Book Name:Dars e Taraveeh - 04 Ramazan - Para 04
نام کو ہی اللہ پاک سے محبّت نہیں رکھتے بلکہ خُوشی غمی، دُکھ سکھ ہر حال میں اِیْمان پر ثابت قدم رہ کر اپنی محبّتِ اِلٰہی کا عملی ثبوت بھی دیتے ہیں۔ اسی ضمن میں کچھ آگے چل کر شہیدوں کے فضائل بیان ہوئے اور ارشاد فرمایا: ہرگز شہید کو مردَہ خیال مت کرنا...!! شہید زندہ ہے اور اللہ پاک کے ہاں رِزْق دیا جاتا ہے
*غزوۂ اُحُد میں نقصان کا بنیادی سبب رسولِ اکرم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی نافرمانی تھی کہ اُن تیر اندازوں نے آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے حکم کا خِلاف کیا، اللہ پاک نے ان کے اس عمل کی معافی کا اعلان بھی فرما دیا، البتہ! اِس کے نتائج بھی سامنے آنے ہی تھے اور آ گئے۔ اِس سے چاہئے کہ مسلمان سبق سیکھیں اور کبھی بھی رسولِ اکرم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی نافرمانی نہ کریں، ورنہ نقصان ہی اُٹھانا پڑے گا۔
*غزوۂ اُحُد میں نقصان اُٹھانے کا ایک سبب آپسی اِخْتلاف بھی بنا، لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ ہر گز اِخْتلاف میں نہ پڑیں بلکہ اُخُوَّت و بھائی چارے کی زندہ مثال بن کر رہا کریں۔
آیت: 159 میں ارشاد ہوا کہ پیارے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم خُدا کے فضل سے نہایت نَرْم دِل ہیں، خدانخواستہ اگر ایسا نہ ہوتا تو زمانۂ جاہلیت کے دَسْتُور ہر گز نہ بدلتے اور اُمّت کا شیرازہ بکھر کر رہ جاتا۔
اسی آیتِ کریمہ میں اُمّت کی کامیابی کے 3 اُصُول ارشاد ہوئے: (1):مشاوَرَت کہ کوئی کام بغیر مشورہ کے نہ کیا جائے (2):عزم و ہمت کہ جو بات مشاورت سے طے ہو جائے، اب اِس پر عمل کے لئے پُرعزم ہو جاؤ! (3):اللہ پاک پر بھروسہ اور یقین رکھو! بیشک اللہ پاک تَوَکُّل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