Book Name:Dars e Taraveeh - 04 Ramazan - Para 04
عمل دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ یہ اپنی پسندیدہ چیزیں راہِ خُدا میں خرچ کرنے میں بہت جلدی کرتے تھے *.جب یہ آیت نازِل ہوئی، حضرت ابوطلحہ انصاری رَضِیَ اللہ عنہ حاضِر تھے، انہوں نے آیتِ کریمہ سنتے ہی اپنا پسندیدہ باغ راہِ خُدا میں خیرات کر دیا([1]) *.حضرت زید بن حارثہ رَضِیَ اللہ عنہ نے آیتِ کریمہ سُنی تو اپنا پسندیدہ گھوڑا راہِ خُدا میں دے دیا ۔([2])
اللہ پاک ہمیں بھی ایسی ہمّت اور جذبہ نصیب فرمائے۔
اُونٹنی کے گوشت اور دود ھ کا حکم
تیسرے سپارے میں یہ بیان ہوا تھا کہ یہ اسلام دینِ ابراہیمی ہے اور غُلامانِ مصطفےٰ ہی حقیقت میں اِبراہیمی کہلانے کے حقدار ہیں، اِس پر یہود نے اعتراض کیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کے دِین میں اُونٹ حرام تھا، آپ اسے حلال جانتے ہیں، لہٰذا آپ ابراہیمی نہ ہوئے۔ آیت:93 سے 95 تک اِس اعتراض کا جواب دیا گیا اور صاف بتا دیا گیا کہ اُونٹ کا گوشت دِینِ ابراہیمی میں حرام نہیں تھا، وہ تو حضرت یعقوب علیہ السَّلام نے کسی سبب سے خُود پر حرام قرار دیا تھا۔
یہود نے قرآنِ کریم کے اِس ارشاد کا اِنْکار کیا تو پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: اگر سچّے ہو تو تورات لے آؤ! اُسی سے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ ہو جائے گا۔ یہود چونکہ جانتے تھے کہ تورات میں وہی کچھ لکھا ہے جو قرآن میں آیا ہے، چنانچہ انہیں اپنی ذِلّت کا خوف ہوا اور تورات لانے سے انکاری ہو گئے۔([3])