Ramazan Ki Amad Marhaba

Book Name:Ramazan Ki Amad Marhaba

کےدرمیان اُخْروِی مُعامَلے میں غَور وفِکْر کرتے رہتے اور اکثر اِفطار کے وَقْت  مسکینوں کوبُلواتے تاکہ وہ بھی اُن کے ساتھ کھائیں۔( حلیۃ الاولیاء ،سعد بن ابراہیم  الزہری  ، ۳/۱۹۹،رقم:۳۶۹۵)

سُبْحٰنَ اللہ!قُرآن سے مَحَبَّت،شوقِ تلاوت اور رَمَضان کی قدرکرنا تو کوئی اِن حضرات سے  سیکھے جو بخشش والے مہینے میں کثرت کیساتھ تلاوتِ قرآن کیاکرتے تھے،ہمیں چاہئے کہ  ہم بھی ماہِ رَمَضان میں کثرت سے تلاوتِ قرآن کی نِیَّت کریں اور ربِّ کریم کے اِس مہمان کااِحترام کرتے ہوئے خوشی خوشی اِس کا اِسْتِقْبال کریں۔آئیے!ترغیب کے لئےتلاوتِ قرآن کے چند  فضائل سنتے ہیں:

تلاوتِ قرآن کے فضائل

*تلاوتِ قرآن کرنے والوں کی تعریف قرآنِ کریم میں بیان ہوئی ہے۔۱،البقرۃ،آیت: ۱۲۱) *قرآنِ پاک سے مَحَبَّت کرنا(یعنی اس کی تلاوت اور اس پر عمل کرنا)اللہ پاک اور رسولِ پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ سے مَحَبَّت کا ذریعہ ہے۔(معجم کبیر،۹/۱۳۲،حدیث:۸۶۵۷ماخوذاً)*قرآنِ پاک کا ایک حرف پڑھنے پر 10نیکیوں کا ثواب ملتا ہے۔*جس گھر میں قرآن پڑھا جاتا ہے وہ اپنے رہنے والوں پر کُشادہ ہوتا ہے۔ * اس کی بھلائی زیادہ ہوتی ہے۔*اس گھرمیں فِرشتے حاضر ہوتے ہیں اور شَیاطین نکل جاتے ہیں۔ (احیاء العلوم،۱/۸۲۶) *قرآنِ کریم قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے گناہوں کی معافی کی سفارِش کرنے کے لئے آئے گا۔(مسلم،کتاب فضائل القرآن،ص۴۰۳،حدیث: ۸۰۴)*تلاوتِ قرآن کرنے والوں کو اللہ پاک شکر کرنے والوں کے ثواب سے افضل(ثواب)عطا فرمائے گا۔‘‘(کنز العمال، ۱/۲۷۳، حدیث:  ۲۴۳۷ماخوذاً)*اَہلِ قرآن( یعنی اس کی تلاوت کرنے والےاور اس کے احکامات پر عمل کرنے والے)اللہ والے اور اس کے خاص لوگ ہیں۔(ابن ماجہ،۱/۱۴۰،حدیث:۲۱۵۔اتحاف السادۃ، ۵/۱۳)*تلاوتِ قرآن اس اُمَّت کی افضل عبادت ہے۔(شعب الایمان،۲/۳۵۴،حدیث: ۲۰۲۲)*جو نماز میں کھڑے ہو کر قرآن کی تلاوت کرے اس کے لئے ہر حرف کے بدلے سو(100)نیکیاں ہیں۔ *جو بیٹھ کر تلاوت کرے اس