- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- باب : امامت کا بیان
باب : امامت کا بیان
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت ابو مسعود سے فرماتے ہیں،فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قوم کی امامت وہ کرے جو کتاب الله کا زیادہ قاری ہو ۱؎اگر قرأت میں سب برابر ہوں تو سنت کا زیادہ جاننے والا ۲؎اگر سنت میں سب برابر ہوں تو پہلے ہجرت والا اگر ہجرت میں سب برابر ہوں تو زیادہ عمر رسیدہ ۳؎کوئی شخص کسی شخص کی ولایت کی جگہ امامت نہ کرے اور نہ اس کے گھر میں اس کے بغیر اجازت اعلیٰ مقام پر بیٹھے۴؎(مسلم) اور مسلم کی دوسری روایت میں ہے کہ کوئی شخص کسی شخص کی اس کے گھر میں امامت نہ کرے۔۱∞؎امام کے معنی ہیں پیشوا راہبر،اُمٌّسے بنا،بمعنی قصدو ارادہ یعنی جس کی پیروی کا لوگ قصد کریں،اب دینی پیشوا کو کہا جاتا ہے۔امامت دو قسم کی ہے:امامت صغریٰ یعنی نماز کی امامت،امامت کبریٰ یعنی خلافت اسلامیہ عثمانیہ یہاں امامت صغریٰ مراد ہے۔
عَن أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِنًّا وَلَا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهٖ وَلَا يَقْعُدْ فِي بَيْتِهٖ عَلیٰ تَكْرِمَتِهٖ إِلَّابِإِذْنِهٖ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهٗ : « وَلَا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي أَهْلِهٖ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1117 ، باب : امامت کا بیان
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب تین آدمی ہوں تو ان میں ایک امام بن جائے ان میں امامت کا زیادہ حقدار قاری ہے ۱؎(مسلم)اور مالک ابن حویرث کی حدیث فضل اذان کے بعد والے باب میں بیان ہوگی۲؎
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فَلْيَؤُمُّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامِ أَقْرَؤُهُمْ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَذَكَرَ حَدِيثَ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ فِي بَابٍ بَعْدَ بَابِ «فَضْلِ الْأَذَانِ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1118 ، باب : امامت کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اذان بہترین لوگ دیں اور تمہاری امامت قاری لوگ کریں ۱؎(ابوداؤد)
عَنِ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لِيُؤَذِّنْ لَكُمْ خِيَارُكُمْ ولِيَؤُمُّكُمْ قُرَّاؤُكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1119 ، باب : امامت کا بیان
روایت ہے حضرت ابو عطیہ عقیلی سے فرماتے ہیں کہ مالک ابن حویرث ۱؎ہمارے پاس ہماری مسجد میں آتے اور بات چیت کیا کرتے تھے ایک دن نماز کا وقت آگیا ابو عطیہ کہتے ہیں کہ ہم نے ان سے کہا آگے بڑھیے نماز پڑھائیے وہ بولے کہ تم اپنے کسی آدمی کو آگے بڑھاؤ جو تمہیں نماز پڑھائے اور میں بتاؤں گا کہ میں نماز کیوں نہیں پڑھاتا میں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو کسی قوم کی ملاقات کو جائے وہ ان کی امامت نہ کرے ان کی امامت انہیں میں کا کوئی کرے ۲؎(ابوداؤد، ترمذی،نسائی)مگر نسائی نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے لفظ پر کفایت کی۔
وَعَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: كَانَ مَالِكُ بنُ الْحُوَيْرِثِ يَأْتِينَا إِلٰى مُصَلَّانَا يَتَحَدَّثُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ يَوْمًا قَالَ أَبُو عَطِيَّةَ: فَقُلْنَا لَهٗ : تَقَدَّمَ فَصْلُهٗ. قَالَ لَنَا قَدِّمُوا رَجُلًا مِنْكُمْ يُصَلِّي بِكُمْ وَسَأُحَدِّثُكُمْ لِمَ لَا أُصَلِّي بِكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَا يَؤُمُّهُمْ وَلِيَؤُمُّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيُّ إِلَّا أَنَّهٗ اقْتَصَرَ عَلیٰ لَفْظِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1120 ، باب : امامت کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم کو اپنا نائب کیا تاکہ لوگوں کو نماز پڑھائیں حالانکہ وہ نابینا تھا ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: اسْتَخْلَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يَؤُمُّ النَّاسَ وَهُوَ أَعْمٰى. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1121 ، باب : امامت کا بیان
