Muasharti Zindagi Ke Aadab

Book Name:Muasharti Zindagi Ke Aadab

بھی بِلا اِجازتِ شَرْعِی پوچھنا عیب ڈھونڈنا ہے اور اس سوال کے جواب میں پورا خطرہ ہے کہ جس سے پوچھا گیا وہ نوکر کے بارے میں کام چور ہے، وغیرہ اَلفاظ کہہ کر گنہگار ہو جائے *اسی طرح بِلا اِجازتِ شَرْعِی کسی کا کوئی عیب مَعْلُوم کرنے کے لیے اس کاپیچھا کرنا، اس کے گھر میں جھانکنا وغیرہ بھی تَجَسُّس میں داخِل ہے ۔

تجسس کے متعلق 2 احکام

( 1 ): مسلمان کی عیب جُوئی ( یعنی اس کے عیب تلاش کرنا ) حرام ہے۔([1]) ( 2 ): نوکر رکھنے یا کہیں شادی کا اِرادہ ہے تو حَسْبِ ضرورت مَعْلُومات کرنا گُنَاہ نہیں ۔([2])

مسلمانوں کے عیب ڈھونڈنے کی مذَمَّت

حدیثِ پاک میں ہے: رسولِ خُدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اے وہ لوگو!  جو زبان سے تو ایمان لے آئے ہو مگر تمہارے دِل میں ابھی تک ایمان داخِل نہیں ہوا! مسلمانوں کی غیبت مت کرو اور نہ ان کے عُیُوب کو تلاش کرو کیونکہ جو اپنے مسلمان بھائی کا عیب تلاش کرے گا، اللہ پاک اُس کا عیب ظاہِر فرما دے گا اور اللہ پاک جس کا عیب ظاہِر فرما دے تو اُسے رُسوا کر دیتا ہے اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ( چُھپ کر بیٹھا ہوا ) ہو۔ ([3])

اے عاشقانِ رسول! اس سے مَعْلُوم ہو اکہ مسلمانوں کی غیبت کرنا اور ان کے عیب ڈھونڈنا منافقوں کا کام ہے، یہ بھی مَعْلُوم ہوا کہ دوسروں کے عیب ڈھونڈنے کا انجام ذِلّت و رُسوائی ہے کہ جو شخص دوسروں کے عیب ڈھونڈتا ہے، یقیناً اس میں بھی کوئی نہ


 

 



[1]...فتاوٰی رضویہ، جلد:14، صفحہ:271 بتغیر قلیل۔

[2]...گناہوں کے عذابات، حصہ:1، صفحہ:32۔

[3]...ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی الغیبۃ، صفحہ:765، حدیث:4880۔