باب : ماہ رمضان میں قیام

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہے زید ابن ثابت سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے مسجد میں چٹائی کا حجرہ بنایا ۱∞؎اس میں چند راتیں نماز پڑھی حتی کہ آپ پر لوگ جمع ہوگئے ۲؎پھر ایک شب لوگوں نے آپ کی آواز نہ پائی سمجھے کہ آپ سو گئے تو بعض لوگ کھنکارنے لگے تاکہ آپ تشریف لے آئیں۳؎حضور نے ارشاد فرمایا میں نے جو تمہارا کام دیکھا وہ تم پر دائمی رہا ۴؎حتی کہ میں نے یہ خوف کیا کہ تم پر یہ نماز فرض کردی جائے گی اور اگر تم پر فرض کردی جاتی تو تم قائم نہ کرسکتے ۵؎اے لوگو اپنے گھروں میں نماز پڑھو کیونکہ مرد کی نماز فرائض کے سوا گھر میں بہتر ہے ۶؎(مسلم،بخاری)

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ فَصَلّٰى فِيهَا لَيَالِيَ حَتّٰى اجْتَمَعَ عَلَيْهِ نَاسٌ ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَهٗ لَيْلَةً وَظَنُّوا أَنَّهٗ قَدْ نَامَ فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ. فَقَالَ: مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ حَتّٰى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهٖ . فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلَاةِ الْمَرْءِ ففِي بَيْتِهٖ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ) (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1295 ، باب : ماہ رمضان میں قیام

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم قیام رمضان کی ترغیب دیتے انہیں اس کا تاکیدی حکم نہ فرماتے ۱∞؎فرماتے تھے کہ جو رمضان میں ایمان کے ساتھ طلب اجر کے لیئے قیام کرے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۲؎نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے وفات پائی اور معاملہ یوں ہی رہا،پھر خلافت صدیقی اور شروع خلافت فاروقی میں یہ معاملہ اسی طرح رہا ۳؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: (كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْغَبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ فِيهِ بِعَزِيمَةٍ فَيَقُولُ: «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُمَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ. فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْاَمْرُ عَلیٰ ذٰلِكَ ثُمَّ كَانَ الْأَمْرُ عَلیٰ ذٰلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ عَلیٰ ذَلِك» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1296 ، باب : ماہ رمضان میں قیام

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں نماز پڑھ لے تو اپنی نماز کاکچھ حصہ اپنے گھر کے لیئے بھی رکھے کہ الله اس کی نماز کی برکت سے ا س کے گھر میں خیر و برکت رکھے گا ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا قَضٰى أَحَدُكُمُ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِهٖ فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهٖ نَصِيْبًا مِنْ صَلَاتِهٖ فَإِنَّ اللهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهٖ مِنْ صِلَاتِهٖ خَيْرًا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1297 ، باب : ماہ رمضان میں قیام

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں ہم نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ روزے رکھے آپ نے مہینے میں ہمارے ساتھ بالکل قیام نہ فرمایا ۱∞؎حتی کہ سات دن باقی رہ گئے تب ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ تہائی رات گزر گئی پھر جب چھٹی رات ہوئی تو ہمارے ساتھ قیام نہ کیا پھر جب پانچویں رات ہوئی تو ہم کو نماز پڑھائی حتی کہ رات آدھی گزر گئی۲؎میں نے عرض کیا یا رسول الله کاش کہ آپ ان راتوں کا قیام ہمارے لیئے زائد فرمادیتے ۳؎حضور نے فرمایا کہ انسان جب امام کے ساتھ نماز پڑھے حتی کہ فارغ ہوجائے تو اس کے لیئے ساری رات قیام شمار کیا جاتا ہے ۴؎پھر جب چوتھی رات ہوئی تو ہمیں نماز نہ پڑھائی حتی کہ رات تہائی باقی رہ گئی ۵؎پھر جب تیسری رات ہوئی تو اپنے گھر والوں اپنے بیویوں اور لوگوں کو جمع فرمایا ہمیں نماز پڑھائی حتی کہ ہم نے خوف کیا کہ ہماری فلاح جاتی رہے گی میں نے کہا فلاح کیا چیز ہے فرمایا سحری ۶؎پھر بقیہ مہینہ نماز نہ پڑھائی(ابوداؤد،ترمذی)نسائی اور ابن ماجہ نے اس کی مثل روایت کی مگر ترمذی نے"لَمْ یَقُمْ"الخ کا ذکر نہ کیا۔

