Book Name:Dars e Taraveeh - 07 Ramazan - Para 07
ہمارے ہاں عموماً مصیبت ہی کو آزمائش سمجھا جاتا ہے، اس آیتِ کریمہ سے پتا چلتا ہے کہ نعمتوں کی کثرت بھی آزمائش ہے۔ امام حَسَن بصری رحمۃُ اللہ علیہ کا ارشاد ہے کہ اگر گُنَاہوں کے باوُجُود نعمتیں مل رہی ہوں تو ڈَر جانا چاہئے کہ ہو سکتا ہے اس میں اللہ پاک کی کوئی خفیہ تدبیر ہو۔([1])
آگے چل کر آیت: 63 اور 64 میں آزمائش اور نعمت سے متعلق ہی کفار کا ایک طرزِ عمل ذِکْر ہوا کہ کفّار پر جب کوئی مشکل آتی ہے، جب یہ پھنس جاتے ہیں تو اللہ پاک کو پُکارتے ہیں، لیکن جب مصیبت سے نجات پاتے ہیں تو دوبارہ اللہ پاک کا اِنْکار کرنے لگ جاتے ہیں۔
ساتوَیں پارے میں ایک بڑا پیارا مضمون یہ بھی ارشاد ہوا کہ ایک مرتبہ کفّارِ مکہ نے کہا: اے محمد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! غریب لوگ آپ کے پاس بیٹھے رہتے ہیں (ان کا اشارہ حضرت بِلال اور حضرت عمار بن یاسر رَضِیَ اللہ عنہما وغیرہ صحابہ کی طرف تھا)، آپ انہیں اپنے پاس سے اُٹھا دیجئے! ہم کلمہ پڑھ لیں گے۔([2]) اس پر پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد ہوا؛ اے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! یہ کفّار جنہیں غریب سمجھتے ہیں، اللہ پاک کے نیک بندے ہیں، صبح و شام اس کی عبادت کرتے ہیں، انہیں ہر گز اپنے سے دُور مت فرمائیے!
اسی ضمن میں ارشاد ہوا: جب یہ آپ کے غُلام آپ کی خِدْمت میں حاضِر ہوں تو انہیں سلام کہا کیجئے! اور خوشخبری سُنایا کیجئے کہ اللہ پاک نے ان کے لئے رحمت رکھی ہے۔