باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہے حضرت ابوہریر ہ سے فرماتے ہیں نبی صلی الله علیہ وسلم تکبیر اور قرأت کے درمیان کسی قدر خاموش رہتے تھے ۱؎میں نے کہا میرے ماں باپ فدا ہوں یارسول الله آپ کی تکبیر اور قرأت کے درمیان خاموشی کیسی آپ اس میں کیا کہتے ہیں ۲؎فرمایا میں کہتا ہوں الہٰی میرے اور میری خطاؤں کے درمیان ایسی دوری کردے جیسی تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری کی ۳؎الہٰی مجھے خطاؤں سے ایسے پاک و صاف کردے جیسا سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے ۴؎الہٰی میری خطائیں پانی اور برف اور اولوں سے دھودے ۵؎(مسلم،بخاری)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْكُتُ بَيْنَ التَّكْبِيْرِ وَبَيْنَ الْقِرَاءَةِ إِسْكاتَةً فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ إِسْكَاتُكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَبَیْنَ الْقِرَاءَةِ مَا تَقُولُ قَالَ: «أَقُولُ اَللّٰهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اَللّٰهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ اَللّٰهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرْدِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 812 ، باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں

روایت ہے حضرت علی رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب نماز کو کھڑے ہوتے اور ایک روایت میں ہے کہ جب نماز شروع کرتے تو تکبیر بولتے ۱؎یہ کہتے میں نے اپنی ذات کو اس کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ۲؎میں برائیوں سے بیزار ہوں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ۳؎یقینًا میری نماز میری قربانی ۴؎میری زندگی اور موت الله رب العلمین کے لیئے جس کا کوئی شریک نہیں مجھے اسی کا حکم دیا گیا میں مسلمانوں میں سے ہوں۵؎اے الله تو بادشاہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں میں نے اپنی جان پرظلم کیا اور اپنی خطا کا اقرار کیا تو میرے ساری خطائیں بخش دے تیرے سوا کوئی خطائیں نہیں بخش سکتا ۶؎مجھے اچھے اخلاق کی ہدایت دے تیرے سوا کوئی اچھے اخلاق کی ہدایت نہیں دے سکتا مجھ سے بری عادتیں دور رکھ تیرے سوا یہ برائیاں کوئی دور نہیں رکھ سکتا ۷؎مولا میں حاضر ہوں تیری اطاعت پر آمادہ ساری بھلائیاں تیرے قبضے میں ہیں اور برائی تیری طرف منسوب نہیں ۸؎میں تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں تیری طرف ملتجی ہوں تو برکت والا بلندیوں والا ہے تجھ سے معافی چاہتا ہوں توبہ کرتا ہوں ۹؎اور جب رکوع کرتے تو کہتے الہٰی تیرے لیے رکوع کیا میں نے اور تجھ پر ایمان لایا تیرامطیع ہوا تیرے حضور میری سماعت و بینائی اور میری مینگ اور میری ہڈی میرے پٹھے جو عاجز ہیں ۱۰؎پھر جب اپنا سر اٹھاتے تو کہتے اے الله ہمارے رب تیری ہی تعریف ہے آسمان اور زمین اوران کے درمیان بھر کر اور اس کے سوا وہ چیز بھر کر جو تو چاہے ۱۱؎اور جب سجدہ کرتے تو کہتے الہٰی تیرے لیے میں نے سجدہ کیا تجھ پر ایمان لایا تیرا مطیع ہوا میری ذات نے اسے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا اسے صورت بخشی اور اس کے کان اور آنکھیں چیزیں برکت والا ہے الله بہترین پیدا کرنے والا ۱۲؎پھر آخر میں التحیات اور سلام کے درمیان کہتے الہٰی میری اگلی پچھلی چھپی کھلی خطائیں اور جو کچھ میں نے زیادتیاں کی اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے بخش دے۱۳؎تو ہی آگے بڑھانے والا ہے تو ہی پیچھے کرنے والا ہے ۱۴؎تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔(مسلم)اور شافعی کی روایت میں ہے کہ شرتیری طرف منسوب نہیں۔ہدایت یافتہ وہ جسے تو ہدایت دے ۱۵؎میرا تجھ پر بھروسہ اور تیری طرف توجہ کوئی جائے پناہ نہیں تیری ہی طرف ٹھکانہ ہے تو برکت والا ہے ۱۶؎

