Dars e Taraveeh - 04 Ramazan - Para 04

Book Name:Dars e Taraveeh - 04 Ramazan - Para 04

مسلمانوں کو کافی نقصان اُٹھانا پڑا۔ سُورۂ آلِ عمران میں اس واقعہ پر تفصیلی تبصرہ کیا گیا، اس سے ملنے والے سبق سمجھائے گئے:

چند اسباق یہ ہیں: *یہ اَیّام ہیں جو بدل بدل کر آتے رہتے ہیں، کبھی ایک قوم کا پلڑا بھاری ہوتا ہے، کبھی دوسری کا، لہٰذا ایسی وقتی آزمائشوں کو دیکھ کر دِل چھوٹا نہیں کرنا چاہئے، اگر تم اِیْمان دار رَہو! اپنا اِیْمان مضبوط رکھو تو تم ہی ہمیشہ بلند اور غالِب رہو گے۔

آج کل بھی بعض لوگ غیر مسلموں کا عارضی سیاسی غلبہ دیکھ کر احساسِ کمتری کا شکار ہوتے رہتے ہیں، انہیں چاہئے کہ  مسلمانوں کی 1300 سالہ تاریخی وجاہت کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھیں، آج اگر وقتی طور پر غیر مسلموں کو کسی حَدْ تک   کچھ غلبہ ملا بھی ہوا ہے تو یہ محض عارضی ہے۔ ڈاکٹر اقبال نے کہا تھا:

نہیں ہے نا اُمید اقبال اپنی کشتِ وِیْراں سے

ذرا        نَمْ        ہو        تو        یہ        مٹی        بہت        زرخیز         ہے         ساقی([1])

وضاحت: یعنی مسلمان کا دِل بہت زرخیز ہے، اسے بَس ذرا سی نمی چاہئے، یہ پِھر سے سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے۔

اسی ضمن میں  آگے چل کر آیت: 186 میں ارشاد ہوا کہ تم پر جانی، مالی آزمائشیں آتی ہی رہیں گی، اَہْلِ کتاب  اور مشرکوں کی جانِب سے تمہیں طعنے بازیاں اور تکلیف دِہ باتیں سننے کو ملتی رہیں گے، ایسے مواقع پر صبر اور تقویٰ اِخْتیار کرو! کہ یہ ہمت و حوصلے کا کام ہے۔

*ان آزمائشوں کے ذریعے مسلمانوں کی اِیْمانی قوت کو ظاہِر کیا جاتا ہے *انہیں رُتبۂ شہادت عطا کیا جاتا ہے *اور زمانے کو دکھا دیا جاتا ہے کہ مسلمان بس


 

 



[1]...کلیات اقبال، بال جبرئیل، غزلیات( حصہ اول)،  صفحہ:351۔