Book Name:Dars e Taraveeh - 07 Ramazan - Para 07
اس سے آگے آیت: 109 سے لے کر سُورۂ مائدہ کے اِختتام تک حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام کی شانیں بیان ہوئیں، خُلاصہ یہ ہے کہ *حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام کو خاصی تائید عطا ہوئی *آپ کی شان ہے کہ پیدا ہوتے ہی آپ نے کلام فرمایا *آپ کو انجیل عطا کی گئی، تورات اور انجیل کا عِلْم عطا ہوا *آپ مٹی کے پرندے بنا کر ان میں پھونک مارتے تو وہ زندہ ہو جاتے *اندھے اور کوڑھی کو ہاتھ لگا کر شفا بخشتے *مردوں کو زندہ فرما دیتے *بنی اسرائیل آپ کے خِلاف ہوئے تو اللہ پاک نے آپ کو ان کے شر سے نجات عطا فرمائی *حَوَّاریوں کو آپ کا اُمّتی بنایا، ایمان کی توفیق بخشی *آپ کے اُمتیوں نے عرض کیا: دُعا فرمائیے کہ اللہ پاک آسمان سے ہمارے لئے دسترخوان نازِل فرمائے، آپ کی دُعا قبول ہوئی اور آپ کی قوم کے لئے آسمان سے دسترخوان اُتارا گیا ۔
یہ سب انعامات ذِکْر کرنے کے بعد روزِ قیامت آپ کی شانوں کا بیان ہوا، آج جو لوگ آپ کو مَعَاذَ اللہ! خُدا اور خُدا کا بیٹا مانتے ہیں، ان کا رَدّ ہوا اور بتایا گیا کہ روزِ قیامت خُود حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام ہی ان مشرکوں سے براءَت (بری ہونے )کا اِظْہار فرما دیں گے۔
ساتویں پارے کےساتویں رکوع سے سُورۂ اَنعام کا آغاز ہوتا ہے، یہ مقدَّس سُورت ایک ہی رات میں مکمل نازِل ہو گئی تھی۔ حدیثِ پاک میں ہے: جب یہ سُورت نازِل ہوئی تو بڑی تعداد میں فرشتے تسبیح پڑھتے ہوئے آئے اور انہوں نے زمین و آسمان کے کنارے بھر دئیے۔ اس وقت پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے 3مرتبہ سُبْحٰنَ