Book Name:Ramazan Ki Amad Marhaba
اے عاشقانِ رَمَضان!رَمَضانُ الْمبارَک کے مُقدّس لَمحات کو فُضُولیات میں برباد ہونے سے بچایئے!زندگی بے حد مُخْتَصَرہے،اِس کو غنیمت جانئے،موبائل و سوشل میڈیا(Social Media) کے غلط اِستعمال(Missuse)،مختلف کھیلوں اور گانے سننے کے ذرِیعے وَقْت”پاس“(بلکہ برباد)کرنے کے بجائے تلاوتِ قُرآن اور ذِکْر و دُرُود میں وَقْت گُزارنے کی کوشِش فرمائیے۔ بُھوک و پیاس کی شِدّت جس قَدر زیادہ مَحسوس ہوگی، صَبْر کرنے پر اِنْ شَآءَ اللہ ثواب بھی اُتنا ہی زیادہ ملے گا۔جیسا کہ منقول ہے:اَفْضَلُ الْعِبَادَاتِ اَحْمَزُھَا افضل عبادت وہ ہے جس میں تکلیف زِیادہ ہو۔( تفسیر کبیر،پ۲۹، المزمل،تحت الآیۃ:۶،۱۰/۶۸۵)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! رَمَضانُ المبارَک کے مہینےمیں عموماً کثیر عاشقانِ رَمَضان انتہائی ذَوق وشَوق کے ساتھ کثرت سےتلاوت کرتے نظر آتے ہیں مگر آہ!کئی بدنصیب لوگ اس مقدَّس مہینے میں بھی اِس عظیم سعادت سے محروم رہتے ہیں،ہمیںاِس مُعامَلے میں اپنے بزرگوں کی پیروی کرتے ہوئے اُن کے نَقْشِ قدم پر چلنا چاہیے۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ ہمارے بزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْناِس مُقَدَّس مہینے میں ایک بارنہیں بلکہ کئی مرتبہ ختمِ قرآن کی سعادت حاصِل کیا کرتے تھے،چنانچہ
سعد بن ابراہیم رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کے معمولات
حضرت سعد بن ابراہیم رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ رَمَضانُ المبارَک میں اِکیسویں،تیئسویں،پچیسویں، ستائیسویں اور اُنْتِیْسْوِیں کو اُس وَقْت تک اِفطار نہ فرماتے تھے جب تک کہ قرآنِ کریم ختم نہ کرلیتے، مغرب و عشاء