Book Name:Ramazan Ki Amad Marhaba
نبی کو نہ ملیں:(1) جب رَمَضانُ الْمبارَک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اللہ پاک اُن کی طرف رَحمت کی نَظَر فرماتا ہے اور جس کی طرفاللہ پاک رَحمت کی نظر فرمائے اُسے کبھی بھی عذاب نہ دے گا۔(2)شام کےوَقت اُن کے مُنہ کی بُو(جوبُھوک کی وجہ سے ہوتی ہے)اللہ پاک کے نزدیک مُشْک کی خوشبو سےبھی زیادہ بہترہے۔(3)فِرِشتے ہر رات اور دن اُن کے لئے مَغْفِرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔(4)اللہ پاک جنّت کو حکم فرماتاہے:میرے(نیک)بندوں کیلئے آراستہ ہوجا،عَنْقَریب وہ دنیا کے دکھوں سے میرے گھر اور کرم میں سُکون پائیں گے۔(5)جب رَمَضان الْمبارَک کی آخِری رات آتی ہے تو اللہ پاک سب کی مَغْفِرت فرمادیتا ہے۔قَوم میں سے ایک شَخص نے کھڑے ہو کر عَرْض کی،یارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ!کیا یہ”شبِ قدر“ہے؟اِرْشادفرمایا:نہیں۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ مَزدور جب اپنے کاموں سے فارِغ ہوجاتےہیں تواُ نہیں مزدوری دی جاتی ہے۔(الترغیب والترہیب، الترغیب فی صیام رمضان۔۔الخ، ۲/۵۶، حدیث:۷)
اے عاشقانِ رَمَضان!آپ نے سُنا کہ رَمَضان المبارَک کی شان و عظمت کس قدر بُلند وبالا ہے! اس مُقَدَّس مہینےمیں اللہ کریم کی رَحمت اس کے بندوں پر مہربان ہوتی ہے،ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مسلمان رَجَب شریف کے مبارَک مہینے سے ہی اِس کی تَیّاری شروع کردیتے اورعبادت و تلاوت کرکے ربِّ کریم کو راضی کرنے کا سامان کرتے،مگر آہ!مسلمانوں کی بھاری اَکْثَرِیَّت دیگرمہینوں کی طرح اِس مہینے کو بھی غفلتوں میں گزاردیتی ہے۔
اسی طرح بعض لوگ اگرچِہ روزہ تو رکھ لیتے ہیں مگر پِھر اِن بے چاروں کا وَقْت”پاس“نہیں ہوتا۔ لہٰذا وہ بھی رَمَضان شریف کے اِحتِرامِ کو ایک طرف رکھ کر حرام و ناجائز کاموں کا سَہارا لے کر وَقْت ”پاس“کرتے ہیں۔