Book Name:Dars e Taraveeh - 03 Ramazan - Para 03
ایک خُدا ہے، وہی عبادت کے لائق ہے، زمین و آسمان کا مالِک ہے، اس کی قدرت تمام کائنات کو گھیرے ہوئے ہے، بہت بلند، نہایت عظمت والا ہے۔
(3):مرنے کے بعد اُٹھنا یقینی ہے
تیسرے پارے کے دوسرے رکوع میں اُوپَر نیچے 3 واقعات ذِکْر ہوئے ہیں:
پہلا واقعہ: ایک مرتبہاللہ پاک کے وُجُود کے متعلق حضرت ابراہیم علیہ السَّلام اور نمرود کا مُنَاظَرہ ہوا۔ حضرت ابراہیم علیہ السَّلام نے فرمایا: میرا رَبّ وہ ہے جو زندہ بھی کرتا ہے، موت بھی دیتا ہے۔ نمرود بولا: یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں۔ پِھر اس نے 2 قیدی بُلْوائے، ایک کو زندہ چھوڑ دیا، دوسرے کو مار ڈالا اور بولا: دیکھو! زندگی موت کا اختیار میرے پاس بھی ہے۔
اللہ اکبر! کہاں بےجان وُجُود کو زندہ کرنا اور کہاں زندہ انسان کو زندہ رہنے دینا...!! دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ نمرود چونکہ بےوقوف تھا، لہٰذا حضرت ابراہیم علیہ السَّلام نے اس سے بحث کرنے کی بجائے دلیل تبدیل کی، فرمایا: میرا رَبّ وہ ہے جو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تم اسے مغرب سے نکال کر دِکھا دو...! یہ سُنا تو نمرود کے ہوش اُڑ گئے اور وہ خاموش ہو گیا۔
دوسرا واقعہ: ایک مرتبہ حضرت عُزیر علیہ السَّلام ایک بستی کے قریب سے گزرے، دیکھا؛ وہ بستی اُجْڑی پڑی تھی، گھر گِرے ہوئے تھے، لاشیں بکھری ہوئی تھیں، آپ نے حیرت میں ڈوب کر کہا: واہ...!! اللہ پاک انہیں دوبارہ کیسے زندہ فرما دے گا...!! آپ کی اس حیرت کے جواب میں آپ کو مرنے کے بعد زندہ ہونے کا عملی تجربہ