Dars e Taraveeh - 03 Ramazan - Para 03

Book Name:Dars e Taraveeh - 03 Ramazan - Para 03

کے اَہَم اُصُول: اس حصے میں غزوۂ اُحُد اور اس کے نتائج پر  تفصیلی بیان ہے۔

چند ابتدائی نصیحتیں

سُورۂ آلِ عمران کی  ابتدا میں چند اَہَم نصیحتیں ذِکْر ہوئی ہیں:

*قرآنِ کریم کی آیات 2 قسم کی ہیں: (1):مُحکم: یعنی وہ آیات جن کا معنیٰ و مفہوم بالکل واضح ہے (1):مُتَشابِہ: وہ آیات جن کی مُراد عام انسانوں پر واضِح نہیں ہے، ان کی مراد اللہ و رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ ہمیں نصیحت کی گئی کہ آیاتِ محکمات پر ہی اپنے اعمال کی بنیاد رکھی جائے، متشابہات پر اِیْمان ضرور رکھنا ہے، البتہ ان کی غلط سلط تاوِیلیں کرنا ٹیڑھے دِل والوں کا کام ہے۔  ([1])  

*مال و دولت، سونا چاندی وغیرہ چیزیں دُنیا کی زندگی میں اہمیت ضرور رکھتی ہیں، البتہ! اللہ پاک نے جو ثواب اور انعامات تیار کئے ہیں، وہ ان چیزوں سے بہت بہتر ہیں۔

*اللہ پاک کے ہاں مقبول دِین صِرْف و صِرْف اسلام ہے، لہٰذا اسی پر کاربند رہنا ضروری ہے۔

*بادشاہت، عزّت، ذِلّت سب اللہ پاک کے اِختیار میں ہے، وہی ہے جو زندہ سے مردہ، مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے، لہٰذا اس کا پسندیدہ بندہ بننا چاہئے۔

*کفر اور اِسْلام کی مثال آگ اور پانی جیسی ہے، دونوں ایک دوسرے کا الٹ ہیں، لہٰذا مسلمانوں کے لئے جائِز نہیں کہ غیر مسلموں سے دوستیاں لگائیں۔

*ہر مسلمان پر رسولِ ذیشان  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  کی کامِل پیروی لازِم ہے، جو آپ کا سچا پیروکار ہو جائے، اللہ پاک کا محبوب ہو جاتا ہے۔


 

 



[1]...تفسیر صراط الجنان،پارہ:3،آل ِعمران،تحت الآیۃ:7جلد:1،صفحہ:438۔