مِنَ الأَحْزَابِ حِيْنَ نَسَخْنَا الْمُصْحَفَ قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقْرَأُ بِهَا، فَالْتَمَسْنَاهَا فَوَجَدْناهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ فَأَلْحَقْنَاهَا فِيْ سُوْرَتِهَا فِي الْمُصْحَفِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2221 ، باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں میں نے حضرت عثمان سے پوچھا کہ تمہارے لیے اس کا کیا سبب ہوا کہ تم نے سورۂ انفال کو جو مثانی میں سے ہے سورۃ براءۃ سے ملادیا جو مائین میں سے ہے ۱؎اور بیچ میںبسم الله الرحمن الرحیمنہ لکھی ۲؎اور تم نے اسے سات بڑی سورتوں میں رکھ دیا اس کی وجہ کیا ہوئی ۳؎تو حضرت عثمان نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر زمانہ گزرتا رہتا تھا کہ آپ پر متعدد سورتیں نازل ہوتی رہتی تھیں۴؎اور جب بھی آپ پر کوئی آیت اترتی تو بعض کاتبین وحی کو بلاتے اور فرماتے کہ یہ آیتیں اس سورہ میں رکھو جن میں فلاں فلاں چیزوں کا ذکر ہے ۵؎پھر جب آپ پر کوئی آیت نازل ہوتی تو فرماتے کہ اس آیت کو اس سورت میں رکھو جس میں ایسا ایسا ذکر ہے ۶؎اور سورۂ انفال ان سورتوں میں سے ہے جو مدینہ پاک میں پہلے نازل ہوئیں اور سورہ برات نزول میں آخری قرآن ہے ۷؎اور اس کا قصہ سورۂ انفال کے قصے سے مشابہ تھا ۸؎حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات ہوگئی اور یہ صراحۃً بیان نہ فرمایا کہ یہ سورۂ انفال کا جز ء ہے ۹؎اس لیے میں نے انہیں ملا تو دیا مگربسم الله الرحمن الرحیمکی سطر نہ لکھی اور میں نے اسے سات لمبی سورتوں میں رکھا ۱۰؎(احمد، ترمذی،ابوداؤد)۱۱؎
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قُلتُ لعُثْمَان: مَا حَمَلَكُمْ أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَى الأَنْفَالِ وَهِيَ مِنَ الْمَثَانِيْ، وَإِلَى بَرَاءَةٍ وَهِيَ مِنَ الْمِائينِ، فَقَرَنْتُمْ بَيْنَهُمَا وَلم تكْتبُوْا سَطْرَ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ ، وَوَضَعْتُمُوْهَا فِي السَّبعِ الطُّوَلِ؟ مَا حَمَلَكُمْ عَلٰى ذَلِك؟قَالَ عُثْمَانُ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مِمَّا يَأْتِيْ عَلَيْهِ الزَّمَانُ وَهُوَ تَنزلُ عَلَيْهِ السُّوَرُ ذَوَاتُ الْعَدَدِ، وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الشَّيْءُ دَعَا بَعْضَ مَنْ كَانَ يَكْتُبُ فَيَقُوْلُ: "ضَعُوْا هَؤُلَاءِ الآيَاتِ فِي السُّوْرَةِ الَّتِيْ يُذْكَرُ فِيْهَا كَذَا وَكَذَا"، فَإِذَا نزَلَتْ عَلَيْهِ الآيَةُ فَيَقُوْلُ: "ضَعُوْا هٰذِهِ الآيَةَ فِي السُّوْرَةِ الَّتِيْ يُذْكَرُ فِيْهَا كَذَا وَكَذَا". وَكَانَتِ الأَنْفَالُ مِنْ أَوَائِلِ مَا نَزَلَتْ بِالْمَدِيْنَةِ، وَكَانَتْ بَرَاءَةُ مِنْ آخِرِ الْقُرْآنِ نُزُوْلًا، وَكَانَت قِصَّتُهَا شَبيهَةً بِقِصَّتِهَا، فَقُبِضَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا أَنَّهَا مِنْهَا، فَمِنْ أَجْلِ ذٰلِكَ قَرَنْتُ بَيْنَهُمَا، وَلَمْ أَكْتُبْ بَينَهُمَا سَطْرَ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ ،وَوَضَعْتُهَا فِي السَّبْعِ الطُّوَلِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2222 ، باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب