Dars e Taraveeh - 03 Ramazan - Para 03

Book Name:Dars e Taraveeh - 03 Ramazan - Para 03

انہیں اللہ پاک کا بندہ ماننا زیادہ ضروری ہے۔

جب یہ دلیل کے میدان میں ہارنے کے باوُجُود حق بات ماننے کو تیار نہ ہوئے تو آیت: 61 میں انہیں مباہَلہ کی دعوت دی گئی، یعنی کہا گیا کہ کھلے میدان میں آؤ! ہم ایک دوسرے  کے خِلاف دُعا کرتے ہیں، جو جھوٹا ہو گا، اللہ پاک اسے ہلاک فرما دے گا۔ اَہْلِ نجران چونکہ جانتے تھے کہ محمد  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  سچے نبی ہیں، آپ نے دُعا فرمائی تو ہم ہلاک ہو جائیں گے، لہٰذا یہ مباہلے کے لئے تیار نہ ہوئے۔

سچا ابراہیمی کون ہے؟

 یہودی اور عیسائی دونوں ہی کا دعویٰ ہے کہ ہم ابراہیمی ہیں۔ آیت: 65 سے 68 تک ان کا رَدّ کیا گیا اور فرمایا: سچّا ابراہیمی وہی ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السَّلام  کی پیروی کرتا ہے اور اُن کی پیروی غُلامانِ مصطفےٰ ہی کرتے ہیں۔

اَہْلِ کتاب کی سازشوں کا پردہ چاک

اَہْلِ کتاب (یعنی یہودی اور عیسائی) مسلمانوں کو سچّے دِین سے بہکانے کے لئے مختلف سازشیں رچاتے رہتے تھے، لہٰذا آیت: 69 سے لے کر 74 تک ان کی کچھ سازشوں کا پردہ چاک کیا گیا اور ہمیں نصیحت کی گئی کہ ان کی چالبازیوں سے ہمیشہ چوکنا رہیں، دِین پر ثابت قدم رہیں، ان کے ورغلاوے میں ہر گز نہ آئیں۔

میثاقِ نبوت کا بیان

آلِ عمران کی آیت: 81 جس سے تیسرے پارے کے آخری رکوع کا آغاز ہوتا ہے، بہت اَہَم اور اِیْمان افروز آیت ہے، اس میں پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