Book Name:Muasharti Zindagi Ke Aadab
حدیث ِ پاک میں ہے کہ 2عورتوں نے روزہ رکھا دن کے اختتام پر انہیں بُھوک اور پیاس نے خوب تنگ کیا، قریب تھا کہ وہ ہلاک ہوجاتیں ، انہوں نے کسی کوبارگاہِ رسالت میں بھیج کر روزہ اِفطار کی اجازت طلب کی تو غیب دان نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے اُن کی طرف ایک پیالہ بھیجا اور فرمایا: اُن دونوں سے کہو کہ تم نے جو کھایا ہے، اس کی پیالے میں قے (یعنی اُلٹی) کرو! ایک نے تازہ خون اورگوشت کی اُلٹی کی اور اسی کی طرح دوسری نے بھی اُلٹی کی یہاں تک کہ دونوں نے پیالہ بھر دیا۔ لوگوں کو اِس پر تعجب ہوا تو آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:
اِنَّ هَاتَيْنِ صَامَتَا عَمَّا اَحَلَّ اللَّهُ لَهُمَا، وَاَفْطَرَتَا عَلَى مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا
ان دونوں نے اللہ پاک کی حلال کردہ چیز سےروزہ رکھا اور اُس کی حرام کردہ چیز(یعنی غیبت) سے اِفطار کیا، یُوں کہ دونوں میں سے ایک دوسری کے پاس بیٹھی اور دونوں لوگوں کی غیبت کرنے لگیں تو یہ لوگوں کا گوشت ہے جو اِِنہوں نے (غیبت کی صورت میں ) کھایا۔([1])
ایک حدیثِ پاک میں اِرْشاد ہوا:
اَلصِّيَامُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهٗ
ترجمہ: روزہ ڈھال ہے جب تک اِسے(یعنی ڈھال کو) پھاڑا نہ ہو۔
[1]...مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث عبید مولیٰ النبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم، جلد:9، صفحہ:597، حدیث:24295۔