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ حَتّٰى بَقِيَ سَبْعٌ فَقَامَ بِنَا حَتّٰى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ فَلَمَّا كَانَتِ السَّادِسَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتّٰى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ فَقُلْتُ: يَارَسُوْلَ اللهِ لَوْ نَفَّلْتَنَا قِيَامَ هٰذِهِ اللَّيْلَةِ. قَالَ فَقَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلّٰى مَعَ الْإِمَامِ حَتّٰى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهٗ قِيَامُ ليْلَةٍ» . قَالَ: فَلَمَّا كَانَت الرَّابِعَةُ لَمْ يَقُمْ فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ جَمَعَ أَهْلَهٗ وَنِسَاءَهٗ وَالنَّاسَ فَقَامَ بِنَا حَتّٰى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ. قَالَ قُلْتُ: وَمَا الْفَلَاحُ؟ قَالَ: السَّحُورُ. ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا بَقِيَّةَ الشَّهْرِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوٰى ابْنُ مَاجَهْ نَحْوَهُ الا أَنَّ التِّرْمِذِيَّ لَمْ يَذْكُرْ: ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا بَقِيَّة َالشَّهْرِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1298 ، باب : ماہ رمضان میں قیام

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو گم پایا دیکھا کہ آپ جنت البقیع میں تھے ۱∞؎تو آپ نے فرمایا کیا تم اس سے خوف کرتی تھیں کہ تم پر الله و رسول ظلم کریں گے۲؎میں نے عرض کیا یا رسول الله مجھے خیال ہوا کہ آپ اپنی کسی اور بیوی کے پاس تشریف لے گئے ۳؎تو فرمایا کہ الله تعالٰی پندرھویں شعبان کی رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے تو قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ کوبخش دیتا ہے۴؎(ترمذی،ابن ماجہ)رزین نے یہ بھی زیادہ کیا کہ جو آگ کے مستحق ہو چکے ہیں۵؎ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے محمد امام بخاری کو سنا کہ اس حدیث کو ضعیف کہتے تھے۶؎

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ فَقَالَ " أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ فَقَالَ: إِنَّ اللهَ تَعَالٰى يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ " رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَزَادَ رَزِينٌ: «مِمَّنِ اسْتَحَقَّ النَّارَ» وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي البُخَارِيّ يُضَعِّفُ هٰذَا الحَدِيثَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1299 ، باب : ماہ رمضان میں قیام

روایت ہے حضرت زید ابن ثابت سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مرد کی نماز اپنے گھر میں میری اس مسجد میں نماز سے افضل ہے سوائے فرائض کے ۱∞؎(ابوداؤد، ترمذی)

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «صَلَاةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهٖ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهٖ فِي مَسْجِدِي هٰذَا إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1300 ، باب : ماہ رمضان میں قیام

روایت ہےحضرت عبدالرحمان ابن عبدالقاری سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں ایک رات حضرت عمر ابن خطاب کے ساتھ مسجد کو گیا لوگ متفرق طور پر الگ الگ تھے کوئی اکیلے نماز پڑھ رہاتھا اور کسی کے ساتھ کچھ جماعت پڑھ رہی تھی۲؎حضرت عمر نے فرمایا اگر میں ان لوگوں کو ایک قاری پر جمع کردیتا تو بہتر تھا پھر آپ نے ارادہ کر ہی لیا تو انہیں ابی ابن کعب پر جمع کردیا ۳؎فرماتے ہیں کہ پھر میں دوسری رات آپ کے ساتھ گیا تو لوگ اپنے قاری کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے حضرت عمر نے فرمایا یہ بڑی اچھی بدعت ہے۴؎اور وہ نماز جس سے تم سورہتے ہو اس سے افضل ہے جس کو تم قائم کرتے ہو یعنی آخر رات کی ۵؎اور لوگ اول رات میں پڑھتے تھے۶؎(بخاری)