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تین شخصوں کی نماز ان کے کانوں سے آگے نہیں بڑھتی ۱؎بھاگا ہوا غلام حتی کہ لوٹ آئے اور وہ عورت جو اس حالت میں رات گزارے کہ اس کا خاوند ناراض ہو۲؎اور قوم کا امام کہ قوم اسے ناپسند کرے۳؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :"ثَلَاثَةٌ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ آذَانَهُمْ: الْعَبْدُ الْآبِقُ حَتّٰى يَرْجِعَ وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ وَإِمَامُ قَوْمٍ وَهُمْ لَهٗ كَارِهُونَ ".رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1122 ، باب : امامت کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تین شخص ہیں جن کی نماز قبول نہیں ہوتی جو کسی قوم کے آگے کھڑا ہوجائے حالانکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں اور وہ شخص جو نماز میں پیچھے آئے یہ کہ فوت ہونے کے بعد آئے ۱؎اور وہ شخص جو کسی آزاد کو غلام بنالے ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ لَا تُقْبَلُ مِنْهُمْ صَلَاتُهُمْ: مَنْ تَقَدَّمَ قَوْمًا وَهُمْ لَهٗ كَارِهُونَ وَرَجُلٌ أَتَى الصَّلَاةَ دِبَارًا وَالدِّبَارُ: أَنْ يَأْتِيَهَا بَعْدَ أَنْ تَفُوتَهٗ وَرَجُلٌ اعْتَبَدَ مُحَرَّرَةً ".رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1123 ، باب : امامت کا بیان
روایت ہے حضرت سلامہ بنت حر سے ۱؎فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ علامات قیامت سے یہ ہے کہ مسجد والے ایک دوسرے پر ٹالیں کوئی امام نہ پائیں جو انہیں نماز پڑھائے ۲؎(احمد،ابوداؤد، ابن ماجہ)
وَعَنْ سَلامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَتَدَافَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ » . رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1124 ، باب : امامت کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جہاد تم پر واجب ہے ہر امیر کے ساتھ نیک ہو بَد ۱؎اگرچہ گناہ کبیرہ کرے اور ہر مسلمان کے پیچھے تم پر نماز واجب ہے نیک ہو یا بد اگرچہ گناہ کبیرہ کرے ۲؎اور ہر مسلمان کی نماز جنازہ واجب ہے نیک ہو یا بد اگر چہ گناہ کبیرہ کرے ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى الله عَلَيْهِ وَسلم: «الْجِهَادُ وَاجِبٌ عَلَيْكُمْ مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ. وَالصَّلَاةٌ وَاجِبَةٌ عَلَيْكُمْ خَلْفَ كُلِّ مُسْلِمٌ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ. وَالصَّلَاةٌ وَاجِبَةٌ عَلیٰ كُلِّ مُسْلِمٌ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1125 ، باب : امامت کا بیان
روایت ہے حضرت عمرو بن سلمہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم لوگ گھاٹ پر رہتے تھے ہم پر قافلے گزرتے تھے ہم ان سے پوچھتے رہتے تھے کہ لوگوں کے کیا حال ہیں اور ان صاحب کا کیا حال ہے ۲؎وہ کہتے وہ فرماتے ہیں کہ الله نے انہیں رسول بنایا انہیں فلاں فلاں وحی کی میں اس وحی کو یاد کرتا رہتا تھا گویا وہ میرے سینے میں پیوست ہوجاتی تھی۳؎اہلِ عرب اسلام قبول کرنے میں فتح مکہ کے منتظر تھے کہتے تھے کہ انہیں ان کی قوم کے ساتھ چھوڑ دو اگر وہ ان پر غالب آجائیں تو سچے نبی ہیں ۴؎جب فتح مکہ کا واقعہ ہوگیا تو ہر قوم اسلام لانے میں جلدی کرنے لگی میرے والد اپنی قوم کی طرف سے اسلام لانے جلدی پہنچے۵؎جب آئے تو بولے خدا کی قسم میں سچے نبی کی طرف