Book Name:Dars e Taraveeh - 07 Ramazan - Para 07
وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ(۸۴) (پارہ:7،سورۂ مائدہ:84)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور ہم طمع کرتے ہیں کہ ہمیں ہمارا رب نیک لوگوں کے ساتھ (جنت میں)داخل کر دے۔
ان کا یہ کہنا اللہ پاک کی بارگاہ میں قبول ہوا، ارشاد ہوا:
فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ(۸۵)
(پارہ:7،سورۂ مائدہ:85)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تو اللہ نے اُن کے اِس کہنے کے بدلے انہیں وہ باغات عطا فرمائے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ نیک لوگوں کی جزا ہے۔
آج کل کچھ لوگ اللہ پاک کے نیک بندوں، بزرگانِ دِین کی تحقیر کرتے ہوئے مَعاذَ اللہ ! ان کے لئے لفظ بابا استعمال کرتے ہیں اور بڑے گستاخانہ لہجے اِخْتیار کرتے ہیں، انہیں قرآنِ کریم کی ان آیات سے سبق لینا چاہئے۔ دیکھئے! صحابۂ کرام علیہم الرّضوان نے نیک لوگوں کا ساتھ مانگا تو ان کے اس قول پر اللہ پاک نے انہیں جنّت کی خوشخبری عطا فرما دی۔ اللہ پاک ہمیں بھی نیک لوگوں کا ساتھ ، ان کے رستے کی کامِل پیروی نصیب فرمائے۔
حلال کو حرام قرار دینے کی ممانعت
آیت: 87 اور 88 میں صحابۂ کرام علیہم الرّضوان کے ایک اور واقعہ کی طرف اشارہ ہے، ایک مرتبہ کچھ صحابۂ کرام علیہم الرّضوان نے خوفِ خُدا اور فِکْرِ آخرت میں مغلوب ہو کر قسم کھا لی تھی کہ آیندہ ہم اچھے کھانے نہ کھائیں گے، اچھے کپڑے نہ پہنیں گے، پہاڑوں میں نکل جائیں گے اور عبادت کر کے اللہ پاک کو راضی کریں گے۔ اس پر انہیں منع کیا گیا اور حکم ہوا کہ جو چیزیں حلال ہیں، انہیں حرام نہ ٹھہراؤ! حلال چیزوں سے جائِز