Dars e Taraveeh - 03 Ramazan - Para 03

Book Name:Dars e Taraveeh - 03 Ramazan - Para 03

خیرات کے  تقریباً 5 آداب بیان ہوئے:

(1):صدقہ کے بعد نہ تَو اِحْسان جتایا جائے، نہ تکلیف دی جائے (2):صدقہ و خیرات صِرْف و صِرْف اللہ پاک کی رضا کے لئے ہو، اس میں دِکھلاوا اور رِیاکاری نہ ہو کہ ریاکاری والے اعمال کا ثواب نہیں ملتا  ([1]) (3):راہِ خُدا میں پاک مال اور پاک کمائی دی جائے، ناقِص مال (مثلاً پھٹا ہوا نوٹ، پُرانے کپڑے وغیرہ) راہِ خُدا میں دینا بہت خستہ بات ہے (4):صدقہ ظاہِر کر کے بھی دیا جا سکتا ہے اور چھپا کر بھی، البتہ! چھپا کر دینا زیادہ بہتر ہے،([2])  حضرت مولا علی رَضِیَ اللہ عنہ کے پاس صِرْف  4 دِرْہم تھے اور کچھ نہ تھا، آپ نے وہ 4 کے 4 دِرْہم راہِ خُدا میں صدقہ کر دئیے اور صدقہ کرنے کا انداز کتنا نِرالا تھا، آپ نے ایک دِرْہم دِن کے وقت صدقہ کیا، ایک دِرْہم رات کے وقت صدقہ کیا، ایک دِرْہم اعلانیہ طَور پر صدقہ کیا اور ایک دِرْہم چھپا کر صدقہ کر دیا۔  اس پر آپ کی شان میں تیسرے پارے کی 274 نمبر آیت نازِل ہوئی ([3]) (5):آیت: 273 میں ارشاد ہوا: وہ سفید پوش جو حیا کے سبب کسی سے کچھ مانگتے نہیں ہیں، اپنی غربت ظاہِر نہیں ہونے دیتے، دِین کی خِدْمت میں ایسے مصروف ہوتے ہیں کہ کمانے کی فرصَت نہیں پاتے، چاہئے کہ انہیں صدقہ و خیرات دیا جائے۔

(5):سُود کی حرمت

صدقہ  کے بیان کے فورًا بعد ہی سُود کی حُرْمت اور اس کے نقصانات کا بیان ہوا اور اللہ پاک نے سُودِی لین دین کرنے والوں سے اِعْلان جنگ فرمایا۔


 

 



[1]...احیاء علوم الدین،کتاب  ذم الجاہ والریاء،جلد:3،صفحہ:338-339ماخوذاً۔

[2]...مسند امام احمد،مسند انصار،جلد:9،صفحہ:205،حدیث:22926۔

[3]...تفسیر خازن ،پارہ:3 ، بقرہ ،تحت الآیۃ:274 ،جلد:1 ،صفحہ:208۔