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَفِي رِوَايَةً: كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهٗ وَبِذٰلِكَ أَمَرْتُ وَأَنَا مِنَ الِمُسْلِمينَ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهٗ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهٗ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» وَإِذَا رَكَعَ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصْرِيْ وَمَخْيِ وَعَظْمِي وعَصْبِيْ» فَإِذا رَفَعَ رَاْسَہٗ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ و الأَرْض ومَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ»وَإِذَا سَجَدَ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهٗ وَصُوَّرَهٗ وَشَقَّ سَمْعَهٗ وَبَصَرَهٗ تَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ»ثُمَّ يَكُونُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ: «اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهٖ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌوَفِي رِوَايَةٍ لِلشَّافِعِيِّ: «وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ الْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْك لَا مَنْجٰى مِنْكَ وَلَا مَلْجَأَ إِلَّا إِلَيْكَ تَبَارَكْتَ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 813 ، باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں

روایت ہے حضرت انس سے کہ ایک شخص آیا صف میں داخل ہوا اس کا سانس چڑھا ہوا تھا ۱؎اس نے کہا "اَللّٰهُ اَكْبَرُ،الْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ؎جب نبی صلی الله علیہ وسلم نے نماز پوری کی تو فرمایا کہ تم میں سے یہ کلمات کس نے کہے ۳؎قوم خاموش رہی پھر فرمایا تم میں سے یہ کلمات کس نے کہےقوم پھر خاموش رہی پھر فرمایا تم میں سے یہ کلمات کس نے کہے اس نے کوئی بری بات نہیں کہی ۴؎تب وہ شخص بولا میں آیا اور میرا سانس پھولا ہوا تھا تو میں نے یہ کلمات کہے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا کہ ان کے لے جانے میں جلدی کررہے ہیں کہ کون پہلے بارگاہِ الہٰی میں پیش کرے۵؎(مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ فَدَخَلَ الصَّفَّ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفْسُ فَقَالَ:اَللّٰهُ اَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا قَضٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهٗ قَالَ: «أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ» فَأَرَمَّ الْقَوْمُ. فَقَالَ: «أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ» فَأَرَمَّ الْقَوْمُ. فَقَالَ: «أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِهَا فَإِنَّهٗ لَمْ يَقُلْ أَسًا» فَقَالَ رَجُلٌ: جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفْسُ فَقُلْتُهَا. فَقَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا» .رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 814 ، باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں

روایت ہے حضرت عائشہ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کہتے اے الله تو پاک ہے ہم تیری حمد کرتے ہیں ۱؎برکت والا ہے تیرا نام،اونچی ہے تیری شان،تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ: «سُبْحَانَكَ اَللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالٰى جَدُّكَ وَلَا إِلٰهَ غَيْرُكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 815 ، باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں

ابن ماجہ نے حضرت سعید سے روایت کی کہ اس حدیث کو ہم سوا حارثہ کے کسی اور سے نہیں جانتے،حارثہ کے حافظہ میں کلام ہے ۱؎

وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَه عَنْ أَبِي سَعِيدٍوَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ الا مِنْ حَارِثَةَ وَقَدْ تُكُلِّمَ فِيهِ مِنْ قِبَلِ حِفظِهٖ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 816 ، باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں

روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا آپ نے کہا الله بہت بڑا ہے، الله بہت بڑا ہے، الله کی بہت تعریفیں ہیں، الله کی بہت تعریفیں ہیں، الله کی بہت تعریفیں ہیں،صبح و شام الله کی پاکی بولتا ہوں تین بار ۱؎میں الله کی پناہ مانگتا ہوں شیطان سے اس کے تکبر سے اس کے شعروں سے اس کے وسوسوں سے ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)مگر ابن ماجہ نے الحمد الله کا ذکر نہ کیا اور آخر میں فرمایا من الشیطان الرجیم۔حضرت عمر فرماتے ہیں کہ شیطان کا نفخ تکبر ہے۳؎نفث شعر اور ہمز وسوسہ ۴؎

