Book Name:Dars e Taraveeh - 07 Ramazan - Para 07
طور پر فائدہ اُٹھانا درست ہے۔ تم حَدْ سے نہ بڑھو...!! ([1])
ان صحابۂ کرام علیہم الرّضوان نے چونکہ قسمیں کھا لی تھیں، انہیں ان قسموں سے باز آنے کا حکم دیا گیا، لہٰذا اس کے ساتھ ہی قسم کا کفّارہ بھی ارشاد ہوا کہ جو بندہ آیندہ کوئی قسم کھائے، پِھر اسے توڑ دے یا کسی شرعِی وجہ ہی سے توڑنی پڑے تو اس کا کفّارہ یہ ہے کہ 10 مسکینوں کو درمیانے درجے کا کھانا کھلایا جائے * یا انہیں کپڑے پیش کئے جائیں *یا غُلام آزاد کیا جائے *جو یہ تینوں کام نہ کر سکے تو وہ 3روزے رکھے۔ ([2])
آیت: 90-93 شراب اور جُوئے وغیرہ کی حُرْمت سے متعلق اَحْکامات ذِکْر ہوئے، یہاں یہ بھی فرمایا گیا کہ (1):شراب (2):جُوا (3):بُت (4):اور پانسے کے تِیْر (یعنی فال نکالنا) یہ سب شیطانی کام ہیں، ان سب سے بچتے رہو!
صحابۂ کرام کی آزمائش اور کامیابی
آیت: 94 تا 96 شکار کے کچھ اَحْکام بیان ہوئے اور حالتِ اِحْرام میں شکار سے منع کیا گیا، اس جگہ صحابۂ کرام علیہم الرّضوان کے جذبۂ اِطاعت کا اِیْمان افروز واقعہ بھی ذِکْر ہوا، صحابۂ کرام علیہم الرّضوان کی آزمائش یوں ہوئی کہ انہیں حالتِ اِحْرام میں شکار سے منع کر دیا گیا، ساتھ ہی جب یہ اِحْرام باندھے حرمِ پاک میں پہنچے تو ان کے پسندیدہ پرندے اور جانور بالکل ان کے قریب کر دئیے گئے، صحابۂ کرام فرماتے ہیں: اس روز حالت ایسی تھی کہ اگر