Book Name:Ramazan Ki Amad Marhaba
کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے سامنے بھی اس مُبارَک مہینے کی شان و عظمت، فضائل و بَرکات کوبیان فرماکر اِس کی اَہَمِّیَّت کو واضح فرماتے اور اُنہیں بھی مختلف نیک اَعمال کرنے کا ذہن عطا فرماتے تھے،لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم بھی مسلمانوں کو اس ماہِ مبارَک کی مبارَک باد پیش کریں،خود بھی اس مقدَّس مہینے میں عبادات کریں اور دوسروں کو بھی اس مہینے کی اَہَمِّیَّت،اس کے فضائل اور اس کی برکتوں سے آگاہ کرکے انہیں بھی نیکیاں جمع کرنے کا ذہن دیتے رہیں۔اللہ کریم ہمیں رَمَضان المبارَک کی حقیقی برکتیں نصیب فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
آمدِ رَمَضان پر اِہتمام کا اَنداز
رَمَضانُ الْمبارَک کی آمد آمدتھی اور تاریخ لکھنے والےمشہور بزرگ حضرت وَاقِدِیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے پاس کچھ نہ تھا۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے اپنے ایک عَلَوِی([1])دوست کی طرف یہ خط(Letter) بھیجا: رَمَضان شریف کا مہینا آنے والا ہےاور میرے پاس خَرچ کرنے کیلئے کچھ بھی نہیں،مجھے بغیرسُود قَرْض کے طور پر ایک ہزار(1000)درہم(چاندی کے سکے) بھیج دیجئے۔چنانچہ اُس عَلَوی نے ایک ہزار (1000)درہم کی تھیلی بھیج دی۔تھوڑی دیر کے بعد حضرت واقِدِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکے ایک دوست کا خط(Letter)حضرت وَاقِدِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکی طرف آیا:(جس میں لکھا ہوا تھا کہ) رَمَضان شریف کے مہینے میں خَرْچ کیلئے مجھے ایک ہزار(1000)درہم کی ضرورت ہے۔حضرت واقِدِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے وُہی تھیلی وہاں بھیج دی۔دوسرے روز وہی عَلَوِی دوست جن سے حضرت واقِدِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے قَرْض(Loan)لیا تھااور وہ دوسرے دوست جنہوں نےحضرت واقِدِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے قَرْض لیا تھا۔ دونوں حضرت وَاقِدِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے گھر آئے۔عَلَوِی کہنے لگے:رَمَضانُ الْمبارَک کا مہینا آرہا ہے اور میرے پاس اِن ہزار(1000) درہم کے
[1]…امیرُالمؤمنینحضرت علیرَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی وہ اولاد جو حضرت سیدہ فاطمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہاکےشکمِ مبارک سے نہ ہو۔