وَعَنْ جُبَيرِ بنِ مُطعِمٍ: أَنَّهٗ رَأٰى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةً قَالَ: «اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَة ً وَأَصِيلًا» ثَلَاثًا «أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ مِنْ نَفْخِهٖ وَنَفْثِهٖ وَهَمْزِهٖ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهٗ لَمْ يَذْكُرْ: «وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا» . وَذَكَرَ فِي آخِرِهٖ: «مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: نَفْخُهُ الكِبْرُ وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ وهَمزُهُ المَوتَةُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 817 ، باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے کہ انہوں نے حضور صلی الله علیہ وسلم سے دو سکوت یاد رکھے ایک خاموشی جب تکبیر کہتے ۱؎اور دوسری خاموشی جب "غیر المغضوب علیہم ولا الضالین"سے فارغ ہوتے ۲؎حضرت ابی ابن کعب نے آپ کی تصدیق کی(ابوداؤد)اور ترمذی اور ابن ماجہ اور دارمی نے اس کی مثل روایت کی۔

وَعَنْ سَمُرَة َبنِ جُنْدُبٍ: أَنَّهٗ حَفِظَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكْتَتَيْنِ: سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ وَسَكْتَةً إِذَ فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ)فَصَدَّقَهٗ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيْ وَابْنُ مَاجَه والدَارمِيْ نَحوَهٗ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 818 ، باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب دوسری رکعت سے اٹھتے توالْحَمدُلِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَسے قرأت شروع کرتے اور خاموش بالکل نہ ہوتے ۱؎صحیح مسلم میں یوں ہی ہے حمیدی نے اسے اپنے افراد میں ذکر کیا،یوں ہی جامع والے نے صرف مسلم سے۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ استَفتَحَ الْقِرَاءَة َبِ«الْحَمدُلِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» وَلَمْ يَسْكُتْ. هٰكَذَا فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ. وَذَكَرَهُ الْحُمَيْدِيُّ فِي أَفْرَادِهٖ وَكَذَا صَاحِبُ الْجَامِعِ عَنْ مُسْلِمٍ وَحدَهٗ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 819 ، باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے پھر کہتے کہ میری نماز میری قربانی میری زندگی و موت الله رب العلمین کے لیے ہے اس کا کوئی شریک نہیں میں اسی کا حکم دیا گیا پہلا مسلمان ہوں ۱؎اے الله مجھے اچھے اعمال اور اچھے اخلاق کی ہدایت دے ان اچھی چیزوں کی ہدایت تیرے سوا کوئی نہیں دے سکتا مجھے برے اعمال اور بری عادتوں سے بچالے ان برائیوں سے تیرے سوا کوئی نہیں بچاسکتا۲؎(نسائی)

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهٗ وَبِذٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ مِنَ الِمُسْلِمِيْنَ اَللّٰهُمَّ اهْدِنيِ لِأَحْسَنِ الْأَعْمَالِ وَأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَقِنِي سَيِّئَ الْأَعْمَالِ وَسَيِّئَ الْأَخْلَاقِ لَا يَقِي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 820 ، باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں

روایت ہے حضرت محمد ابن مسلمہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب نفل پڑھنے کھڑے ہوتے ۲؎ تو کہتے الله بہت بڑا ہے میں نے اپنا رخ اس کی طرف کیا جس نے آسمان وزمین بنائے تمام برائیوں سے دور ہوں اور میں مشرکوں سے نہیں ۳؎ اور بقیہ حدیث حضرت جابر کی حدیث کی سی ذکر کی مگر یہ کہا مسلمانوں میں سے ہوں پھر کہا الہٰی تو بادشاہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے میں تیری حمد کرتا ہوں پھر قرأت فرماتے ۴؎ (نسائی)

وَعَنْ مُحَمَّدِ بنِ مَسلَمَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا قَالَ: «اللهُ أَكْبَرُوَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَ حَدِيثِ جَابِرٍ إِلَّا أَنَّهٗ قَالَ: «وَأَنَا مِنَ الِمُسْلِمينَ» ثُمَّ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ» ثُمَّ يَقْرَأُ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 821 ، باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں