Dars e Taraveeh - 07 Ramazan - Para 07

Book Name:Dars e Taraveeh - 07 Ramazan - Para 07

دَلائل دئیے گئے ہیں۔ اور بتایا گیا کہ جب قیامت آجائے گی، یہ مُنْکِر  اللہ پاک کے حُضور حاضِر ہو جائیں گے، تب کہیں گے کہ اے مالِکِ کریم! اب ہم پر حق واضِح ہو گیا، ہمیں دُنیا میں واپس بھیج، اب ہم نیکیاں کر کے دوبارہ آئیں گے۔ مگر اب انہیں مہلت نہ دی جائے گی۔

تَوَجُّہ سے سُنا کیجئے...!!

آیت: 36 میں ایک اَہَم بات ارشاد ہوئی کہ وَعْظ و نصیحت مانتا وہ ہے جو تَوَجُّہ سے سنتا ہے۔ جو سُنتا ہی نہ ہو، وہ مانے گا کیا۔ اس میں ہمارے لئے سبق ہے، ہمارے ہاں عموماً عُلَمائے کرام پر باتیں کی جاتی ہیں، یہ لوگ بتاتے نہیں ہیں، سمجھاتے نہیں ہیں، بیانات، وعظ و نصیحت کے موضوعات اچھے نہیں ہوتے۔  غور طلب بات یہ ہے کہ ہم سُنتے کیسے ہیں؟ عُلَمائے کرام تو قرآن  و حدیث کے احکام ہمیں سُنا ہی رہے ہوتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ اَوَّل ہم توجّہ سے سنتے نہیں ہیں، سن لیں تو اس پر عَمَل نہیں کرتے۔ اللہ پاک ہمیں تَوَجُّہ سے سننے کی توفیق نصیب فرمائے۔

اٰمِیْن بجاہ خاتم النبین  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  ۔ 

مصیبت آنے کی ایک حکمت

آیت: 43 اور 44 میں ایک اَہَم بات یہ ارشاد ہوئی کہ مصیبت ، پریشانی اس لئے آتی ہے تاکہ لوگ اس سے سبق سیکھیں، اللہ پاک کے حُضور گڑگڑائیں مگر بہت لوگ اس سے عبرت نہیں لیتے۔

اسی ضمن میں یہ بھی ارشاد ہوا کہ بعض دفعہ اللہ پاک جس سے ناراض ہوتا ہے، اس پر  مال، دولت اور نعمتوں کی کثرت فرما دیتا ہے، جب بندہ انہی نعمتوں میں کھویا ہوتا ہے، تبھی اچانک پکڑ ہو جاتی ہے بندہ ہلاک ہو جاتا ہے۔