Book Name:Muasharti Zindagi Ke Aadab
نہیں پہنچ پائے ہیں۔
ایک مثال سے بات کو سمجھیے! سُورج کے سامنے اگر چمکدار، خُوب صاف سُتھرا آئینہ رکھ دیا جائے تو اُس کی روشنی چاروں طرف پھیلنا شروع ہو جائے گی۔ اگر اسی سُورج کے سامنے اندھا شیشہ (یعنی ایسا آئینہ جو زنگ سے اَٹا ہوا ہو) رکھ دیا جائے تو نہ وہ خُود روشن ہو گا، نہ اِس سے روشنی اِردگرد پھیلے گی۔
یہی مثال روزہ دار کی بھی ہے کہ ہمارے دِل کا آئینہ جس پر گُنَاہوں کی سیاہی چڑھ جاتی ہے، روزے کا اَصْل مقصد اُس سیاہی کو اُتارنا اور دِل کو چمکانا ہے۔
یعنی روزہ رکھنے کے بعد ہمارے کردار میں، گفتار میں، عادات و اَطوار میں اس کی روشنی پھیل رہی ہے، ہماری اجتماعی زندگی پر اُس کا اَثَر پڑ رہا ہے، یہ نشانی ہے کہ ہم روزے کی رُوح تک پہنچ رہے ہیں، اگر ایسا نہیں ہے تو مطلب ہے کہ ہمارے روزہ رکھنے میں کمی ہے۔
غرض؛ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ روزہ تَو رکھ لیا، اب اس کے ذریعے سے ہماری اجتماعی زندگی میں نکھار بھی آنا چاہیے۔ آئیے! نیّت کرتے ہیں کہ ہم آج سے اپنی اجتماعی زندگی میں، معاشرتی زندگی میں نکھار لانے کی بھرپُور کوشش کریں گے۔اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم!
سورۂ حُجُرات میں اِجتماعی زندگی کے آداب
سورۂ حُجُرات 26 وَیں سپارے کی ایک مُخْتصَر سُورت ہے، صِرْف 2 رکوع اور 18آیات کی اِس مُخْتصَر سُورت میں بہت ساری تعلیمات دی گئی ہیں، بِالخصوص مسلمانوں کو مُعَاشرتی زندگی کےآداب سکھائے گئے ہیں یعنی ہم نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ کیسا رویّہ رکھنا ہے، ہمارے والدین ہوں یا بہن بھائی، پڑوسی ہوں یا اَہْلِ محلہ، کوئی دُور کا