Book Name:Dars e Taraveeh - 07 Ramazan - Para 07
تب بھی کلمہ انہوں نے نہیں پڑھنا تھا۔
آیت: 11 میں عبرت کے لئے سفَر کا حکم دیا گیا کہ گھروں سے نکلو، نشاناتِ عبرت دیکھو! غور کرو کہ پہلے نافرمانوں کا کیا حال ہوا...!!
یہاں سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ سَفَر عبرت کے لئے بھی ہوتا ہے، ہمارےہاں لوگ محض سیر و تفریح کے لئے ہی سَفَر کرتے ہیں۔ ہمیں عبرت حاصل کرنےکے لئے بھی سفر کرنا چاہئے۔
آیت 18 میں ارشاد ہوا: اللہ پاک اپنے بندوں پر غالِب ہے۔
اسی ضمن میں فرمایا گیا کہ اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچ جائے تو جب تک اللہ پاک نہ چاہےتو کوئی اس مصیبت کو ٹال نہیں سکتا۔ جب ہم اتنے کمزور ہیں، اللہ پاک کی قدرت لمحہ لمحہ ہمارے اُوپَر اَثَر انداز ہے، ہم بیمار ہوں، ڈاکٹر لاکھ کوششیں کر لے، اللہ پاک نہ چاہے تو شفا نہیں مل سکتی۔ جب ہماری یہ اَوْقات ہے تو ہمیں میں، میں کرنے کا حق ہی کیا رہ جاتا ہے، چاہئے کہ عاجزی و انکساری کا پیکر بن کر اللہ پاک کے حُضُور سَر جھکائے رکھیں ۔
ساتویں پارے کے اَہَم مضاٰمِیْن میں سے اِثْباتِ قیامت بھی ہے، کفّار و مشرکین چونکہ قیامت آنے کا انکار کرتے تھے، ان کا کہنا تھا کہ بس یہی دُنیاوِی زندگی ہے، ہم یہاں زندہ ہیں، جب مر جائیں گے تو بَس قصہ ختم ہو جائے گا۔ آج کل بھی لِبْرَل لوگ، مُلْحِدِین (یعنی اللہ پاک کے وُجُود کا اِنْکار) کرنے والے یہی کہتے ہیں۔ سُورۂ انعام میں قیامت آنے پر متعدد