Book Name:Dars e Taraveeh - 04 Ramazan - Para 04
غیر مسلم اور منافق کو اپنا خیر خواہ مت سمجھو...!!
صبر و تقویٰ مددِ اِلٰہی ملنے کا ذریعہ ہیں
آیت: 121 سے 129 تک غزوۂ بدر میں جو فرشتے مدد کے لئے حاضِر ہوئے تھے، اِس مددِ اِلٰہی کا ذِکْر ہے۔ اِس ضمن میں ارشاد ہوا کہ اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اپناؤ تو اللہ پاک تمہاری فوری مدد فرمائے گا۔
اِس سے سبق ملتا ہے کہ صبر اور تقویٰ اللہ پاک کی خاص مدد اور نصرت ملنے کا ذریعہ ہیں، لہٰذا اُمّتِ مسلمہ کو چاہئے کہ صبر و تقویٰ کا دامن ہمیشہ تھامے رکھے، اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! ہر موڑ اور میدان میں اللہ پاک کی مدد نصیب ہوتی رہے گی۔
آیت: 132 میں اللہ و رسول کی کامِل اطاعت اور فرمانبرداری کا حکم دیا گیا، یہ اُمّتِ مسلمہ کی ترقی و کامیابی کا سب سے اَہَم تَرِین اُصُول ہے۔
غزوۂ اُحُد اسلامی تاریخ کا اَہَم ترین واقعہ ہے، اِس غزوے کے وقت پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے کچھ تیر اندازوں کو ایک جگہ مقرَّر کر کے فرمایا تھا کہ جب تک میں نہ کہوں، اِس جگہ سے مت ہٹنا۔ چنانچہ جنگ ہوئی، مسلمانوں کو فتح نصیب ہو گئی، کفّارِ مکہ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے، جب ان تیر اندازوں نے یہ دیکھا تو ان میں سے کچھ نے اپنی جگہ چھوڑ دی اور مالِ غنیمت جمع کرنے میں مَصْرُوف ہو گئے۔ وہ جگہ خالی دیکھ کر کفّارِ مکہ کو موقع مل گیا، اب انہوں نے آگے پیچھے سے حملہ کر دیا، مسلمان درمیان میں آگئے۔ اس وقت