سے آرہا ہوں فرمایا کہ فلاں نماز فلاں وقت میں اور فلاں نماز فلاں وقت میں پڑھا کرو جب وقت نماز آئے تو تمہارا کوئی اذان دے اور امامت وہ کرے جسے قرآن زیادہ یا د ہو ۶؎انہوں نے دیکھا تو مجھ سے زیادہ قرآن دان کوئی نہ تھا کیونکہ میں قافلوں سے یاد کرتا رہتا تھا انہوں نے مجھے ہی آگے کردیا حالانکہ میں چھ یا سات سال کا تھا۷؎مجھ پر ایک چادر تھی کہ جب میں سجدہ کرتا تو چڑھ جاتی(کھل جاتی)قبیلہ کی ایک عورت بولی کہ اپنے قاری کے چوتڑ کیوں نہیں ڈھکتے تب انہوں نے میرے لیئے قمیص خرید کر کٹوائی مجھے جتنی خوشی اس قمیص سے ہوئی اتنی کسی سے نہ ہوئی تھی۸؎(بخاری)
عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلْمَةَ قَالَ: كُنَّا بِمَاء مَمَرِّ النَّاسِ وَكَانَ يَمُرُّ بِنَا الرُّكْبَانُ نَسْأَلُهُمْ مَا لِلنَّاسِ مَا لِلنَّاسِ؟ مَا هٰذَا الرَّجُلُ فَيَقُولُونَ يَزْعُمُ أَنَّ الله أَرْسلهُ أَوْحَى اليْهِ أَوْحَى اليْهِ كَذَا. فَكُنْتُ أَحْفَظُ ذٰلِكَ الْكَلَامَ فَكَأَنَّمَا يُغْرٰى فِي صَدْرِي وَكَانَتِ الْعَرَبُ تُلَوَّمُ بِإِسْلَامِهٖمُ الْفَتْحَ فَيَقُولُونَ اتْرُكُوهُ وَقَوْمَهٗ فَإِنَّهٗ إِنْ ظَهَرَ عَلَيْهِمْ فَهُوَ نَبِيٌّ صَادِقٌ فَلَمَّا كَانَتْ وَقْعَةُ الْفَتْحِ بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلَامِهِمْ وَبَدَرَ أَبِي قَوْمِي بِإِسْلَامِهِمْ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ جِئْتُكُمْ وَاللهِ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ حَقًّا فَقَالَ: «صَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِين كَذَا وصلوا صَلَاة كَذَا فِي حِينِ كَذَا فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنَ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمُّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا» فَنَظَرُوا فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي لِمَا كُنْتُ أَتَلَقّٰى مِنَ الرُّكْبَانِ فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَأَنَا ابْنُ سِتِّ أَوْ سَبْعِ سِنِينَ وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ كُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ تَقَلَّصَتْ عَنِّي فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْحَيِّ أَلَا تُغَطُّونَ عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ فَاشْتَرَوْا فَقَطَعُوا لِي قَمِيصًا فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ فَرَحِي بِذٰلِكَ الْقَمِيص. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1126 ، باب : امامت کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ جب پہلے مہاجر مدینہ میں آئے تو ان کی امامت ابو حذیفہ کے غلام سالم کرتے تھے حالانکہ ان میں حضرت عمر اور ابو سلمہ بن عبد الاسد ہوتے ۱؎(بخاری)
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ الْمَدِينَةَ كَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلٰى أَبِي حُذَيْفَةَ وَفِيهِمْ عُمَرُ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1127 ، باب : امامت کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تین شخص ہیں جن کی نماز ان کے سروں سے بالشت بھر اونچی نہیں اٹھتی وہ شخص جو کسی قوم کی امامت کرے جو اس سے ناراض ہوں اور وہ عورت جو رات گزارے حالانکہ اس کا خاوند اس پر ناراض ہو اور دو بائیکاٹ کرنے والے مسلمان بھائی ۱؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ لَا تُرْفَعُ لَهُمْ صَلَاتُهُمْ فَوْقَ رُؤُوْسِهِمْ شِبْرًا: رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهٗ كَارِهُونَ وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ وَأَخَوَانِ مُتَصَارِمَانِ ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1128 ، باب : امامت کا بیان