Book Name:Dars e Taraveeh - 04 Ramazan - Para 04
آیت: 180 میں ارشاد ہوا کہ کنجوسی بُری چیز ہے، جو کنجوسی کرتے ہیں، یہ نہ سمجھیں کہ کنجوسی اُن کے حق میں بہتری لائے گی بلکہ یہ اُن کے لئے بُری ہے، اُن کا مال روزِ قیامت انہیں کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا۔
صبر، رباط اور تقویٰ کامیابی دِلاتے ہیں
سُورۂ آلِ عمران کی آخری آیت میں 3 حکم دئیے گئے: (1):صبر اِخْتیار کرو! (2):اپنی سرحدوں کی حفاظت کرو! (3):اللہ پاک سے ہمیشہ ڈرتے رہو...! یہ تینوں کام تمہاری کامیابی کی ضمانت ہیں۔
سُورۂ بقرہ کی طرح سُورۂ آلِ عمران کے آخری رکوع میں بھی ایک اِیْمان افروز دُعا سکھائی گئی، ارشاد ہوا: جو اَہْلِ عقل و دانش ہیں، وہ زمین و آسمان کی تخلیق میں غور و فِکْر کرتے ہیں، کھڑے کھڑے، بیٹھ کر، لیٹ کر اللہ پاک کا ذِکْر کرتے ہیں اور اپنے رَبّ کے حُضُور یُوں عرض گزار ہوتے ہیں:
رَبَّنَا
مَا
خَلَقْتَ
هٰذَا
بَاطِلًاۚ-سُبْحٰنَكَ
فَقِنَا
عَذَابَ
النَّارِ(۱۹۱) رَبَّنَاۤ
اِنَّكَ
مَنْ
تُدْخِلِ
النَّارَ
فَقَدْ
اَخْزَیْتَهٗؕ-وَ
مَا لِلظّٰلِمِیْنَ
مِنْ
اَنْصَارٍ(۱۹۲)
رَبَّنَاۤ
اِنَّنَا
سَمِعْنَا
مُنَادِیًا
یُّنَادِیْ
لِلْاِیْمَانِ
اَنْ اٰمِنُوْا
بِرَبِّكُمْ
فَاٰمَنَّا
ﳓ رَبَّنَا
فَاغْفِرْ
لَنَا
ذُنُوْبَنَا
وَ كَفِّرْ
عَنَّا
سَیِّاٰتِنَا
وَ تَوَفَّنَا
مَعَ
الْاَبْرَارِۚ(۱۹۳)
رَبَّنَا
وَ اٰتِنَا
مَا
وَعَدْتَّنَا
عَلٰى
رُسُلِكَ
وَ لَا
تُخْزِنَا
یَوْمَ
الْقِیٰمَةِؕ-اِنَّكَ