Book Name:Dars e Taraveeh - 03 Ramazan - Para 03
صدقہ اور سُود 2 مُتضاد نظام ہیں *صدقہ میں احسان، پاکیزگی اور تعاوُن کا جذبہ ہوتا ہے *جبکہ سُود میں کنجوسی، حرص اور خود غرضی پوشیدہ ہوتی ہے۔ *صدقہ سے آپس میں محبّت بڑھتی ہے، سُود نفرت کا سبب ہے ۔ اسی لئے اسلام صدقہ کا حکم دیتا اور سُود سے منع فرماتا ہے۔
(6):قرض کے چند مسائِل
آیت: 280 تا 283 قرض کے متعلق چند آداب کا ذِکْر ہوا: (1):مقروض اگر تنگ دَسْت ہو تو اسے دبانا، لڑائی جھگڑے کرنے کی بجائے اسے مہلت دی جائے اور اگر تنگ دست مقروض کا قرض معاف ہی کر دیا جائے تو یہ بہترین صدقہ ہے (1):آیت: 282 قرآنِ کریم کی سب سے لمبی آیت ہے، اسے آیتِ مُدَایَنَہ بھی کہتے ہیں۔ اس میں بنیادی طَور پر یہ دَرْس دیا گیا کہ جب بھی قرض وغیرہ کا معاملہ ہو تو اس کی تحریری دستاویز ضرور تیار کی جائے اور اس پر گواہ بھی مقرَّر کر لئے جائیں، اس طرح لڑائی جھگڑے نہیں ہوں گے ۔
(7):بارگاہِ اِلٰہی میں پیشی کا خوف
آیت: 284 میں بارگاہِ اِلٰہی میں پیش ہونے اور آخرت کے حساب کتاب کو ہمیشہ مدِّ نظر رکھتے ہوئے زندگی گزارنے کا درس دیا گیا۔
آخر میں سُورۂ بقرہ کے اِختتام پر بہت پیاری دُعا سکھائی گئی:
رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَاۚ-
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اے ہمارے رب! اگر ہم بھولیں یا خطا کریں تو ہماری گرفت نہ فرما، اے