Book Name:Dars e Taraveeh - 07 Ramazan - Para 07
ہم چاہتے تو ہاتھ ہی سے ان جانوروں کو پکڑ لیتے۔ ([1])
چونکہ ان جانوروں کا شکار منع تھا، لہٰذا صحابۂ کرام علیہم الرّضوان اس آزمائش میں پورے اُترے اور انہوں نے کسی بھی جانور کا شکار نہ کیا۔
اس سے صحابۂ کرام علیہم الرّضوان کا جذبۂ اطاعت معلوم ہوا کہ اَسْباب سب جمع ہو گئے تھے، اس کے باوُجُود یہ حضرات حکمِ اِلٰہی کے پابند رہے۔ پتا چلا؛ نافرمانی کے اَسْباب میسر ہوں، تب بھی نافرمانی سے بچے رہنا، یہ اَصْل فرمانبرداری ہے۔ ہمارے ہاں اب گناہوں کے اسباب بہت عام ہو گئے۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ خواہ اسباب کی کثرت ہو، ہم نفس پر کنٹرول کر کے گُناہوں سے بچتے ہی رہا کریں۔
آیت: 100 میں ایک اَہَم مضمون ارشاد ہوا کہ گندا اور پاک (یعنی بُرائی اور بھلائی) برابر نہیں، اگرچہ گندگی، بُرائی تعداد میں زیادہ ہی کیوں نہ ہو، تب بھی برائی آخر بُرائی ہی ہے، کثرت کو سچّائی اور اچھائی کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔
آج کل بعض نادان ہیں، جو یوٹیوب اور فیس بُک وغیرہ پر اپنے فالورز کی کثرت کو اپنی حقانیت کی دلیل بناتے ہیں، ایسے نادانوں کو اس آیتِ قرآنی سے سبق حاصِل کرنا چاہئے۔
آیت: 106، 107 اور 108 میں وَصِیت اور وَصِیّت کی گواہی کے متعلق اَہَم مسائِل بیان ہوئے۔