Book Name:Dars e Taraveeh - 04 Ramazan - Para 04
یہود نے اسلام پر ایک اعتراض یہ بھی کیا کہ مسلمانوں کا قبلہ کعبہ ہے، ہمارا قبلہ بیت المقدس ہے، چونکہ ہمارا قبلہ پہلے ہے، لہٰذا ہم اَوَّل ہوئے۔ آیت: 96 اور 97 میں اس کا جواب دیا گیا کہ دُنیا میں پہلا گھر جو عبادت کے لئے بنایا گیا وہ کعبہ شریف ہی ہے، اِس میں اللہ پاک کی بہت ساری نشانیاں ہیں، جن میں سے ایک مقامِ ابراہیم بھی ہے۔
اِس کے ساتھ ہی حج کی فرضیت کا حکم بھی دیا گیا کہ جو بندہ کعبہ شریف تک پہنچ پانے کی طاقت رکھتا ہو (یعنی اس کے پاس راستے کا خرچ اور سُواری ہو) اِس پر کعبے کا حج فرض ہے۔
اِس ابتدائی بیان کے بعد اُمّتِ مسلمہ کی ترقی و کامیابی کے اُصُولوں کا بیان شروع ہوتا ہے، چنانچہ
اِس ضمن میں پہلا حکم یہ دیا گیا کہ اے ایمان والو...!! اَہْلِ کتاب کی باتوں میں ہر گز مت آنا، ورنہ یہ تمہیں کفر اور گمراہی میں مُبتلا کر ڈالیں گے۔
یہی حکم آگے چل کر آیت: 149 میں بھی دیا گیا ہے اور چوتھے ہی پارے میں اِس کی مزید تفصیلات بھی بیان ہوئی ہیں۔
اُمّتِ مسلمہ کی ترقی و کامیابی کا دوسرا اُصُول یہ دیا گیا کہ اے اَہْلِ ایمان...!!اللہ پاک کی رَسِّی (مثلاً قرآنِ کریم اور دامنِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم) کو مضبوط تھام لو...! ٹکڑوں میں مت بٹو! بلکہ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہا کرو...!!