Dars e Taraveeh - 04 Ramazan - Para 04

Book Name:Dars e Taraveeh - 04 Ramazan - Para 04

مُنَظَّم طریقے سے نیکی کی دعوت

آیت: 104 میں تیسرا اُصُول بیان ہوا کہ نیکی کی دعوت عام کرنے کے لئے تنظیمی طریقہ اپناؤ! تم میں ایک گروہ ہونا چاہئے جن کا کام عِلْمِ دِین سیکھنا، دِین کی سمجھ حاصِل کرنا اور دوسروں تک نیکی کی دعوت پہنچانا ہو۔

خیرِ اُمّت کا لقب

آیت: 110 میں اُمّتِ مسلمہ کو خیرِ اُمّت کا لقب دیا گیا۔ اِس لقب کا حاصِل یہ ہے کہ یہ اُمّت آئیڈیل اُمّت ہے، لہٰذا ہمیشہ ہر کام، ہر لحاظ سے اِس اُمّت کو ایسا بن کر رہنا چاہئے کہ دوسری قومیں اِس اُمّت کی پیروی کریں اور اُسے اپنا آئیڈیل بنائیں۔

افسوس! اب ہماری اکثریت اِس درسِ قرآنی کے اُلٹ چل رہی ہے، ہمارا رُتبہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے لئے آئیڈیل بنیں مگر اب مسلمانوں کی اکثریت غیر مسلموں کو اپنا آئیڈیل بناتی دِکھائی دے رہی ہے۔ اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے۔

اسی آیتِ کریمہ میں فرمایا گیا کہ تمہارے دُنیا میں وُجُود کا حاصِل یہ ہے کہ تم نیکی کا حکم دو اور بُرائی سے منع کیا کرو...!! یہ اُمّتِ مسلمہ کا سب سے اَہَم ، بنیادی اور مقصُود کام ہے۔

راز داری، دوستی و محبّت کے چند احکام

اُمّتِ مسلمہ کی کامیابی کا چوتھا اُصُول  ارشاد ہوا: مسلمانوں کے سِوا  کسی  کو ہر گز اپنا راز دار نہ بناؤ!  تم تو وہ ہو کہ انسانیت کے تحت اُن سے محبتوں کا اِظْہار کرتے ہو مگر وہ  تم سے محبّت نہیں کرتے بلکہ تنہائی میں  تم پر انگلیاں چباتے یعنی انتہائی نفرت کا اظہار کرتے ہیں، تمہیں بھلائی ملے تو انہیں بُرا لگتا ہے، تم پر تکلیف آئے تو وہ خوش ہوتے ہیں، لہٰذا کسی بھی