Share this link via
Personality Websites!
کوئی عیب ضرور ہو گا اور ممکن ہے کہ وہ عیب ایسا ہو جس کے ظاہر ہونے سے وہ معاشرے میں ذلیل و خوار ہو جائے۔ لہٰذا عیب تلاش کرنے والوں کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ ان کی اس حرکت کی بنا پر کہیں اللہ پاک ان کے وہ پوشیدہ عیوب ظاہر نہ فرما دے جس سے وہ ذلت و رسوائی سے دوچارہو جائیں ۔
پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہیے کہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے دوسروں کے عیبوں پر پردے ہی ڈالا کریں۔ بُخاری شریف کی حدیثِ پاک ہے، رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان کے عیب پر پردہ رکھا، اللہ پاک قیامت کے دن اس کے عیبوں پر پردہ رکھے گا۔([1])
حضرت عبدُ اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ عنہما فرماتے ہیں :جب تم اپنے ساتھی کے عیب ذکر کرنے کا ارادہ کرو تو (اس وقت) اپنے عیبوں کو یاد کرو۔([2])
اللہ پاک ہمیں دوسروں کے عیب تلاش کرنے سے بچنے،اپنے عیبوں کو تلاش کرنے اور ان کی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم۔
(6):غیبت مت کیجیے...!
اجتماعی زندگی کے آداب میں سے چھٹا اَدب یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان بھائی کی غیبت نہ کی جائے۔ اللہ پاک فرماتا ہے:
وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ- (پارہ:26،سورۂ حجرات:12)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور ایک دوسرے کی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami