- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- جنازوں کا بیان
- باب : قبروں کی زیارت کابیان
باب : قبروں کی زیارت کابیان
جنازوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت بریدہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا۲؎اب زیارت کیا کرو۳؎اور میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت سے منع کیا تھا اب جب تک چاہو رکھو۴؎اور میں نے تمہیں مشکیزوں کے سواء میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا اب تمام برتنوں میں پیا کرو ہاں نشہ کی چیز نہ پینا ۵؎(مسلم)
عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي فَوْقَ ثَلَاثٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1762 ، باب : قبروں کی زیارت کابیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی ۱∞؎تو روئے اور اپنے اردگرد والوں کو رلایا۲؎پھر فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے ان کے لیے دعائے مغفرت کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اس کی اجازت نہ دی گئی اور ان کی قبر شریف کی زیارت کی اجازت مانگی اس کی مجھے اجازت دے دی گئی ۳؎قبروں کی زیارتیں کیاکرو کہ یہ موت یاد دلاتی ہیں(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهٖ فَبَكٰى وَأَبْكٰى مَنْ حَوْلَهَ فَقَالَ: «اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي وَاسْتَأْذَنْتُهٗ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأُذِنَ لِي فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1763 ، باب : قبروں کی زیارت کابیان
روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم انہیں سکھاتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو کہیں اے مؤمنوں اور مسلمانوں کے گھر والو تم پر سلام ہو ۱∞؎اِنْ شَاءَاللّٰهُہم بھی تم سے ملنے والے ہیں ۲؎ہم الله سے اپنے اور تمہارے لیے عافیت مانگتے ہیں۳؎(مسلم)
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى المَقَابِرِ: “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالِمُسْلِمينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ نَسْأَلُ اللهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1764 ، باب : قبروں کی زیارت کابیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم مدینہ میں کچھ قبروں پرگزرے تو ان کی طرف اپنا چہرہ پاک کیا ۱∞؎پھر فرمایا اے قبر والو تم پر سلام ہو، الله ہمیں اورتمہیں بخشے تم ہمارے اگلو ہو،ہم تمہارے پیچھے ۲؎(ترمذی)اورفرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورٍ بِالْمَدِينَةِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهٖ فَقَالَ: “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ يَغْفِرُ اللهُ لَنَا وَلَكُمْ أَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْأَثَرِ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1765 ، باب : قبروں کی زیارت کابیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ان کے ہاں شب کی باری ہوتی تو آپ آخر رات میں بقیع کی طرف نکل جاتے ۱∞؎فرماتے اے مؤمن قوم کے گھر والو تم پر سلام،تم سے جس چیز کا وعدہ تھا وہ تمہیں مل گئی کل کی تمہیں مہلت دی ہوئی ہے۲؎اوراِنْ شَاءَاللّٰهُہم بھی تم سے ملنے والے ہیں۳؎خدایا بقیع غرقد والوں کو بخش دے۴؎(مسلم)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا كَانَ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَى البَقِيعِ فَيَقُولُ: “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَأَتَاكُمْ مَا تُوعِدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1766 ، باب : قبروں کی زیارت کابیان
روایت ہے انہی سے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم میں زیارت قبور میں کیا کروں ۱∞؎فرمایا یوں کہا کرو کہ مؤمنوں مسلمانوں کے گھر والوں پر سلام ہو الله ہمارے اگلے پچھلوں پر رحم فرمائے اوراِنْ شَاءَاللّٰهُہم بھی تم سے ملنے والے ہیں۔(مسلم)
وَعَنْهَا قَالَتْ: كَيْفَ أَقُولُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ تَعْنِي فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ قَالَ: " قُولِي: السَّلَامُ عَلیٰ أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالِمُسْلِمينَ وَيَرْحَمُ اللهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَ الْمُسْتَأْخِرِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1767 ، باب : قبروں کی زیارت کابیان
روایت ہے حضرت محمد ابن نعمان سے وہ اس حدیث کو نبی صلی الله علیہ وسلم کی طرف مرفوع کرتے ہیں ۱∞؎فرمایا جو اپنے ماں باپ یا ان میں سے ایک کی قبر کی ہر جمعہ میں ۲؎زیارت کیا کرے تو اس کی بخشش کی جائے گی اور وہ بھلائی کرنے میں لکھا جائے گا۳؎(بیہقی ،شعب الایمان )
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ يُرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “مَنْ زَارَ قَبْرَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدِهِمَا فِي كُلِّ جُمُعَةٍ غُفِرَ لَهٗ وَكُتِبَ بَرًّا” . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ مُرْسَلًا
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1768 ، باب : قبروں کی زیارت کابیان
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا اب ان کی زیارتیں کیا کروکیونکہ یہ دنیا میں بے رغبتی اور آخرت کی یاد پیدا کرتی ہے ۱∞؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا وَتُذكِّرُ الآخِرَةَ » . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1769 ، باب : قبروں کی زیارت کابیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے قبر کی زیارت کرنے والیوں پر لعنت کی ۱∞؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حسن صحیح ہے اور فرمایا کہ بعض اہلِ علم نے سمجھا کہ یہ حکم اس سے پہلے تھا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم زیارت قبور کی اجازت دیں پھر جب اجازت دے ہی دی تو اس اجازت میں مرد عورتیں سب ہی آگئے،بعض نے فرمایا عورتوں کے لیے زیارت قبور ان کے صبر کی کمی اور بے صبری کی زیادتی کی وجہ سے مکروہ ہے ۲؎(ختم شد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ زَوَّارَاتِ الْقُبُورِ. رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَالَ: قَدْ رَأٰى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ هٰذَا كَانَ قَبْلَ أَنْ يُرَخِّصَ النَّبِيُّ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَلَمَّا رَخَّصَ دَخَلَ فِي رُخْصَتِهِ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا كَرِهَ زِيَارَةَ الْقُبُورِ لِلنِّسَاءِ لِقِلَّةِ صَبْرِهِنَّ وَكَثْرَةِ جَزَعِهِنَّ. تَمَّ كَلَامُهٗ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1770 ، باب : قبروں کی زیارت کابیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں اپنے گھر میں جس میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم مدفون ہیں یوں ہی چادر اٹکارے چلی جاتی تھی ۱∞؎اور کہتی تھی ایک میرے زوج ہیں اور ایک میرے والد پھر جب حضرت عمر دفن ہوگئے تو رب کی قسم حضرت عمر سے شرم کے باعث بغیر کپڑا لپیٹے اس گھر میں نہ گئی ۲؎(احمد)
وَعَنْ عَائِشَة قَالَتْ: كُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِيَ الَّذِي فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي وَاضِعٌ ثَوْبِي وَأَقُولُ: إِنَّمَا هُوَ زَوْجِي وَأَبِي فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَهُمْ فَوَاللهِ مَا دَخَلْتُهُ الا وَأَنَا مَشْدُودَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي حَيَاءً مِنْ عُمَرَ.رَوَاهُ أَحْمدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1771 ، باب : قبروں کی زیارت کابیان