Book Name:Dars e Taraveeh - 03 Ramazan - Para 03
حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام کی وِلادت کا واقعہ
سُورۂ آلِ عمران کی آیت: 33 سے حضرت مریَم، حضرت عیسیٰ اور حضرت یحیٰ علیہمُ السَّلام کی وِلادت کے واقعات شروع ہوتے ہیں۔ اس جگہ ان تینوں بزرگوں کی وِلادت، ان کے فضائل ، حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام کے معجزات اور حضرت مریَم رحمۃُ اللہ علیہا کی کرامات تفصیلاً بیان ہوئی ہیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ انبیائے کرام علیہمُ السَّلام کے معجزات بھی حق ہیں اور اولیائے کرام کی کرامات بھی حق ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام کا آسمان پر اُٹھایا جانا
آیت: 54 اور 55 میں حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام کے زندہ آسمان پر اُٹھائے جانے کا بیان ہوا، اس واقعہ کی مزید تفصیلات چھٹے پارے میں آئی ہیں، وہیں اس کی تفصیلات عرض کی جائیں گی۔
سُورۂ آلِ عمران کی ابتدائی 80 آیات وَفْدِ نجران کے تعلق سے اُتری تھیں، نَجْران ایک علاقہ ہے، ایک مرتبہ وہاں کے رہنے والے عیسائی بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے، یہ لوگ مَعاذَ اللہ !حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خُدا مانتے تھے، اسی موضوع پر پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ان کا مناظرہ ہوا، ان کی دلیل یہ تھی کہ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام بِنْ باپ کے پیدا ہوئے اور کوئی انسان بِن باپ کے نہیں پیدا ہوتا، لہٰذا آپ انسان نہیں بلکہ خُدا ہیں۔ پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: تب تو آدم علیہ السَّلام کو بھی خُدا ماننا چاہئے کیونکہ آپ بِن باپ اور بِن ماں کے پیدا ہوئے، جب تم لوگ آدم علیہ السَّلام کو اللہ پاک کا بندہ اور نبی مانتے ہو تو حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام جو پاک کنواری مریَم سے پیدا ہوئے،