Book Name:Dars e Taraveeh - 07 Ramazan - Para 07
حضرت ابراہیم کا اِعْلانِ توحید
آیت: 74 سے 83 تک حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کی شانوں کا بیان ہوا، آپ علیہ السَّلام کو معراج ہوئی، اللہ پاک نے زمین ہی پر ایک جگہ ٹھہرا کر آپ کو زمین و آسمان کی تمام بادشاہی دکھا دی۔
اسی ضمن میں آپ کے اِعْلانِ توحید کا ذِکْر ہوا کہ آپ نے ستارہ دیکھا تو کفّار کو سمجھانے کے لئے فرمایا: کیا یہ خُدا ہے؟ جب وہ ڈوب گیا تو فرمایا: میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا * پِھر چاند کو دیکھ کر فرمایا: کیا یہ خُدا ہے؟ جب وہ بھی ڈوب گیا تو فرمایا: اللہ پاک نے مجھے ہدایت بخشی ہے *جب سُورج کو دیکھا تو فرمایا: کیا یہ خُدا ہے؟ جب وہ بھی ڈوب گیا تو فرمایا: اے قوم...!! میں تمہارے اس شرک سے بیزار ہوں۔
آیت: 93 میں نبوت کے جھوٹے دعویداروں کا انجام بیان ہوا کہ جو بدبخت نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے ، جب ان کا آخری وقت آتا ہے تو فرشتے ہاتھ پھیلا کر کہتے ہیں: لاؤ! اپنی جان نکالو...!! آج تمہیں ذِلّت کا عذاب دیا جائے گا ۔
ساتویں پارے کے آخر میں اللہ پاک کی قدرت کی نشانیاں ذِکْر ہوئیں، ان سے اللہ پاک کے وُجُود پر اِسْتِدْلال کیا گیا ، مثلاً ارشاد ہوا: *اللہ پاک وہی ہے جو زمین میں گٹھلی کو چیر کر اس سے پودا نکالتا ہے *وہی زندہ سے مردہ، مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے *وہ رات کی تاریکی کو چیر کر صبح نکالنے والا ہے *اسی نے رات کو آرام کا ذریعہ بنایا *اسی نے چاند اور