- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- باب : ممانعت کے اوقات
باب : ممانعت کے اوقات
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی قصد نہ کرے کہ سورج نکلنے کے وقت اور ڈوبنے کے وقت نماز پڑھے ۱؎اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا جب سور ج کا کنارہ چمک جائے تو نماز چھوڑ دو حتی کہ بلند ہوجائے ۲؎پھر جب سورج کا کنارہ چھپ جائے تو نماز چھوڑ دو حتی کہ پورا غائب ہوجائے اور اپنی نماز کے لیے سورج کے طلوع غروب کا وقت مقرر نہ کرو،کیونکہ وہ شیطان کے سینگوں کے بیچ میں طلوع ہوتا ہے ۳؎(مسلم،بخاری)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَا يَتَحَرّٰى أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّيَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا»وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلَاةَ حَتّٰى تَبْرُزَ. فَإِذا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلَاةَ حَتّٰى تَغِيبَ وَلَا تَحَيَّنُوا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا فَإِنَّهَا تَطلَعُ بَين َقَرْنَيْ الشَّيْطَانِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1039 ، باب : ممانعت کے اوقات
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے کہ ہم کو نبی صلی الله علیہ وسلم تین وقتوں میں نماز پڑھنے اور مردے دفن کرنے سے منع فرماتے تھے ۱؎جب سورج ظاہر ظہور طلوع ہورہا ہو حتی کہ بلند ہوجائے اور جب ٹھیک دوپہری قائم ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے اور جب سورج ڈوبنے کے قریب ہوجائے حتی کہ ڈوب جائے ۲؎(مسلم)
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَليِّ فِيهِنَّ أَو نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتّٰى تَرْتَفِعَ وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتّٰى تَمِيلَ الشَّمْسُ وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتّٰى تَغرُبَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1040 ، باب : ممانعت کے اوقات
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ فجر کے بعد سورج بلند ہونے تک کوئی نماز نہیں اور نہ عصر کے بعد سورج ڈوبنے تک ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتّٰى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰى تَغِيبَ الشَّمْسُ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1041 ، باب : ممانعت کے اوقات
روایت ہے حضرت عمرو ابن عبسہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو میں بھی مدینے آیا آپ کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا کہ مجھے نماز کے متعلق خبر دیجئے ۲؎تو فرمایا کہ نماز فجر پڑھو پھر آفتاب نکلتے وقت نماز سے باز رہو حتی کہ بلند ہوجائے کیونکہ وہ نکلتے وقت شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے اور اس وقت اسے کفار سجدہ کرتے ہیں ۳؎پھر نماز پڑھو کیونکہ وہ نماز حاضری یا گواہی کا وقت ہے ۴؎یہاں تک کہ نیزے کا سایہ کم ہوجائے ۵؎پھر نماز سے باز رہو کیونکہ اس وقت دوزخ جھونکا جاتا ہے ۶؎پھر جب زوال کا سایہ آگے ہوجائے تو نماز پڑھو ۷؎کیونکہ یہ نماز حاضری اور گواہی کا وقت ہے حتی کہ عصر پڑھ لو پھر سورج ڈوبنے تک نماز سے باز رہو کیونکہ وہ شیطان کے سینگوں کے بیچ ڈوبتا ہے ۸؎اس وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں،فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا نبی الله مجھے وضوء کے متعلق خبر دیجئے تو فرمایا کوئی ایسا شخص نہیں جو وضو کا پانی لے پھر کلی کرے ناک میں پانی ڈالے مگر اس کے چہرے اور منہ اور نتھنوں کی خطائیں گر جاتی ہیں ۹؎پھر جب اسی طرح اپنا منہ دھوئے جیسے اسے الله نے حکم دیا ۱۰؎مگر اس کے چہرے کی خطائیں داڑھی کے کناروں سے پانی کے ساتھ گر جاتی ہیں،پھر اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھوئے مگر اس کے ہاتھوں کی خطائیں پانی کے ساتھ پوروں سےگر جاتی ہیں،پھر اپنے سر کا مسح کرے مگر اس کے سر کی خطائیں پانی کے ساتھ بالوں کے کناروں سے گر جاتی ہیں ۱۱؎پھر اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھوئے مگر اس کے پاؤں کی خطائیں پانی کے ساتھ پوروں سے گرجاتی ہیں پھر اگر کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو الله کی وہ حمد و ثناء اور بڑائی کرے جس کے وہ لائق ہے اور اپنا دل الله کے لیے خالی کرے مگر اپنی خطاؤں سے اس دن کی طرح پھرے گا جس دن اسے ماں نے جنا ۱۲؎(مسلم)
وَعَنْ عَمْرٍو بنِ عَبَسَةَ قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ الصَّلَاةِ فَقَالَ: «صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتّٰى تَطْلُعُ الشَّمْسُ حَتّٰى تَرْتَفِعَ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلَعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ ثُمَّ صَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتّٰى يَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرَّمْحِ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّ حِينَئِذٍ تُسْجَرُ جَهَنَّمُ فَإِذَا أَقْبَلَ الْفَيْءُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتّٰى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتّٰى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِيْنَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكفَّارُ» قَالَ قُلتُ يَا نَبِيَّ اللهِ فَالْوُضُوءُ حَدِّثْنِي عَنْهُ قَالَ: «مَا مِنْكُم رَجُلٌ يُقَرَّبُ وُضُوءُ فَيُمَضمِضُ ويَستَنشِقُ فَيَستَنثِرُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهٖ وَفِيهِ وَخَيَاشِيمِهٖ ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهٗ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهٖ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهٖ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى المِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهٖ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهٗ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رَأْسِهٖ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهٖ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الكَعْبَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رِجْلَيِهٖ مِنْ أَنَامِلِهٖ مَعَ الْمَاءِ فَإِنْ هُوَ قَامَ فَصَلّٰى فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ وَمَجَّدَهٗ بِالَّذِي هُوَ لَهٗ أَهْلٌ وَفَرَّغَ قَلْبَهٗ لِلّٰهِ إِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِيئَتِهٖ كَهَيْئَتِهٖ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1042 ، باب : ممانعت کے اوقات
روایت ہے حضرت کریب سے کہ حضرت ابن عباس اور مسور ابن مخرمہ اورعبدالرحمان ابن ازہر نے ۱؎انہیں حضرت عائشہ کے پاس بھیجا کہا کہ ہم سب کا انہیں سلام کہنا اور ان سے عصر کے بعد والی دو رکعتوں کے متعلق پوچھنا ۲؎فرماتے ہیں میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہیں وہ پیغام پہنچایا جو مجھے دے کر بھیجا تھا انہوں نے کہا ام سلمہ سے پوچھو ۳؎میں ان حضرات کی طرف لوٹا انہوں نے مجھے ام سلمہ کے پاس لوٹایا ۴؎ام سلمہ نے فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ان سے منع فرماتے سنا پھر میں نے آپ کو یہ رکعتیں پڑھتے دیکھا پھر آپ تشریف لائے تو میں نے آپ کی خدمت میں لڑکی کو بھیجا ۵؎اور میں نے کہہ دیا کہ آپ سے عرض کرنا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم ام سلمہ عرض کرتی ہیں کہ میں نے آپ کو ان دو رکعتوں سے منع کرتے سنا اور آپ کو پڑھتے دیکھتی ہوں فرمایا اے ابی امیہ کی بیٹی ۶؎تم نے عصر کے بعد دو رکعتوں کے متعلق مجھ سے پوچھا میرے پاس عبدالقیس کے کچھ لوگ آئے تھے جنہوں نے مجھے ظہر کے بعد والی دو رکعتوں سے باز رکھا یہ وہی دو رکعتیں ہیں ۷؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ كُرَيْبٍ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ وَعبدَ الرَّحْمَنَ بْنَ الأَزْهَرِ أَرسَلُوهُ إِلٰى عَائِشَةَ فَقَالُوا اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامُ وَسَلْهَا عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعدَ العَصرِ قال: فَدَخَلْتُ عَلیٰ عَائِشَةَ فَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي فَقَالَتْ سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَرَدُّونِي إِلٰى أُمِ سَلمَة َفَقَالَت أمُّ سَلمَة رَضِي اللهُ عَنْهَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهٰى عَنْهُمَا ثُمَّ رَأَيْتُهٗ يُصَلِّيهِمَا ثُمَّ دَخَلَ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ فَقُلْتُ: قُولِي لَهٗ تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللهِ سَمِعْتُكَ تَنْهٰى عَنْ هَاتين وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا؟ قَالَ: «يَا ابْنَةَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَإِنَّهٗ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ فَشَغَلُونِي عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعدَ الظُّهْرِ فهُمَا هَاتَانِ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1043 ، باب : ممانعت کے اوقات
روایت ہے حضرت محمد ابن ابراہیم سے وہ قیس ابن عمرو سے راوی ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایک شخص کو فجر کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کیا صبح کی نماز دو دو رکعتیں پڑھتے ہو ۲؎اس نے عرض کیا کہ میں نے پہلی دو رکعتیں نہ پڑھیں تھیں وہ اب پڑھ لیں تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم خاموش ہوگئے ۳؎(ابوداؤد)اور ترمذی نے اس کی مثل روایت کی اور فرمایا کہ اس کی اسناد متصل نہیں ہے کیونکہ محمد ابن ابراہیم نے قیس ابن عمرو سے نہ سنا ۴؎اور شرح سنہ اور مصابیح کے نسخوں میں قیس ابن قہد سے اس کی مثل ہے۔
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «صَلَاة الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ»فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْ لَهُمَا فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ. فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيْ نَحْوَهٗ وَقَالَ: إِسْنَادُ هٰذَا الْحَدِيثِ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ لِأَنَّ مُحَمَّدَ بن إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو. وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَنُسَخِ الْمَصَابِيحِ عَنْ قَيْسِ بْنِ قَهدٍنَحوَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1044 ، باب : ممانعت کے اوقات
روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عبدمناف کی اولاد ۱؎کسی کو منع نہ کرو دن و رات میں جس گھڑی چاہے اس گھر کا طواف کرے اور نماز پڑھے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)
وَعَنْ جُبَيرِ بْنِ مُطْعَمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ وَ صَلّٰى اَیَّةَ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْنَهَارٍ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1045 ، باب : ممانعت کے اوقات
روایت ہےحضر ت ابو ہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے دوپہری میں سورج ڈھلنے تک نماز سے منع فرمایا سواء جمعہ کے دن کے ۱؎(شافعی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ الصَّلَاةِ نِصْفَ النَّهَارِ حَتّٰى تَزُولَ الشَّمْسُ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ. رَوَاهُ الشَّافِعِي
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1046 ، باب : ممانعت کے اوقات
روایت ہے حضرت ابوالخلیل سے ۱؎وہ حضرت ابوقتادہ سے راوی فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے دوپہری میں سورج ڈھلنے تک نماز کو ناپسند کیا سوائے جمعہ کے دن کے اور فرمایا کہ دوزخ جھونکا جاتا ہے سواء جمعہ کے دن کے اور فرمایا ابوالخلیل ابوقتادہ سے نہ ملے ۲؎
وَعَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ الصَّلَاةَ نِصْفَ النَّهَارِ حَتّٰى تَزُولَ الشَّمْسُ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَالَ: «إِنَّ جَهَنَّمَ تَسجَرُ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ أَبُو الْخَلِيلِ لَمْ يَلْقَ أَبَا قَتَادَةَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1047 ، باب : ممانعت کے اوقات
روایت ہے حضرت عبد الله صنابحی سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ سورج یوں طلوع ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ شیطان کے سینگ ہوتے ہیں پھر جب بلند ہوجاتا ہے تو سینگ اس سے الگ ہوجاتے ہیں پھر جب استواء ہوتا ہے تو لگ جاتے ہیں پھر جب ڈھل جاتا ہے تو الگ ہوجاتے ہیں پھر جب ڈوبنے کے قریب ہوتا ہے تو لگ جاتے ہیں جب ڈوب جاتا ہے تو الگ ہوجاتے ہیں حضور صلی الله علیہ وسلم نے ان گھڑیوں میں نماز سے منع کیا ۲؎(مالک،احمد،نسائی)
عَن عبدِ اللهِ الصُنَابحِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ وَمَعَهَا قَرْنُ الشَّيْطَانِ فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ قَارَنَهَا فَإِذا زَالَت فَارقهَا فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا فَإِذَا غَربَتْ فَارَقَهَا» . وَنَهٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّلَاةِ فِي تِلْكَ السَّاعَاتِ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأحمدُ وَالنَّسَائِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1048 ، باب : ممانعت کے اوقات
روایت ہے حضرت ابوبصرہ غفاری سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مخمص میں عصر کی نماز پڑھائی پھر فرمایا کہ یہ نماز تم سے اگلوں پر پیش کی گئی تھی انہوں نے اسے ضائع کردیا ۱؎تو جو اس پر پابندی کرے گا اس دوہرا ثواب ہوگا ۲؎اور اس کے بعد تارے نکلنے تک نماز نہیں،شاہد تارا ہے۔(مسلم)
وَعَنْ أَبي بُصرَةَ الْغِفَارِيّ قَالَ: صَلّٰى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُخَمَّصِ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَقَالَ: «إِنَّ هٰذِهٖ صَلَاةٌ عُرِضَتْ عَلیٰ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوهَا فَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَ لَهٗ أَجْرُهٗ مَرَّتَيْنِ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتّٰى يَطْلُعَ الشَّاهِدُ» . وَالشَّاهِدُ النَّجْمُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1049 ، باب : ممانعت کے اوقات
روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں تم ایسی نماز پڑھتے ہو کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ رہتے لیکن ہم نے آپ کو وہ پڑھتے نہ دیکھا ۱؎بے شک اس سے منع کیا یعنی عصر کے بعد دو رکعتیں ۲؎(بخاری)
وَعَنْ مُعَاوِيَة قَالَ: إِنَّكُمْ لَتُصَلُّونَ صَلَاةً لَقَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْنَاهُ يُصَلِّيهِمَا وَلَقَدْ نَهٰى عَنْهُمَا يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْر. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1050 ، باب : ممانعت کے اوقات
روایت ہے حضرت ابوذر سے کہ انہوں نے کعبے کے زینے پر چڑھ کر فرمایا جو مجھے پہچانتا ہے وہ پہچانتا ہے اور جو نہیں پہچانتا تو میں جندب ۱؎ہوں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ فجر کے بعد آفتاب نکلنے تک اور عصر کے بعد سورج ڈوبنے تک نماز نہیں مگر مکہ میں،مگر مکہ میں مگر مکہ میں ۲؎(احمد،رزین)
وَعَنْ أبي ذَر قَالَ وَقَدْ صَعِدَ عَلیٰ دَرَجَةِ الْكَعْبَةِ: مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْنِي فَأَنَا جُنْدُبٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰى تَغْرُبَ الشَّمْسُ إِلَّا بِمَكَّةَ إِلَّا بِمَكَّةَ إِلَّا بِمَكَّةَ» . رَوَاهُ أَحْمدُ ورَزِيْنٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1051 ، باب : ممانعت کے اوقات