عَن عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِيِّ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لَيْلَةً إِلَى المَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهٖ وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلَاتِهِ الرَّهْطُ فَقَالَ عُمَرُ: إِنِّي لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلَاءِ عَلیٰ قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَهُمْ عَلیٰ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهٗ لَيْلَةً أُخْرٰى وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ قَارِئِهِمْ. قَالَ عُمَرُ: نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هٰذِهٖ وَالَّتِي تَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي تَقُومُونَ. يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ وَكَانَ النَّاسُ يَقُوْمُوْنَ أَوَّلَهٗ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1301 ، باب : ماہ رمضان میں قیام

روایت ہے حضرت سائب ابن یزیدسے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ابی کعب اورتمیم داری کو حکم دیا کہ لوگوں کو رمضان میں گیارہ رکعتیں پڑھائیں ۱∞؎تو اماممئینسورتیں پڑھتا تھا حتی کہ ہم درازیٔ قیام کی وجہ سے لاٹھی پر ٹیک لگالیتے تھے تو شروع فجر سے پہلے فارغ نہ ہوتے تھے ۲؎(مالک)

وَعَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: أَمَرَ عُمَرُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَتَمِيمًا الدَّارِيَّ أَنْ يَقُومَا لِلنَّاسِ فِي رَمَضَانَ بِإِحْدٰى عَشْرَةَ رَكْعَةً فَكَانَ الْقَارِئُ يَقْرَأُ بِالْمِئِينَ حَتّٰى كُنَّا نَعْتَمِدُ عَلَی العَصَا مِنْ طُولِ الْقِيَامِ فَمَا كُنَّا نَنْصَرِفُ إِلَّافِي فُرُوعِ الْفَجْرِ.رَوَاهُ مَالِكٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1302 ، باب : ماہ رمضان میں قیام

روایت ہے حضرت اعرج سے فرماتے ہیں کہ ہم نے لوگوں کو رمضان میں کافروں پر لعنت ہی کرتے پایا ۱∞؎فرماتے ہیں کہ قاری آٹھ رکعتوں میں سورۂ بقر پڑھتا تھا اور جب وہ بارہ رکعتوں میں پڑھنے لگا تو لوگوں نے سمجھا کہ آسانی ہوگئی ۲؎(مالک)

وَعَنْ الْأَعْرَجِ قَالَ: مَا أَدْرَكْنَا النَّاسَ إِلَّا وَهُمْ يَلْعَنُونَ الْكَفَرَةَ فِي رَمَضَانَ قَالَ: وَكَانَ الْقَارِئُ يَقْرَأُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فِي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ وَإِذَا قَامَ بِهَا فِي ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً رَأَى النَّاسُ أَنَّه ٗقَدْ خَفَّفَ. رَوَاهُ مَالِكٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1303 ، باب : ماہ رمضان میں قیام

روایت ہے حضرت عبد الله ابن ابی بکر سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی کو فرماتے سنا کہ ہم رمضان میں نماز سے فارغ ہوتے تھے تو خدام سے جلد کھانا مانگتے تھے سحری جاتے رہنے کے خوف سے۔دوسری روایت میں ہے فجر کے خوف سے ۲؎(مالک)

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِيْ بَكْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِيْ يَقُولُ: كُنَّا نَنْصَرِفُ فِي رَمَضَانَ مِنَ الْقِيَامِ فَنَسْتَعْجِلُ الْخَدَمَ بِالطَّعَامِ مَخَافَةَ فَوْتِ السَّحُورِ. وَفِي أُخْرٰىٰ مَخَافَةَ الْفجْرِ. رَوَاهُ مَالِكٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1304 ، باب : ماہ رمضان میں قیام

روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا کیا تم جانتی ہو کہ اس رات یعنی پندھوریں شعبان میں کیا ہے عرض کیا یارسول الله اس میں کیا ہے تو فرمایا اس رات میں اس سال پیدا ہونے والے انسان کے بچے لکھ دیئے جاتے ہیں اور اس سال مرنے والے سارے انسان لکھ دیئے جاتے ہیں ۱∞؎اور اس رات میں ان کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور ان کے رزق اتارے جاتے ہیں ۲؎انہوں نے عرض کیا یارسول الله کیا کوئی الله کی رحمت کے بغیر جنت میں نہیں جائے گا تو آپ نے تین بار فرمایا کہ کوئی الله تعالٰی کی رحمت کے بغیر جنت میں نہیں جاسکتا ۳؎میں نے عرض کیا یارسول الله آپ بھی نہیں تو آپ نے اپنا ہاتھ شریف اپنے سر پر رکھا اور فرمایا میں بھی نہیں مگر یہ کہ الله مجھے اپنی رحمت میں چھپالے تین بار فرمایا ۴؎(بیہقی ،دعوات کبیر)

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَل تَدْرِيْنَ مَا فِيْ هٰذِهِ اللَّيْلَةِ؟» يَعْنِي لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ قَالَتْ: مَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: «فِيهَا أَنْ يُكْتَبَ كلُّ مَوْلُودٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي هٰذِهِ السَّنَةِ وَفِيهَا أَنْ يُكْتَبَ كُلُّ هَالِكٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي هٰذِهِ السَّنَةِ وَفِيهَا تُرْفَعُ أَعْمَالُهُمْ وَفِيهَا تَنْزِلُ أَرْزَاقُهُمْ». فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالٰى؟ فَقَالَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالٰى» . ثَلَاثًا. قُلْتُ: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ فَوَضَعَ يَدَهٗ عَلیٰ هَامَتِهٖ فَقَالَ: «وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللهُ بِرَحْمَتِهٖ» . يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعْوَاتِ الْكَبِيْرِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1305 ، باب : ماہ رمضان میں قیام

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا الله تعالٰی پندرھویں شعبان کی شب میں توجہ کرم فرماتا ہے تو کافر یا کینہ والے کے سوا اپنی سب مخلوق کو بخش دیتا ہے۔(ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللهَ تَعَالٰى لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهٖ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاھِنٍ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1306 ، باب : ماہ رمضان میں قیام

اور احمد نے عبد الله ابن عمرو ابن عاص سے روایت کی اور ان کی روایت میں ہے دو کے سوا کینہ پرور اور قاتل نفس ۱∞؎

وَرَوَاهُ أَحْمدُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَفِيْ رِوَايَتِهٖ: «إِلَّا اثْنَيْنِ مُشَاھِنٍ وَقَاتِلِ نَفْسٍ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1307 ، باب : ماہ رمضان میں قیام

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب پندھوریں شعبان کی رات ہو تو رات میں قیام کرو،دن میں روزہ رکھو ۱∞؎کیونکہ اس رات میں الله تعالٰی سورج ڈوبتے ہی آسمان دنیا کی طرف نزول رحمت فرماتا ہے کہتا ہے کہ کوئی معافی مانگنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں کہ کیا کوئی روزی مانگنے والا ہے کہ میں اسے روزی دوں کیا کوئی بیمار ہے کہ میں اسے آرام دوں کیا کوئی ایسا ہے کیا کوئی ایسا ہے طلوع فجر تک ۲؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُومُوا لَيْلَهَا وَصُوْمُوْا يَوْمَهَافَإِنَّ اللهَ تَعَالٰى يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ: أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهٗ؟ أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ؟ أَلَا مُبْتَلًى فَأُعَافِيَهُ؟ أَلَا كَذَا أَلَا كَذَا حَتّٰى يَطْلَعَ الْفَجْرَ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1308 ، باب : ماہ رمضان میں قیام