Book Name:Dars e Taraveeh - 03 Ramazan - Para 03
اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیّٖن
اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہ وَعَلٰی آلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَاحَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَانَبِیَّ اللہ وَعَلٰی آلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَانُوْرَ اللہ
نَوَیْتُ سُنَّتَ الْاِعْتِکَاف
پیارے اسلامی بھائیو! آج ہم اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! تیسرے پارے کے مضامین کا خُلاصہ سننے کی سعادت حاصِل کریں گے۔
تیسرے پارے کے پہلے 8 رکوع سُورۂ بقرہ کے ہیں، اس کے بعد سُورۂ آلِ عمران شروع ہو جاتی ہے۔ سُورۂ آلِ عمران کی کُل 200 آیات ہیں، جن میں سے 91 آیات تیسرے پارے میں ہیں۔
تیسرے پارے کی بالکل پہلی ہی آیت میں عقیدۂ رسالت سے متعلق ایک اہم اُصُول بیان ہوا ہے کہ اللہ پاک نے جتنے رسول بھیجے، وہ سب کے سب تمام جہانوں پر فضیلت رکھنے والے ہیں، کوئی غیرِ نبی کسی نبی سے ہر گز افضل نہیں ہو سکتا،([1]) البتہ! انبیاء اور رسول آپس میں ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے ہیں۔ مثلاً *.حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کو اللہ پاک نے ہم کلامی کا شرف عطا فرمایا، یہ آپ کی امتیازی شان ہے *.حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام کو خصوصی تائید اور خاص معجزات عطا کئے گئے، یہ آپ کی امتیازی شان ہے *.اسی طرح